بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قبائلی علاقہ جات
آئین پاکستان کی راہ دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔ فاٹا میں عدالتوں کو مظلوم شہریوں کو انصاف کی فراہمی کا اختیار حاصل نہیں ہے۔یہاں پرپاکستانی قانون کا اطلاق نہ ہونے کی وجہ سے یہ علاقے دہشتگردی اور جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ بن چکے ہیں
شیخ عبدالرحمن:
دنیا کے تمام ممالک نے اپنا آئین وقانوں تشکیل دیاہے جو مملکت کے طول وعرض پر بلا تقریق وہ امتیاز نا فذ کیا جا تا ہے۔پاکستان بھی اپنا آئین رکھتا ہے جو ملک بھر میں نافذ العمل ہے لیکن فاٹا کے علاقے آئینی طور پر کستان کا اہم ترین حصہ ہونے کے باوجود آئین پاکستان کی عملداری سے باہر ہیں۔ فاٹا میں عدالتوں کو مظلوم شہریوں کو انصاف کی فراہمی کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
یہاں پرکستان قانون کا اطلاق نہ ہونے کی وجہ سے یہ علاقے دہشت گردی اور جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ بن چکے ہیں ۔ملک میں امن وامان کے قیام اور خوشحالی کیلئے حکومت کو فاٹا میں آئین کی عملداری کو یقینی بنا کر ا س کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔
فاٹا پاکستان اور افغانستان کا سر حدی علاقہ ہے۔آئین پاکستان کے آرٹیکل ون کے تحت قبائلی علاقے ریاست پاکستان کے زیر انتظام ہیں جبکہ دوسری طرف آئین کا آرٹیکل247ان علاقوں میں پارلیمان کو قانون کے نفاد اپنے اختیار استعمال کرنے اور عدلیہ کا انصاف کی فراہمی کیلئے اپناکردارادا کرنے سے روکتا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ فاٹا کو سینٹ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں موثر نمائندگی دی جاتی ہے اور یہاں سے عوامی نمائیدے منتخب ہوکر اسمبلیوں میں پہنچ کر پاکستان کیلئے ہونے والی قانون سازی کے عمل میں حصہ بھی لیتے ہیں لیکن اسی پارلیمان کے منظور کردہ قوانین فاٹا پر لاگو نہیں ہوتے۔
برطانیہ نے برصغیر میں اپنی حکومت کے دوران 1901ء میں برٹش انڈیا اورافغانستان کے درمیان سرحدی علاقے میں فرنٹیئر کرائمنر ریگولیشن کے نام سے ایک کالا قانون رائج کیا جس کا مقصد برطانومی استعمار کے مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔
پاکستان کو آزادی حاصل کئے ہوئے 68سالوں کو عرصہ گزرنے کے باوجود حکومت یہاں سے انگریز کا بنایا ہوا کالا قانون ختم نہیں کرسکی جس نے یہاں بسنے والے پاکستانیوں کو بنیادی حقوق سے محروم کر رکھاہے۔اس قانون کے خلاف سابق چیف جسٹس آف پاکستان آنجہانی جسٹس اے آر کارنیلیس نے اپنے ایک فیصلے میں قراردیاتھاکہ ایف سی آر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
یہ ناقابل برادشت قانون ہے۔دنیا کے کسی بھی خطے میں ایسا نہیں ہوتا نہ کسی ملک کے اپنے ہی کسی حصے پراس کا قانون نافذ نہ ہوتا ہے۔
1973ء میں قبائلی علاقوں کا دوآرٹیکلز‘246اور247میں ڈکر کیا گیا ہے اور یہ علاقے آرٹیکل 247کے سب آرٹیکل کے تحت صدر مملکت کے زیراختیار آتے ہیں جبکہ سیکشن 7کی وجہ سے یہ علاقے اعلیٰ عدلیہ اور قومی وصوبائی اسمبلی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے ۔
عوام قبائلی عدالتوں کے فیصلوں کیخلاف ایف سی آرٹیکل اورپھر بعدازاں ایف سی آرکمشز کی عدالت میں اپیل کرتے ہیں۔یہاں سنٹرل جیل نہ ہونے کی وجہ سے قید یوں کو دور دراز علاقہ سرکار میں موجود جیلوں میں رکھا جاتا ہے۔قبائلی علاقوں کا چیف ایگز یکٹو پو لیٹیکل ایجنٹ ہوتا ہے جو بیک وقت ان علاقوں کا انتظامی سربراہ اور منصف ہوتا ہے۔ پولیٹیکل ایجنٹ کسی بھی قبائلی کو بغیر جرم یا معمولی نوعیت کے جرم میں گرفتار کے جیل میں ڈال سکتا ہے اور کوئی بھی اس کے خلاف اپیل کا حق نہیں رکھتا۔
اس قانون کو عوام کے خلا ف بطور ہتھیار بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ان علاقوں کے بڑے سردار اپنے مخالفین کود بانے کے لئے پولیٹیکل ایجنٹ پراثر انداز ہوتے ہیں۔اور وہ اس قانون کو استعمال کر کے اپنے مخالفین کو دباتے ہیں۔اس طرح یہاں پر تعلیم صحت علاج ومعالجہ اور روز گار کی عدم فراہمی جیسے سنگین نوعیت کے مسائل سے لوگوں کا جینا دشوار ہو چکا ہے۔
ہسپتالوں میں شہریوں کو علاج ومعالجہ اور روز گار کی عدم فراہمی جیسے سنگین نوعیت کے مسائل سے لوگوں کا جینا دشوار ہو چکا ہے۔ہسپتالوں میں شہریوں کو علاج معالجے کی مناسب سہولیات دستیاب نہیں ہیں ۔اگر تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو یہاں پر لڑکوں میں تعلیم کی شرح 17فیصد جبکہ لڑکیوں میں صرف 3فیصد ہے جس کے باعث جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے ان پڑھ لوگ جرائم پیشہ افراداور دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔
یہاں پر نصف سے زائد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے اور مجموعی آبادی کا دوتہائی حصہ خط افلاس ناجائز اسلحہ اور چوری شدہ گاڑیوں کی خریدو فروخت کا دھندہ عروج پر ہے۔فاٹا پورے ملک اشتہاری ملزمان کی بڑی پناہ گاہ بن چکا ہے ملک کے دوسرے حصوں سے لوگوں کو اغواکر کے یہاں لے جایا جاتا ہے تاکہ بھاری تاوان وصول کیاجاسکے۔
امریکہ کی افغانستان پر لشکر کشی کے بعد یہ علاقہ دنیا بھر کے شدت پسندوں اور دہشت گردوں کی محفوظ آماجگا ہ بن گیا اور ان دہشت گردوں نے ملک دشمن افراد نے پاکستان کے امن استحکام اور خوشحالی کو برباد کر کے رکھ دیا۔
دہشت گردی کی کارروائیوں میں 60ہزار شہری اور فوجی جوان شہید ہوگئے جبکہ قومی معیشت کو 100ارب ڈالرز سے زائد نقصان ہوا۔ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اس لئے حکومت کے پاس یہ بہترین موقع ہے کہ وہ فاٹا میں اپنی رٹ بحال کرے اور آئین وقانون کانفاذ کرتے ہوئے انگزیز کے بنائے ہوئے کالے قانون کو ختم کردے۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت اس علاقے کی پسماندگی اور احساس محرومی ختم کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر ترقیاتی منصوبے شروع کرے لوگوں کو تعلیم صحت انصاف صاف پانی اور اچھا روز گار فراہم کیا جائے۔
ان علاقوں میں علم کی روشنی پھیلے گی اور ترقیاتی منصوبوں سے یہاں پر خوشحالی ہوگی تو لوگ منفی سر گرمیوں کو چھوڑ کر پاکستان کی تعمیر وترقی میں بالکل ویسے ہی مثبت کردار ادا کریں گے جس ملک کے دیگر صوبوں کے عوام کررہے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-11

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان