تازہ ترین : 1
Punjab Ki BarAmaadi Sanat Ko Gass Ki Farahmi Main Kami

پنجاب کی برآمدی صنعت کو گیس کی فراہمی میں کمی

گذشتہ ماہ میں برآمدات میں 7.55 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ جبکہ ٹیکسٹائل برآمدات میں 5.91فیصد کمی ہوئی ،جس کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں

احمد جمال نظامی:
آبادی کے لحاظ سے وطن عزیز کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔ جہاں مختلف مقامات پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے وہیں وفاقی وزیرعابد شیرعلی جن لوگوں کے کاندھوں پر چڑھ کر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے انہی لوگوں کو بجلی چوری کا طعنہ بھی دے رہے ہیں۔ اس وقت عوام میں اس بات پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ ماضی میں بھاری بھرکم سرکاری فنڈز استعمال کرکے مینارپاکستان کے کیمپ آفس میں وزیراعلیٰ پنجاب پیپلزپارٹی کی مرکزی حکومت کے خلاف شدید احتجاج کرتے رہے لیکن اب لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج تو کیا کوئی بیان بھی جاری نہیں کیا جاتا۔
لوڈشیڈنگ بجلی کی ہو یا گیس کی اس سے عوام، صنعتی تجارتی اور زرعی حلقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے غیرموثر اقدامات کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہو یا پھر صوبائی حکومتیں کراچی میں سینکڑوں ہلاکتوں پر ہونے ولے ماتم کی طرح پنجاب اور دیگر صوبوں میں بھی حکومت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ہر طرف سے یہی آواز سامنے آ رہی ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت میں کچھ ہو جائے یا کسی اور سیاسی جماعت کے دوراقتدار کے دوران کچھ ہو تو مسلم لیگ(ن) اور اس کے قائدین خوب واویلا کرتے ہیں لیکن جب ان کے نام پر کوئی بات آجائے یعنی ان کی غفلت اور عدم توجہی کی وجہ سے معاملات بگاڑ کا شکار ہوئے ہوں تو یہ اپنی ذات پر تنقید کا ایک حرف نہیں آنے دیتے۔

حکومت کے بلندبانگ دعوے اپنی جگہ مگر لوڈ شیڈنگ کے ہاتھوں عام آدمی کیا صنعتی و تجارتی طبقہ سب پریشان ہیں۔ اب تو پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے بھی اپنے ایک بیان میں حکومت کے دعووٴں کی قلعی کھول دی ہے۔ پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سہیل پاشا اور وائس چیئرمین رضوان ریاض سہگل کے مطابق گذشتہ ماہ میں برآمدات میں 7.55 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
جبکہ ٹیکسٹائل برآمدات میں 5.91فیصد کمی ہوئی ،جس کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ملک میں جاری صنعتی بحران کے فوری حل میں تاخیر، برآمدات میں مزید کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ توانائی کی قلت، سرمائے کی عدم دستیابی اور انتہائی بلند پیداواری لاگت جیسے بنیادی چیلنج کے حل کے بغیر برآمدی ترقی کی شرح میں اضافہ ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صنعتی بحران کے فوری حل کے بغیر ٹیکسٹائل برآمدات کو اگلے پانچ سال میں دوگنا کرنا ممکن نہیں۔
برآمدات میں مسلسل کمی انتہائی تشویشناک ہے۔ جبکہ اس کے سدباب کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ برآمدی اعدادوشمار کے حوالے سے گذشتہ ماہ مجموعی ملکی برآمدات کا حجم 1.95ارب ڈالر رہا جو کہ گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں 7.55فیصد کم ہے۔ اسی طرح گذشتہ ماہ 1.12ارب ڈالر کے ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کی گئیں جو کہ گذشتہ سال کے 1.19ارب ڈالر کے مقابلے میں 5.51فیصد کم رہیں۔
گذشتہ سال کے مقابلے میں اس سال مئی کے مہینے میں ویلیوایڈڈ مصنوعات میں کاٹن کلاتھ کی برآمدات میں 15.70، نٹ ویئر میں 11.32 فیصد، بیڈویئر میں 9.80فیصد اور ٹاولز میں 9.23فیصد کمی ہوئی۔ ملک کے لئے قیمتی زرمبادلہ کمانے والی اہم صنعت کے مسائل سے مسلسل چشم پوشی برآمدات میں مکمل رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔ توانائی کی قلت برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ ہے۔
تاہم یہ بات بھی باعث حیرت ہے کہ گرمی کی شدت میں واضح اضافے کے باوجود پنجاب کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو صرف 33فیصد گیس میسر ہے۔اگر یہی حالات رہے تو آنے والے مہینوں میں برآمدات میں مزید کمی ہو سکتی ہے کیونکہ پنجاب کی ٹیکسٹائل انڈسٹری اس وقت بدترین حالات کا شکار ہے۔ اسی طرح تیزی سے بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے باعث عالمی مارکیٹ میں بھی ہمارے برآمدکنندگان کو اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مسابقتی ممالک میں برآمدی صنعتوں کو ارزاں نرخوں پر بجلی و گیس کی سہولت کے ساتھ مکمل حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کی مصنوعات عالمی منڈیوں میں پذیرائی حاصل کر رہی ہیں۔ اور پاکستان کو ملنے والے برآمدی آرڈرز کا ایک بڑا حصہ ان ممالک کی طرف ٹرانسفر ہو چکا ہے۔ لہٰذا ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ صرف انتظامی مشینری اور وزراء کے ذریعے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کریں اور عوام کی آنکھوں میں دھول نہ جھونکی جائے بلکہ عملی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔

ماہ مقدس رمضان المبارک میں حکومت اپنے تمام دعووٴں کے باوجود بجلی کی لوڈشیڈنگ کی طرح گرانفروشی پر قابو پانے میں مکمل ناکام رہی ہے۔ اس وقت صنعتوں کی بجلی کا ایک تہائی حصہ عام صارفین کو دیا جا رہا ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ حکومتی دعووٴں اور صنعتی حلقوں کے الزامات کے باوجود بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر حکومت کب اور کیسے بجلی کے بحران پر قابو پائے گی۔
وزیرمملکت پانی وبجلی عابد شیرعلی نے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے جتنے بڑے دعوے کئے تھے اسی اسی قدر بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ گھمبیر ہو چکا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے خلاف بھی عوامی غم و غصہ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رمضان المبارک کے دوران پنجاب حکومت کے اقدامات کے باوجود مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور دیگر مسائل نے اسے بری طرح گھیر رکھا ہے اور پنجاب کی انتظامی مشینری اور حکومتی وزراء کو محض پروپیگنڈہ کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
صوبے میں سستے رمضان بازاروں کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل کامیابی نہیں ہو سکی۔ حکومت کی جانب سے سرکاری نرخ نامے دکانوں، سٹالز اور سستے رمضان بازاروں میں آویزاں کروائے جا رہے ہیں۔ دراصل حکومت پنجاب کو مہنگائی کے ذمہ دار ذخیرہ اندوزوں پر قابو پانا ہو گا جسے روکنے میں یہ ناکام ہوئی ہے۔ گذشتہ برسوں میں 2002 ء کے بعد سے ملک میں مجسٹریٹی نظام کو ختم کر دینے کے نتیجے میں حکومتوں کی بے بسی کی وجہ سمجھ آتی ہے۔ مگر ایسی بری ناکامی کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ شاید اس کی بنیادی وجہ پنجاب کی کابینہ میں شامل نااہل اور غفلت شعار وزراء ہیں جن کی کوئی کارکردگی نہیں اور وہ زبانی جمع خرچ کے دعووں پر عمل کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔
وقت اشاعت : 2015-06-30

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں