تازہ ترین : 1
PTI K Jalsa Main Bhagdar Haqaiq Kiya Hain

پی ٹی آئی کے جلسہ میں بھگدڑ۔۔۔حقائق کیا ہیں؟

یہ سانحہ کیوں پیش آیا اس بارے میں حقائق تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد معلوم ہو سکیں گے۔ ابتدائی اور ظاہری طور پر یہ ایک اتفاقی حادثہ کہا جا رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ منتظمین جلسہ یا مقامی انتظامیہ کی غفلت بھی کہیں رہی ہو

راوٴ شمیم اصغر:
پاکستان تحریک انصاف کا جمعہ کے روز قلعہ کہنہ قاسم باغ سٹیڈیم ملتان میں ایک اچھا جلسہ بھگدڑ اور دم گھٹنے کے باعث سات افراد کے جاں بحق ہونے کے سانحہ کی نذر ہو گیا۔ یہ سانحہ کیوں پیش آیا اس بارے میں حقائق تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد معلوم ہو سکیں گے۔ ابتدائی اور ظاہری طور پر یہ ایک اتفاقی حادثہ کہا جا رہا ہے۔
عین ممکن ہے کہ منتظمین جلسہ یا مقامی انتظامیہ کی غفلت بھی کہیں رہی ہو لیکن حقائق کا بغور جائزہ لیا جائے تو صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔ قلعہ کہنہ قاسم باغ سٹیڈیم میں یہ کوئی پہلا جلسہ نہیں۔ محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم سے لیکر اب تک اس سٹیڈیم میں درجنوں جلسے ہوئے ہیں اور ہر جلسے کے موقع پر عوام اور ذرائع ابلاغ یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ کیا یہ گراوٴنڈ بھرا جا سکے گا۔
ماضی میں چند مواقع کے موقع پر ہی یہ سٹیڈیم بھرا جا سکا۔ محترمہ فاطمہ جناح کا اس مقام پر جلسہ عام آج تک اس لحاظ سے تاریخی کہا جاتا ہے کہ جتنے لوگ اس جلسہ میں آئے پھر کبھی دیکھنے میں نہیں آئے۔ اس کے بعد قومی اتحاد کا جلسہ بھی تاریخی رہا۔ سْنی کانفرنس کا انعقاد ہوا تو سٹیڈیم بھر گیا تھا۔ میاں نوازشریف کا ایک انتخابی اور دینی مدارس کے جلسے بھی کامیاب رہے اور سٹیڈیم بھر گیا۔
اس کے علاوہ یہاں پر درجنوں جلسے ہو چکے ہیں۔ کرکٹ میچ بھی ہو چکے ہیں۔ فٹبال میچ اور جھارا مرحوم کا دنگل بھی ہوا لیکن کبھی یہ نوبت نہیں آئی کہ بھگدڑ مچی ہو یا لوگ دم گھٹنے سے جاں بحق ہوئے ہوں۔ اس سٹیڈیم میں نصف درجن سے زائد دروازے ہیں۔ پویلین کے ساتھ ایک بہت بڑا چبوترا بنا ہوا ہے جو ہر جلسہ عام کیلئے سٹیج کا کام دیتا رہا ہے۔ لیکن اس مرتبہ اس چبوترے کو پارٹی رہنماوٴں کے بیٹھنے کیلئے بنایا گیا جبکہ اس چبوترے سے بائیں جانب جنرل انکلوڑر کی جانب کنٹینر رکھ کر سٹیج بنایا گیا۔
اس سٹیج پر چڑھنے کیلئے سیڑھی رکھی گئی تھی لیکن سٹیج پر زیادہ رش کی وجہ سے وہ سیڑھی بھی ہٹا لی گئی۔ اسی لئے شیخ رشید احمد کو سٹیج پر چڑھنے کیلئے فلڈ لائٹس کیلئے لگے ہوئے پول کو استعمال کرنا پڑا۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے الزام عائد کیا ہے کہ جلسہ ختم ہوا تو بجلی بند کر دی گئی تھی اور سٹیڈیم کے تمام دروازے نہیں کھولے گئے تھے جس کی وجہ سے سانحہ رونما ہوا۔
ڈی سی او ملتان کو اس سانحہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ مناسب سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ جلسہ کی جگہ ڈویڑنل سپورٹس گراوٴنڈ سے تبدیل کر کے سٹیڈیم کی گئی۔ الزامات سامنے آنے کے چند گھنٹے بعد ہی ڈی سی او ملتان زاہد سلیم گوندل اور سی پی او چودھری نے پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ تحریک انصاف کے مقامی عہدیداروں نے تحریری طور پر لکھ کر دیا تھا کہ جلسہ گاہ کے اندر پارٹی ہر طرح کے انتظامات کی ذمہ دار ہو گی۔
ڈی سی او ملتان نے کہا تحریک انصاف کے رہنماوٴں نے خود کہا تھا کہ جلسہ میں 30 سے 40 ہزار کا اجتماع متوقع ہے جس کے لئے وہ جلسہ گاہ کے اندر خود انتظامات کریں گے جس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے جلسہ گاہ کے باہر اور ارد گرد کے علاقوں میں پولیس نے سکیورٹی کے فرائض ادا کئے اور اگر انتظامیہ الرٹ نہ ہوتی تو اموات اس سے بھی زیادہ ہو سکتی تھیں۔ ریسکیو کے عملے نے بروقت کارروائی کی اور پانی کا پریشر لگا کر لوگوں کو ہٹایا گیا۔
پھنسے ہوئے لوگوں کی مدد کی۔ انہوں نے کہا وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے حکم پر تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے اور اس سانحہ کا جو بھی ذمہ دار ہو گا اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ ڈی سی او ملتان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس تحریک انصاف کے رہنما اعجاز حسین جنجوعہ کی تحریر موجود ہے جس میں انہوں نے سکیورٹی اور بجلی کی فراہمی کی ذمہ داری قبول کی۔
انہوں نے اس واقعہ کا ذمہ دار اعجاز حسین جنجوعہ کو قرار دیا۔ تاہم یہ بھی کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی یہ بات سامنے آئے گی کہ کون کتنا ذمہ دار ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جلسہ ختم ہونے کے بعد تمام دروازے کھول دئے گئے تھے۔ (مخدوم شاہ محمود حسین قریشی کا الزام تھا کہ دروازے نہیں کھولے گئے تھے) تحریک انصاف کے الزامات میں بجلی کی فراہمی بھی سرفہرست ہے جس کی اصل صورتحال یہ ہے کہ سٹیڈیم میں لگا ہوا بجلی کا میٹر کئی ماہ سے کٹا ہوا تھا اور سٹیڈیم کی انتظامیہ کے ذمہ 3 لاکھ80 ہزار روپے کا بل تھا جس میں سے 3 لاکھ روپے جون میں جمع کروا دئیے گئے تھے جبکہ 80 ہزار روپے بقایا تھا۔
یہ 80 ہزار روپے بھی ادا کر دئیے گئے اور جلسہ عام سے ایک یوم قبل یعنی جمعرات کے روز بجلی بحال کر دی گئی تھی جبکہ تحریک انصاف نے سٹیڈیم میں روشنی کیلئے اپنا انتظام کیا ہوا تھا اور اس مقصد کیلئے جنریٹر منگوائے ہوئے تھے۔ ان جنریٹروں کے ذریعے ہی سٹیڈیم کو بجلی فراہم کی جاتی رہی۔
الزامات اور جوابی الزامات اپنی جگہ، حقائق یہ ہیں کہ جلسہ عام کے دوران شرقی جانب والا گیٹ اس لئے بند کر دیا گیا تھا کہ اس کے اندر رش بہت بڑھ گیا تھا۔
قلعہ کہنہ قاسم باغ سٹیڈیم اندرون شہر سے ملحقہ ہے اور سٹیڈیم کا شرقی جانب والا گیٹ اندرون شہر سے آنے والوں کے لئے قریب ترین تھا۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد شرقی جانب والا گیٹ بند ہونے کے باعث باہر ہی رہ گئی اور جب جلسہ ختم ہوا اور یہ دروازہ کھولا گیا تو باہر رہ جانے والے اندر کا ماحول دیکھنے کیلئے اندر کی جانب لپکے جبکہ اس دروازے کے اندر ہجوم باہر نکل رہا تھا تو اس وقت یہ سانحہ رونما ہوا جس میں سات قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔
شرقی جانب والے گیٹ کے اندر ہی سب سے زیادہ رش تھا جبکہ سٹیج کے دائیں جانب رش اتنا زیادہ نہیں تھا۔ شرقی جانب والے گیٹ کے اندر رش کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جلسہ کے دوران حبس کے باعث کم از کم دو نوجوان بے ہوش ہو گئے۔ ان بے ہوش نوجوانوں کو اٹھا کر سٹیج کی جانب یعنی نسبتاً کھلے علاقے میں لایا گیا جس کی تصاویر بھی اخبارات میں چھپ چکی ہیں۔
اس طرح اس سانحہ کی اصل وجہ یہی ہے کہ شرقی جانب والا دروازہ جہاں یہ سانحہ رونما ہوا اس کے اندر اور باہر دونوں جانب رش تھا جلسہ کے اختتام پر اندر والے نوجوان اس لئے بھی جلدی نکلنے کی کوشش میں تھے کہ ان کے قریبی دروازے سے ہی عمران خان باہر نکل رہے تھے اور وہ پارٹی کے قائدین کو دیکھنا چاہتے تھے جبکہ باہر والے جو پہلے ہی اندر جانے کے لئے بے تاب تھے اور اندر کا ماحول دیکھنا چاہتے تھے انہیں جیسے ہی اندر جانے کا موقع ملا وہ پوری قوت کے ساتھ اندر جانے لگے۔
اس کے بعد چیخ و پکار تھی اور لوگ کچلے جانے لگے۔ سات جاں بحق ہونے والوں کے علاوہ 43 زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر نشتر ہسپتال پہنچایا گیا۔ تحریک انصاف کے قائدین میں سے عمران خان تو فوری طور پر اسلام آباد روانہ ہو گئے۔ مخدوم شاہ محمود ملتان میں ہی تھے۔ جب تک انہیں اس سانحہ کی اطلاع ہوئی اس وقت تک تمام زخمیوں کو نشتر ہسپتال پہنچایا جا چکا تھا۔

ایک صوبائی وزیر چودھری عبدالوحید ارائیں اس واقعہ کی اطلاع ملنے پر فوری طور پر نشتر پہنچے لیکن انہیں دیکھتے ہی تحریک انصاف کے وہاں جمع ہونے والے کارکنوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور انہیں وہاں سے رکشہ میں بیٹھ کر نکلنا پڑا۔ جاں بحق ہونے والے افراد عمران‘ معاویہ‘ سلیمان‘ سلیم اللہ‘ محمد اعظم اور اللہ دتہ کا تعلق ملتان کی اضافی آبادیوں سے ہے جبکہ ایک اللہ دتہ کا تعلق ضلع لودھراں کے علاقے کوٹلہ حسن نور گڑھ سے ہے۔
ساتویں نوجوان کی ہفتہ کی شام تک شناخت نہیں ہو پائی تھی اور اسکی میت نشتر ہسپتال کے سرد خانے میں رکھ دی گئی تھی۔ 45 زخمیوں میں سے 41 کو ہسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے۔ باقی 4 میں سے ایک کی حالت ابھی تک خطرے میں ہے اور باقی 3 زخمیوں کو کسی بھی وقت ہسپتال سے فارغ کیا جا سکتا ہے۔
وقت اشاعت : 2014-10-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں