بند کریں
منگل مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پروٹو کول
جمہوری نظام میں اس کا وجود حیرت انگیز ہے المیہ یہ ہے کہ جنہوں نے پروٹوکول کلچر کے خاتمے کا بل پارلیمنٹ میں منظور کرنا ہے وہی تو پروٹوکول کے مزے لوٹتے ہیں۔ اس لئے ایسا کوئی بل منظور نہیں ہو پاتا
اسعد نقوی :
پاکستان میں ایک طرف تو عوام کی بڑی تعداد غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے تو دوسری طرف با اثر حکمران طبقہ اپنی حفاظت اور رُعب کے لئے پروٹوکول کے نام پر ہزاروں محافظ اور درجنوں گاڑیاں کئے گھوم رہا ہے۔ پروٹوکول کلچر ختم کر دیا جائے تو یہی ہزاروں اہلکار جرائم کے خاتمے کا باعث بن سکتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جنہوں نے پروٹوکول کلچر کے خاتمے کا بل پارلیمنٹ میں منظور کرنا ہے وہی تو پروٹوکول کے مزے لوٹتے ہیں۔
اس لئے ایسا کوئی بل منظور نہیں ہو پاتا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی وسائل اور عام شہری کے حالات کا ادراک کرتے ہوئے اس غیر ضروری دکھاوے پر پابندی لگائی جائے تاکہ ملکی خزانہ عوام کی حقیق ضروریات پوری کرنے میں صرف ہو ۔ ہمارا سب سے بڑا لمیہ یہ ہے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے سیاست دان خود کو عوامی نمائندہ اور خادم تو کہلواتے ہیں لیکن منتخب ہونے کے بعد اُن کا رویہ اس کے برعکس ہوتاہے۔
عام شہری اور عوامی نمائندوں کے درمیان ایک آہنی دیوار کا نام پروٹوکول ہے ۔ پروٹوکول کو جو بھی نام دیں اور اس کی جتنی بھی وضاحتیں کریں وہ اپنی جگہ لیکن اس کا سیدھا سا مطلب عوام اور اپنے درمیان فاصلہ رکھنا ہے۔ اب پروٹوکول سیکورٹی سے زیادہ دکھاو اوربرتری کے احساس کا نام بنتا جا رہا ہے۔ برتری کا یہ احساس غروروتکبر کی علامت ہے۔ اس کا دوسرا مطلب عام شہری کو حقیر سمجھنا ہے ۔
یہ درست ہے کہ موجودہ حالات میں بعض شخصیات کے لئے سیکورٹی بہت ضروری ہے ۔ ان شخصیات کے دشمن بھی اتنے ہی طاقتور اور خطر ناک ہیں کہ اُنہیں ختم کر سکتے ہیں۔اسی طرح بعض شخصیات ایسی بھی ہیں کہ ان پر حملے سے نہ صرف ملکی نظام کو دھچکا لگ سکتاہے بلکہ ملک میں انتشار بھی پھیل سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی بھی ملک آرمی چیف ، وزیراعظم اور صدر انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔
اُنہیں نقصان پہنچنے کی صورت میں ملک دشمن عناصر کے حوصلے مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اسلام کے سنہرے دور میں تو ایسا نہیں تھا لیکن اس کے بعد اسلامی تاریخ میں مسلم فوج کے سپہ سالار عام شہری کی فریاد بھی سنتے تھے اور اُن کے ہمراہ محافظ دستہ بھی ہوتا تھا۔
اب ہم جدید دور میں ہیں۔ کئی ممالک خفیہ جنگ کے ذریعے دشمن ممالک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس لئے اہم شخصیات کی حفاظت کا انتظام بہت ضروری ہو گیا ہے۔ ہم ملک کی اہم شخصیات کی حفاظت کے لئے مناسب انتظامات کی مخالفت نہیں کر سکتے۔ پا کستان چند سال قبل محترمہ بے نظیر بھٹو پرہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد پیدا ہونے والے عوامی فسادات کا مظاہر دیکھ چکا ہے۔ جلاوٴ گھیراوٴ کی جو کیفیت ان دنوں نظر آئی اُس نے نہ سرف پاکستانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ لاکھوں لوگوں کو جمع پونجی بھی لمحوں میں راکھ کا ڈھیر بن گئی تھی۔
بعد میں موصول ہونے والی رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ چند مخصوص گروہ پریشانی اور دکھ کے ان لمحات میں عوام بن کر پاکستانی املاک نزر آتش کر رہے تھے۔ اس کارروائی میں شدت غم میں ڈوبے عوام سے زیادہ ملک دشمن ایجنٹوں نے موقع کا فائدہ اُٹھایا تھا۔ اس لئے اس میں کوئی شک نہیں کہ اہم شخصیات کی حفاظت کا انتظام ضروری ہے۔
دوسری جانب اہم شخصیات کی حفاظت کے نام پر پروٹوکول کو دیکھتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ حفاظت کم اور دکھاوا زیادہ ہے۔
پروٹوکول کے نام پر محافظوں کی درجنوں گاڑیاں ‘ گھنٹوں راستے بند رکھنا اور شہر بھر کی پولیس کو سڑکوں پر کھڑا کر دینا محض اپنی انا کے غبار میں ہوا بھرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ اس سے جہاں یہ ظاہر کیا جاتاہے کہ یہ شخصیات عوام سے کہیں بالاتر ہیں ‘ وہیں عام شہری کی توہین بھی کی جاتی ہے۔ راستے بند کر کے شہر بھر کو جام کر دیا جاتا ہے۔ بوڑھے افراد اور مریض سڑکوں پر دم توڑ جاتے ہیں جبکہ شہر بھر کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔
اب تو خاردار تاریں لگانے کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ وہ پولیس جو عوام کی حفاظت کے لئے ہونی چاہیے‘ پروٹوکول کے نام پر وی آئی پیز کے راستے پر پتلوں کی طرح کھڑی کر دی جاتی ہے۔ اب تو اہم افراد میں یہ جنگ بھی چھڑ چکی ہے کہ کس کے پروٹوکول میں کتنی سائرن والی گاڑیاں ہیں اور کس کو کتنے محافظ ملتے ہیں ۔ عوامی پیسوں کا جتنا ضیاع پروٹوکول کے نام پر ہوتا ہے، شاید کسی اور مد میں ہو ۔
آپ شہر کی معروف شاہراہ پر کھڑے ہو کر پورٹوکول قافلہ گزرتے دیکھیں اور اس دوران ”محافظوں “ کا عام شہری سے رویہ ملا حظہ کیجئے۔ اس دوران پہلا خیال یہی آتا ہے کہ اب ہم عوامی نمائندوں کے انتخابات کی بجائے ” فرعون“ چنتے ہیں جو پروٹوکول اب ہمیں نظر آتا ہے اُ س کے ساتھ سفر کرنے والے کی گردن میں سریا اور چہرے پر رعونت خودبہ خوددر آتی ہے۔
یہ سب انتہائی حد تک نامناسب ہے۔
ہمارے ہاں ایک اور بری روایت یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان اپوزیشن میں ہوں یا اسمبلیوں کا حصہ نہ ہوں تو وہ اپنی ہر دوسری تقریر میں حکومتی پورٹوکول کی مذمت کرتے نظر آتے ہیں۔ اہم سرکاری عمارتوں اور رہائش گاہوں کو سکول ‘کالج اور یونیورسٹی بنانے کے نعرے لگاتے ہیں۔ جلسوں اور ریلیوں میں بغیر محافظ گھومتے پھرتے ہیں اور پولیس کی لاٹھیاں کھا کر کیمرے کی طرف دیکھ کر وکٹری کا نشان بناتے ہیں۔
اُس وقت اُنہیں نہ تو پروٹوکول کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی اُن کے لئے کسی قسم کی رہائش یا محافظ کا کوئی مسئلہ ہوتا ہے۔ اُن دنوں یہی لیڈر حکومت میں آکر پروٹوکول ختم کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔ لیکن حکومت میں ہوں تو اپنے سابقہ دعوے بھول جاتے ہیں۔ پھر ہمیں یہی سیاست دان اپنی اُن سرکاری رہائش گاہوں میں نظر آتے ہیں جنہیں وہ یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے نعرے لگایا کرتے تھے اور اُسی پروٹوکول کے ساتھ سفر کرتے ملتے ہیں جسے ختم کرانے کے لئے تقاریر کیا کرتے ہیں ۔
یہ ہماری سیاست کا دوغلا چہرہ ہے ۔ عوام کو دلفریب نعروں سے متاثر کر نے کا سلسلہ ماضی میں بھی نظر آتا تھ اور اب بھی نظر آتا ہے۔
پروٹوکول کے قافلوں کا جائزہ لیں تویہ بات سامنے آتی ہے کہ ہمارے ہاں کئی درجنوں تک پروٹوکول مہیا کیا جاتا ہے ۔ وزیراعظم ‘ صدر ‘ آرمی چیف اور عدلیہ تواپنی جگہ لیکن اُن کے بعد وزیروں ‘ مشیروں اور پھر بھاری پارٹی فنڈ دینے والے معاون تک اپنی اپنی سطح پر پروٹوکول کے مزے لوٹتے نظر آتے ہیں۔
اسی طرح اب اولاد اور خاندان کے دیگر افراد کے بھی وی وی آئی پی پروٹوکول دلوانے کی رسم چل نکلی ہے۔ ان میں اکثریت اُن کی ہے جن کے ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات سُن کر عوام مذاق اُڑاتے ہیں ۔کوئی مقروض ہے ، کسی کے پاس ذاتی گاڑی تک نہیں، کسی کا بنک اکاوٴنٹ عام شہری سے بھی کم ہے تو کوئی اپنے والد یا اولاد کے گھر میں رہتا ہے۔ کئی ایسے بھی ہیں جن کے پاس نیشنل ٹیکس نمبر تک نہیں ہے ۔
کسی کا تو سرے کے کوئی کاروبار بھی نہیں ہوتا لیکن اُن کا پروٹوکول رکھ کر دنیادنگ رہ جاتی ہے ۔ یہ ہماری سیاست کا اصل چہرہ اور دوہرا معیار ہے۔
ہمارا سب سے بڑاالمیہ یہ ہے کہ قانون سازی کا حق بھی اُنہیں ہی حاصل ہے جو اس پروٹوکول کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقدس پارلیمنٹ میں ایسا کوئی بل منطور ہی نہیں ہوتا ۔ اگر کوئی قرار داد پیش کی جائے تو وہ بھی حکومت کی جانب سے نہیں آئی بلکہ اپوزیشن کی جانب سے آتی ہے جسے بعد میں متفقہ طور پر مل کر رد کر دیا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ قوم کا جو پیسہ پروٹوکول کے نام پر ضائع ہوتا ہے ، اُسے کیسے محفوظ کیا جائے۔ جب محافظ ہی ڈاکو بننے لگیں تو پھر خزانہ کیسے محفوظ ہوگا؟ اگر اس کا مقصد صرف حفاظت ہی ہے تو یہ مسئلہ ایک بم پروف گاڑی اورایک محافظ کے ذریعے بھی حل ہو سکتا ہے۔
اس طرح پولیس خصوصا تربیت یا فتہ ایلیٹ فورس نجی سیکورٹی گارڈ کی ڈیوٹی انجام دینے کی بجائے عوام کی حفاظت کیلئے مخصوص ہو جائے گئی جس سے ملک سے بدامنی اور لاقانونیت کا خاتمہ ممکن ہو گا۔
ہمارے ہاں پروٹوکول کے نام پر جتنی فوسد مخصوس ہے، اگر یہ فورس شہر میں گشت شروع کر دے تو” سٹریٹ کرائم“ ممکن ہی نہیں ، جرائم پیشہ افراد کی بھی بروقت گرفتاری ممکن ہو گی اور کئی وارداتیں ختم ہو جائیں گی۔ زیادہ سے زیادہ کر دیا جائے کہ اہم شخصیات نے جس عمارت میں داخل ہو کر گاڑی سے باہر نکلنا ہو ، اُس عمارت کی سکیورٹی معمول سے بڑھا دی جائے۔
اگر عوام یہ منظر دیکھیں کہ اُن کے وزیرا عظم اور اہم شخصیات پروٹوکول کی بجائے صرف ایک بم پورف گاڑی میں سفر کر رہے ہیں اور وی وی آئی پیز موومنٹ سے عام شہری کی زندگی متاثر نہیں ہو رہی تو یقینا نہ صرف عوام کا مورال بلند ہو گا بلکہ عوام کے دلوں میں اپنے قائدین کی عزت واحترام میں بھی اضافہ ہو گا۔ المیہ یہی ہے کہ اس عمل کو درست بھی اُنہوں نے ہی کرنا ہے جو اس پروٹوکول کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی شخصیات عوامی مسائل اور وسائل کا خیال رکھتے ہوئے ایسے بل منطور کریں جس سے اُن کا حقیقی فرض ادا ہو سکے۔ عوام نے انہیں اپنے نمائندے کے طور پر چناہے اور وہ پارلیمنٹ جیسی مقدس عمارت میں بیٹھے ہیں جہاں عوام کی بہتری کیلئے قانون سازی کی جاتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان