تازہ ترین : 1
Persioners K Masail Or Hakomati Idare

پنشنرز کے مسائل اور حکومتی ادارے

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لئے اگرچہ ممکن نہیں کہ پنشن یافتہ لوگوں کو زیادہ سہولتیں مہیا کرسکے مگر مالی طور پر ان کی کفالت کو جاری رکھنا حکومت کا فرض ہے

خالد یزدانی:
بڑھاپا بذات خود ایک کڑی آزمائش ہے مگر ان بزرگوں کا بڑھاپا زیادہ تکلیف دہ ہے اپنے اہل و عیال کیخوشیوں اور زندگی کے معمولات سے متعلق اہم فرائض کی انجام دہی کے لئے اپنی ریٹائر منٹ کا انتظار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اپنے گھروں میں یہ سوچ کر جوان بیٹیوں کے بالوں میں چاندی آنے لگتی ہے کہ ابا جان کو ریٹائرمنٹ پر اکھٹی رقم ملے گی تو ان کے ہاتھ پیلے ہوں گے بیوی سوچتی ہے کہ شوہر کی ریٹائرمنٹ پر کرایہ کے مکان سے نجات ملے گی اور وہ چھوٹا سا گھر بنا کر سکون سے باقی زندگی کے دن گزاریں گے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو دیکھ لیں جہاں بوڑھے بھی حکومتی سرپرستی میں اپنے مستقبل کی فکر سے آزادسے دکھائی دیتے ہیں اور ادارے بھی ان کی مدد کر کے انسانیت کے تقاضوں سے سرخرو ہوتے ہیں۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لئے اگرچہ ممکن نہیں کہ پنشن یافتہ لوگوں کو زیادہ سہولتیں مہیا کرسکے مگر مالی طور پر ان کی کفالت کو جاری رکھنا حکومت کا فرض ہے پنشن میں اضافہ کے معاملہ میں حکومت ان بزرگوں کو سالہا سال سے نظر انداز کرتی چلی آرہی ہے۔
دیکھا جائے تو پاکستان میں بزرگ شہریوں کے حقوق کو آئنی تحفظ حاصل ہے آئین میں لکھا ہے کہ حکومت بزرگ شہریوں کی صحت، رہائش اور ان کی کفالت کا بندوبست کرے گی اسی تناظر میں حکومت پاکستان نے ایمپلائز اولڈ ایج بنیفیٹ 1976ء سوشل سکیورٹی ایکٹ 1965ء پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ فنڈ اور مختلف سکیمیں بھی متعارف کروائیں تاکہ بزرگ شہریوں کو کچھ ریلیف مل سکے اس سلسلے میں مختلف اقدامات بھی گاہے بگاہے کئے گئے جس وقت اولڈ ایج پنشن کا اجرا ہوا تو یہ طے پایا تھا کہ نصف حصہ آجر اور دوسرا نصف حصہ اجیر یعنی کارکن اپنی تنخواہ سے ہر ماہ ادا کر ے گا اور جب ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جائے گا تو اسے ہر ماہ چند سو روپے پنشن ملا کر ے گی۔
بشرطیکہ اس نے کم از کم پانچ سال تک تسلسل کے ساتھ اپنا اپنا حصہ ادا کیا ہو، لہٰذا جو شخص متعلقہ شرائط کے ساتھ ریٹائرمنٹ کی عمر پہنچتا اسے ایک معمولی سی رقم بطور پنشن حاصل کرنے کا حقدار ٹھہرایا گیا یہ رقم کم سے کم 430روپے اور زیادہ سے زیادہ ہزار گیارہ سو روپے پھر پانچ چھے برسوں بعد کم سے کم سات سو روپے اور زیادہ سے زیادہ 1400 روپے کردی گئی اس دوران سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور ان کی پنشن بھی بڑھتی گئی مگر ای او بی آئی کے تحت پنشن پانے والے ایک قلیل رقم پر ہی زندگی کے شب و روز گزارتے رہے جنرل مشرف کے دور حکومت 2004ء میں بزرگ شہریوں کی پنشن کے لئے کم سے کم ایک ہزار روپے اور زیادہ سے زیادہ 2500 روپے کا اعلان کیا گیا تھا۔
آج صورت یہ ہے کہ ای او بی آئی کے پنشنرز کو کئی سالوں سے ماہوار 3600روپے مل رہے ہیں جبکہ 1992ء کے بعد سے حکومت نے آجر اداروں کے برابر اپنے حصے کی ادائیگی بند کر رکھی ہے اب یکطرفہ طور پر پرائیوئٹ مالکان ہی اپنا حصہ جمع کروا رہے اگر اس میں مسلسل حکومتی حصہ شامل رہتا تو آج کا پنشنرز کم از کم دس ہزار روپے ماہوار پنشن حاصل کرتا۔ مئی 2013ء میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ تقریر میں کہا تھا کہ تمام سرکاری و غیر سرکاری پنشنرز کی کم از کم پنشن پانچ ہزار روپے کر دی گئی ہے اس اعلان کے بعد اس پر عملدر آمد سرکاری پنشنرز پر ہوا مگر ای او بی آئی کے پنشنرر مسلسل نظر انداز کئے جا رہے ہیں۔
دوسری طرف ای او بی آئی میں لوٹ مار، دھاندلیوں کے ذریعہ اربوں روپے کی کرپشن، جائیداد کی خریدو فروخت اور مبینہ غیر قانونی حربوں بارے عدالتوں میں کیس چل رہے ہیں گذشتہ سال ای او بی آئی میں دو سو ارب روپیہ کی خردبرد میں ملوث اعلی ا فسران کی خبروں پر اسوقت کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے کرپشن کیس کی سماعت کے دوران آبزرویشن دی تھی کہ وہ غریبوں کا پیسہ کسی کی جیب میں نہیں جانے دیں گے۔
جبکہ المیہ یہ ہے کہ ایمپلائز اولڈ ایج بنیفیٹ انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) سے پنشن حاصل کرنے والے انڈسٹریل اور کمرشل آرگنائزیشن کے ریٹائرڈ ملازمین ای او بی آئی سے پنشن میں اضافہ نہ کرنے پر شدید احتجاج کررہے ہیں مگر ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی مہنگائی کے اس دور میں 3600 میں روپے میں گزارہ مشکل ہے کم از کم پنشن دس ہزار روپے کی ضرورت ہے۔
دیکھا جائے تو پاکستان میں بزرگوں کا زندہ رہنا کسی معجزے سے کم نہیں گزشتہ سال اقوام متحدہ کی مدد سے برطانیہ کی ساوتھ ہیمپٹن یونیورسٹی نے بزرگ افراد کے عالمی دن پر ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کی تشکیل کے لئے دنیا کے 91ممالک میں بزرگوں کے معیار زندگی کا جائزہ لیا گیا جس بزرگوں کے لئے بہترین ملک سویڈن ٹھہرا گیا جبکہ امریکہ آٹھویں اور برطانیہ 13ویں نمبر پر تھااس کے برعکس بزرگوں کے لئے بد ترین ممالک میں افغانستان پہلے اور پاکستان تیسرے نمبر پر تھا۔
پاکستان میں بزرگوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اگلے پندرہ سالوں میں پاکستانی دنیا بھر میں دسویں نمبر پر آجائے گا اس سے جہاں مختلف مسائل جنم لیں گے وہاں ریٹائر ہونے والے بزرگ ملازمین کی وجہ سے پنشن جیسے مسائل حکومت کے لئے ایک چیلنج ہوں گے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر پنشنروں کے مسائل حل کرے اور پنشن 3600سے بڑھا کر کم از کم دس ہزار کرے تاکہ وہ عمر کے آخری حصہ میں زندہ تو رہ سکیں ورنہ بقول شاعر وہ یہ کہتا کہتا اس دنیا سے چلا جائے۔
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
وقت اشاعت : 2015-01-24

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں