تازہ ترین : 1
Parliament Ka Usool Ki Pasdari K Liye Azaam Ka Ayida

یمن کا معاملہ!!! پارلیمنٹ کا اصول کی پاسداری کیلئے عزم کا اعادہ

قرار داد میں کہا گیا ہے کہ یمن کی لڑائی فرقہ وارانہ نوعیت کی نہیں لیکن یہ تنازعہ فرقہ واریت میں تبدیل ہو سکتا ہے جسکے پاکستان سمیت خطے پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن ارکان نے کھل کر یمن کی صورتحال پر اظہار خیال کیا

نوازرضا
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں” یمن کی صورت حال “پر 5روز تک جاری رہنے والی بحث کے بعد 12نکاتی قراداد کی متفقہ طور منظوری دے دی گئی جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے پاکستان کو یمن کے تنازعہ میں غیر جانبدار رہنا چاہیے تاکہ وہ اس بحران کے خاتمے میں متحرک کردار ادا کر سکے۔ قرار داد میں پوری عالمی برادری اور مسلم امہ سے کہا گیا ہے کہ وہ یمن میں قیام امن کی غرض سے توجہ مرکوز کرے جب کہ دوسرے اہم نکتہ میں سعودی عرب کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا گیا ہے اور دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ اگر سعودی عرب کی علاقائی سلامتی کی خلاف ورزی کی گئی یا حرمین شریفین کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان سعودی عرب اور اس کے عوام کے ساتھ شانہ سے شانہ ملا کر کھڑا ہو گا۔
قرار داد میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان یمن میں فوری جنگ بندی کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور تنظیم سربرا ہ کانفرنس سے رجوع کرنے کے لئے اقداما ت کرے قرار داد میں علاقائی سلامتی اور استحکام کو مختلف ”دہشت گردوں اور غیر ریاستی آلہ کاروں“ کے بڑھتے ہوئے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ یمن کی لڑائی فرقہ وارانہ نوعیت کی نہیں لیکن یہ تنازعہ فرقہ واریت میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے پاکستان سمیت خطے پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن ارکان نے کھل کر یمن کی صورت حال پر اظہار خیال کیا ہے پارلیمنٹ میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ پاکستان کو یمن کی داخلی خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے اس کی اندرونی لڑائی میں نہیں کودنا چاہیے یہ بات قابل ذکر ہے تحریک انصاف نے وزارت خارجہ کی تیار کردہ قرارداد قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
وزیر اعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمانی لیڈروں کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے جہاں قرار داد میں پاکستان کے لئے یمن کے تنا زعہ میں غیر جانبدار رہنے کی شق شامل کروا دی وہاں انہوں نے یہ دھمکی بھی دے ڈالی کہ قرار داد اگر وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایوان میں پیش کی تو پاکستان تحریک انصاف واک آؤٹ کر جائے گی۔
حکومت نے معاملہ کی نزاکت کے پیش نظر قرار داد پیش کرنے کی ذمہ داری وفاقی و زیر خزانہ و اقتصادی امور سینیٹر محمد اسحق ڈار کو سونپ دی شاہ محمود قریشی نے اپنا مطالبہ منو اکر حکومت کو مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ٍ ہے یمن کے تنازعہ میں پاکستان کو ”غیر جانب دار“ رہنے کی قرار داد سے ملکی و بین الا قوامی سطح پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیاہے۔
پاکستان میں سعودی عرب کی حامی سیاسی و دینی جماعتوں نے قرارداد کو ”مبہم اور غیر تسلی بخش “قرار دیا جمعیت علما اسلام(ف) کے امیر مولانا فضل الرحمنٰ نے بھی قراداد کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی قراداد کے لئے ہمیں اعتماد میں لیا گیا اور نہ مشاورت کی گئی انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ یہ قرار داد کیسے آگئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ قراداد پاک سعودی دوستی کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتی جب کہ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ ڈاکٹر انور محمد قر قاش نے یمن کے تنازعہ میں غیر جانبدار رہنے کے فیصلے پر پاکستان کو خبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم مسئلے پر متضاد اور مبہم موقف اختیار کرنے کی پاکستان کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ سعودی عرب نے پاکستان کی قرارداد پر رد عمل کا اظہار نہیں کیا لیکن متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے سفارتی آداب پاکستان اور متحدہ عرب کے درمیان تعلقات کا لحاظ رکھے بغیر ٹوئٹر پر ایک ایسا بیان جاری کر دیا جو کسی لحاظ سے ایک دوست ملک کا نہیں ہو سکتا۔
انکا کہنا ہے کہ اس وقت خلیج میں خطرناک جنگ جاری ہے اس کی سٹریٹیجک سکیورٹی ایک دھانے پر کھڑی ہے اس وقت اس سچ کو واضح کرنا ہو گا حقیقت میں کون کس کا اتحادی ہے ؟ اور میڈیا بیانات کی حد تک اتحادی کون ہیں۔ پاکستان کو خلیج تعاون کی6ریاستوں کے ساتھ اپنے ”سٹریٹیجک تعلقات“ کے حق میں واضح موقف اختیار کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیر جانبدارانہ موقف کاہلی پر مبنی سوچ کے سوا کچھ نہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ طعنہ متحدہ عرب امارات کے ایک وزیر نے دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت کو دیا ہے جس پر وزارت خارجہ کو تو جیسے سانپ ہی سونگھ گیا۔ وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے متحدہ عرب امارات کے وزیر کے بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا بالآخر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے متحدہ عرب امارات کے وزیر کے بیان کا نوٹس لے لیا اور کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ایک وزیر کا بیان نہ صرف ایک بڑی ستم ظریفی ہے بلکہ لمحہ فکریہ بھی ہے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مروجہ بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں کے مطابق یو اے ای کے وزیر کا یہ بیان سفارتی آداب کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم ایک غیرت مند قوم ہے اور سعودی عرب کے ساتھ ساتھ یو اے ای کے عوام کیلئے برادرانہ جذبات رکھتی ہے لیکن امارات کے ایک وزیر کا یہ بیان پاکستان اور اس کے عوام کی عزت نفس مجروح کرنے کے مترادف ہے جو ہر گز قابل قبول نہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو ان کے جرا ء ت مندانہ بیان پر سینیٹ کے اجلاس میں زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے جہاں وہ ایک سال سے زائد کا ”غیر اعلانیہ “ بائیکاٹ ختم کر کے آئے تھے اگر یہ کہا جائے کہ وہ اپنے مخصوص انداز سیاست اور قومی سوچ کے تناظر میں سینیٹ کے ”دولہا “ بن گئے مبالغہ آرائی نہ ہو گی ”مصلحتوں کی شکار“ حکومت کی پروا کئے بغیر ان کے زور بیان کا ملکی و بین الا قوامی سطح پر خیرمقدم کیا گیا ہے۔
سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ(ق) کے سیکریٹری جنرل مشاہد حسین سید نے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان کے یو اے ای کے وزیر کے بیان پر رد عمل کی تعریف کی اور کہا کہ کہا کہ موجودہ حکومت میں کوئی وزیر تو ایسا ہے جس نے جواب دیا ہے، مختلف ایشوز پر ان کا کردار بہت مضبوط رہاہے اور متحدہ عرب امارات کے وزیر کے بیان پر ان کا رد عمل قومی خود مختاری کا آئینہ دار ہے۔
پاکستان کے تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر نعمان وزیر ، اے این پی کے الیاس بلور اور جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے بھی چوہدری نثار علی خان کے بیان کی تعریف کی جب سینیٹ کے اجلاس میں نماز مغرب کا وقفہ ہوا تو ارکان نے انہیں گھیر لیا اور ان کو جراء ت مندانہ بیان دینے پر مبارک باد ی۔چوہدری نثار علی خان خود بھی سینیٹ میں اپنے لئے دوستانہ ماحول دیکھ کر حیران و ششدر تھے۔
اسی روز وزیر اعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کا اجلا س منعقد ہو جس میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد اور اس پر متحدہ عرب امارات کے وزیر کے بیان سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا گیا۔وزیر اعظم محمد نواز شریف نے سیاسی و عسکری قیادت سے مشاورت کے بعد پارلیمنٹ کی قراداد پر ایک پالیسی بیان میں وضاحت کر دی ہے کہ پارلیمنٹ کی قراداد حکومتی پالیسی کی عکاسی کرتی ہے ا نہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ” خوثی باغیوں “کو مذاکرات کی میز پر لائے۔
انہوں خبر دار کیا کہ قانونی حکومت کو تشدد سے گرانا خطر ناک ہو گا۔ وزیر اعظم نے خلیجی ممالک جو پارلیمنٹ کی قرارداد کو سمجھ نہیں پائے باور کرایا کہ پاکستان اور سعودی عرب” سٹریٹجک پارٹنر“ ہیں پاکستان اپنے سٹریٹجک پارٹنر کو تنہا نہیں چھوڑے گا اس وضاحت کے بعد قراد اد کے بارے میں خلیجی ممالک میں پائی جانے والی غلط فہمی بڑی حد تک دور ہو جائے گی۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کی گئی قراداد کو ہر سیاسی جماعت اپنے معنی دے رہی ہے اگرچہ قرارداد میں ایک طرف پاکستان کو یمن کے تنازع میں غیر جانب دار رہ کر ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا گیا ہے تو دوسری طرف سعودی عرب کی سلامتی کو خطرات لاحق ہونے کی صورت میں اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ اس شق کے تحت پاکستان سعودی عرب کی بھر پور فوجی امداد کر سکتا ہے سعودی فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان نے اتحاد میں شامل ہونے کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح نہیں کی، پاک فوج کی شمولیت سے جنگ میں سعودی حکومت کو تقویت ملے گی تاہم عدم شرکت پر اتحادی کارروائیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
سعودی عرب کے مذہبی امور کے وزیر صالح بن عبد العزیز اور مشیر عبدالعزیز العمار پاکستان کا ہنگامی دورہ کر چکے ہیں ان کی وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات نہیں ہوئی تاہم انہوں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف اور دینی جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتیں کیں اور سعودی عرب کے حق میں رائے عامہ ہموار کی۔ ایک بات واضح ہے سعودی عرب کو کوئی تکلیف پہنچی تو پاکستان اس کی مدد کو پہنچے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے پاکستان اپنے ”سٹریٹجک “ پارٹنر کی کس طرح مدد کرتا ہے ؟ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا۔
وقت اشاعت : 2015-04-17

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں