تازہ ترین : 1
Pakistan Zeher Pee Rahe Hain

پاکستانی زہر پی رہے ہیں!

پانی انسانی زندگی کے لیے کتنا اہم ہے اس کا علم ہر شخص کو ہے۔ شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی حکومت کی ذمہ دار ی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں صرف پانی اب ہومیو پیتھی کی دوائی کی طرح ملتا ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ خریدے گئے منرل واٹرز کے بارے میں بھی متعدد رپورٹس سامنے آ چکی ہیں

پانی انسانی زندگی کے لیے کتنا اہم ہے اس کا علم ہر شخص کو ہے۔ شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی حکومت کی ذمہ دار ی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں صرف پانی اب ہومیو پیتھی کی دوائی کی طرح ملتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ خریدے گئے منرل واٹرز کے بارے میں بھی متعدد رپورٹس سامنے آ چکی ہیں جس کے مطابق ان میں سے اکثر برانڈز کا پانی مضر صحت قرار دیا گیا ہے۔
صورت حال اس حد تک تشویش ناک ہے کہ قومی تحقیقاتی ادارے ”واٹرریسرچ کونسل“ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پینے کا 82 فیصد پانی انسانی صحت کے لیے غیر محفوظ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب کے گردونواح اور شمالی علاقہ جات کے پانی میں سنکھیا کی مقدار موجود ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ یاد رہے کہ سنکھیا زہر کی ایک قسم ہے جس کی خالص حالت انسان کو موت کے گھاٹ اتارد یتی ہے۔
اسی طرح صوبائی دارالحکومت کے شہری خستہ اور زنگ آلود پائپ لائنز اور ناکارہ فلٹرز کے علاوہ دیگر وجوہات کے باعث زہر آلود پانی پینے پر مجبورہیں۔یہ انکشاف بھی ہواہے کہ لاہور کے اردگرد دریائے راوی میں کچھ مقامات ایسے بھی ہیں جہاں سے سارے لاہور کا انڈسٹریل ویسٹ اور سیوریج کا پانی دریامیں ڈالا جاتا ہے۔ لاہور کے باسیوں کو جو تازہ سبزیاں پہنچائی جاتی ہیں وہ دریائے راوی کے کنارے اسی گندے اور زہریلے پانی سے اگائی جاتی ہیں۔
مضر صحت پانی کی وجہ سے گیسٹرو، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس سمیت پیٹ اور گلے کی مختلف بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔ اسی طرح پینے کے اس پانی میں ”ہیوی میٹلز“ کی آمیزش بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ شہر میں بچھی اکثر پائپ لائنیں ناکارہ ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے زیر زمین بچھی ان پائپ لائنوں میں گٹرکی پائپ لائنوں سے رسنے والا پانی بھی شامل ہو رہا ہے۔
حکومت صاف پانی منصوبے کے نام پر جو منصوبے متعارف کروا رہی ہے اس کے ثمرات بھی عام شہریوں تک نہیں پہنچ رہے۔ حکومت کی جانب سے لگائے گئے چند فلٹر پلانٹ بھی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔جبکہ دوسری جانب عام آدمی نہ تو منرل واٹر خریدنے کی استطاعت رکھتا ہے اور نہ ہی الگ فلٹر لگوا پاتا ہے۔ یہ صورت حال تخت لاہور کی ہے جہاں سب سے زیادہ حکومتی ”توجہ“ نظر آتی ہے۔
دیگر شہر خصوصاََ دیہی علاقے کس عذاب سے گزر رہے ہیں اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا صاحبان اقتدار کو لگتا ہے کہ ہر شہری منرل واٹر خرید کر پی سکتا ہے؟ ہم اس معاشرے میں جی رہے ہیں جہا ں امیر شہر کے کتے بھی فلٹر شدہ پانی پیتے ہیں لیکن عام شہری کا بچہ سنکھیا ملا پانی پینے پر مجبور ہے ۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا ترقی پتھر سے بنے ایسے منصوبوں کا نام ہی ہے جو دور سے نظر آئیں۔
کیا روٹی، کپڑا، اور مکان تک عام شہری کی رسائی اب ترقی کے دائرے میں شمار نہیں کی جاتی ؟ کیا سرکاری یہ امید رکھتی ہے کہ شہری زہر آلود پانی پیتے رہیں اور پھر بھی زندہ باد کے نعرے لگاتے رہیں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کی تشہیری مہم میں ”صاف پانی پراجیکٹ “ کو بھی نمایاں کیا جاتا ہے، لیکن اس سچ سے نظریں کیسے چرائی جائیں کہ ملک میں پینے کا 82 فیصد پانی مضر صحت ہے۔
وقت اشاعت : 2015-12-10

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں