بند کریں
پیر مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستان میں احتجاجی دھرنوں اور لانگ مارچوں کی تاریخ
پاکستانی سیاست میں احتجاجی دھرنوں‘مظاہروں اورمارچوں کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ پچھلی 5دہائیوں میں دارلحکومت نےکئی سیاسی تحریکیں دیکھیں۔ ان میں دوسب سےمشہور مارچ بےنظیربھٹو اورنواز شریف نے ایک دوسرے کے خلاف کئے تھے
ندیم احمد خان :
پاکستانی سیاست میں احتجاجی دھرنوں‘ مظاہروں اور مارچوں کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ پچھلی پانچ دہائیوں میں دارلحکومت نے کئی سیاسی تحریکیں دیکھیں۔ ان میں دو سب سے مشہور مارچ مرحوم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے ایک دوسرے کے خلاف کئے تھے۔ اسلام آباد میں پہلا بڑا مظاہرہ چار اور پانچ جولائی 1980 میں ہوا جب شیعہ برادری نے سابق صدر ضیاء الحق کے زکوہ اور عشر آرڈیننس کے خلاف دارالحکومت میں لانگ مارچ کی۔
شیعہ رہنمامفتی جعفر حسین کی قیادت میں مظاہرین نے وفاقی سیکریٹریٹ پر دھاوابول دیا۔ بیور کریسی کے مفلوج ہونے کے بعد حکومت مظاہرین کے مطالبوں کے سامنے جھک گئی اور انہیں ریاست کوز کوٰة دینے سے مستثنی قراد دے دیا ۔ 17 اگست1989 کو بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں نواز شریف نے فیصل مسجد میں ضیاء الحق کی پہلی برسی منانے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا۔
یہ اُس وقت کی حکومت کے لئے پہلا بڑا چیلنج تھا، اور موجودہ حکومت کی طرح بے نظیر سرکار نے بھی اسلام آباد کو بند کرنیکا فیصلہ کیا۔ تاہم بعد میں ہوش مندی غالب آئی اور اُس وقت کے وزیر داخلہ اعتزاز حسن نے برسی منانے والوں کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ تعزیت کے لئے آئے لوگ سیاسی تقاریر اور برسی کے بعد پر امن طورپر منتشر ہو گئے۔ کچھ سالوں بعد 16 نومبر1992 میں اپوزیشن لیڈر بے نظیر بھٹو نے 1990 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے ایک لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔
اس تحریک کی وجہ سے مرحوم صدر غلام اسحٰق خان نواز شریف کی پہلی حکومت کو تحلیل کرنے پر مجبور ہوئے۔ 26 مئی، 1993 میں شریف حکومت کو سپریم کورٹ کے احکامات پر بحال کر دیا گیا۔اگلے سال ،16جولائی 1993 میں بے نظیر بھٹو نے ایک مرتبہ پھر لانگ مارچ کیا تاہم اس مرتبہ انہیں اسلام آباد بلاک ملا۔ یہ نازک صورتحال اس وقت قابو آئی جب فوجی سربراہ جنرل وحید کاکڑ نے صدر اسحٰق اور وزیراعظم نواز شریف کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔
1999ء میں جماعت اسلامی کے سابق سر براہ قاضی حسین احمد نے نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں ہندوستان کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے دورے کے موقع پر لاہور میں دھرنا دیا تھا۔ مارچ، 2007 میں فوجی حکمران پرویز مشرف کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی برطرف کئے جانے پر وکلا نے عدلیہ کی بحالی کے لئے تحریک چلائی۔ تحریک کی وجہ سے ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گیا اور پھر جسٹس افتخار ، وکلاء رہنماوٴں اعتزاز حسن، منیر اے ملک ، اور علی احمد کرد کی قیادت میں پہلا لونگ مارچ شروع ہوا۔
متاثرہ ججوں کی مختصر بحالی کے بعد، مشرف نے نومبر 2007 میں ایمر جنسی نافذ کرتے ہوئے اعلی عدلیہ کو گھر بھیج دیا۔ اس دوران ججوں کو نظر بندکرتے ہوئے انہیں دوبارہ حلف اٹھانے کو کہا گیا، جس پر کئی ججوں نے مذاحمت کی۔ وکلا نے اس پر دوسری مرتبہ احتجاج شروع کیا،اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اسلام آباد لانگ مارچ کی کال دی گئی۔ نواز شریف کی قیادت میں لاہور سے شروع ہونے والا مارچ گجرانوالہ ہی پہنچا تھا کہ اُس وقت وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے رات گئے اپنی تقریر میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اوردوسرے ججوں کو بحال کرنے کا اعلان کر دیا۔
مبینہ طور پر سیکورٹی ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے بلوچ افراد کے رشتہ داروں نے اکتوبر 2013 اور مارچ 2014 کے دوران براستہ کراچی کوئٹہ سے اسلام آباد مارچ کیا۔ ماما قدیر کی قیادت میں ” وائس آف بلوچ مسننگ پر سنز“ نامی گروپ کے اس پیدل مارچ کو صحیح معنوں میں مارچ قرار دیا جا سکتا ہے۔ خواتین اور بچوں سمیت تیس شرکاء کے اس قافلے نے دو ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہوئے موہند اس کرم چند گاندھی کا 1930 میں ”سالٹ مارچ“ کا بھی ریکارڈ توڑ دیا۔
تاہم ان کا مشکلات بھرا سفر بھی مقاصد کے حصول کا سبب نہ بن سکا۔ حالیہ تاریخ کا آخری بڑا لانگ مارچ پاکستان عوامی تحریک کے سر براہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے پچھلے سال 14 جنوری کو کیا تھا۔ لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کا آخری پڑاوٴ ڈی چوک کے قریب جناح ایونیو تھا۔ چار دنوں تک جاری رہنے والے دھرنے کا اختتام حکومت اور مظاہرین کے درمیان کامیاب مذاکرات پر ختم ہوا۔
تاہم ، اس مرتبہ ڈاکٹر قادری کے لئے حالات ویسے نظر نہیں آرہے جیسے پچھلے سال تھے۔
یہ تو تھی پاکستان میں چند ایک بڑے احتجاجی مظاہروں و مارچ کی کہانی۔ آیئے اب حالیہ آزادی مارچ کا جائزہ لیتے ہیں۔
آزادی مارچ میں لوگوں کا اتنی بڑی تعداد ار گرمی اور حبس کے موسم میں احتجاج کیلئے مارچ میں آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ اب عوام تبدیلی کیلئے تیار ہو چکے ہیں۔
موجودہ احتجاجی مارچ کی ممکنہ کامیابی اور حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے جو نظر آرہا ہے اس پیچیدہ کھیل کے پاکستانی سیاست پر گہرے اثرات پڑنے والے ہیں،جو آنے والی کچھ دہائیوں کے لئے پاکستان کے مستقبل کی شکل و صورت ترتیب دیں گئے۔ حالات جس نہج پر جار ہے ہیں اس کا نتیجہ حکومت کی طرف سے کچھ دو اور کچھ لو کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
اس وقت موجودہ سیاسی نظام تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔
اس کے بعد ایک مضبوط اور منظم نظام سامنے آئے گا، جس میں سارے کھلاڑی نئے ہوں گے لیکن یہ کہنا فی الحال قبل از وقت ہوگا۔ویسے بھی اب ہمیں ملکی سیاسی نظام میں کچھ بنیادی اور طویل مدتی تبدیلی کے لئے تیار ہو جانا چاہیے ورنہ ہم ہمیشہ ایسے ہی کرپٹ سیاستدانوں کے ہاتھوں یرغمال بنے رہیں گئے۔
مسلم لیگ ن ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر اپنی پرانی حرکتوں کی وجہ سے مشکل میں پھنس گئی۔
انتخابات سے پہلے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کو ایشو بنا کر‘ نوجوانوں کو نوکریوں کی امید دلا کر ‘ خوشحالی کا راستہ دکھا کر اقتدار میں آتے ہی جس طرح اقربا پروی اور فرعونیت کا مظاہرہ کیا اسکی مثال پہلے کبھی نہیں ملتی۔تبدیلی کی جو امید 2013 کے عام انتخابات سے وابستہ تھی ، وہ ٹوٹ چکی۔ فوج کے ٹیک اوور نہ کرنے سے ایک امید بندھی تھی کہ موجودہ سیاسی جماعتیں اپنی اصلاح کریں گی، اپنے لیڈروں کی تربیت کریں گئی، اور جمہوری نظام کو مضبوط کرنے میں اپناکردار ادر کریں گی ، لیکن یہ سب کچھ حاصل نہیں ہوسکا۔
جس کے نتیجے حالات اس حد تک آگئے کہ عوام ڈیڑھ سال بعد ہی وزیراعظم سے استعفے کیلئے مارچ کرنے کیلئے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ جمہوری نظام مضبوط کرنے کے بجائے سیاسی جماعتوں نے ملک کی ضروریات کو پس پردہ پھینک کر وہی طاقت کی سیاست شرورع کی ۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے وہی روایتی رویہ اپنایا کہ آپ اگر پیدائشی لیڈر نہیں ، تو اب آپ لیڈر نہیں بن سکتے جبکہ تحریک انصاف ایک مضبوط سیاسی طاقت بن کر ابھرنے کے بجائے صرف ایک شخصیت تک ہی محدود رہی۔

فوج اب نہ اقتدار پر قبضہ کرے گی ، اور نہ ہی نظام کو چھوڑے گی۔ جو لوگ ایک سیدھے حل کی امید کر رہے ہیں ، وہ ماضی میں جی رہے ہیں اور انہیں اپنے آپ کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کے ان حالات کی ذمہ داری صرف اور صرف مسلم لیگ ن کے قائدین کی ہٹ دھرمی ‘ انا اور اقرباپروری ہے۔ سنگین سیاسی مسئلوں سے چشم پوشی کر کے اس حکومت نے اپنی تمام تر توجہ دوسرے معاملات پر رکھی حتیٰ کہ ” لوڈشیڈنگ“ جس کے خاتمے کے دعوے کر کے اس جماعت نے الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی کو بھی صرف زبانی دعووں او رافتتاحی تختیاں لگانے تک ہی محدود رکھا۔
فوری اور بروقت قوت فیصلہ نا ہونے کی سب سے بڑی مثال تحریک طالبان پاکستان کے خلاف آپریشن شروع کرنے میں مہینوں کی تاخیر ہے۔ مسلم لیگ ن کے اندرونی اختلافات کو بھی شامل حال کر کے دیکھیں ، تو کہانی خود بخود سامنے آجاتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-22

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان