تازہ ترین : 1
Pakistan Main Bharti Hui Mehengai

پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی

عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی دشوار ہو گیا۔۔۔۔۔۔پاکستان جو چند برس قبل تک مہنگائی کا اس قدر شکار نہ ہوا تھا جس قدر آج ہے۔ ہر طرف آٹا ،چینی اور دوسری ضروریات زندگی نے غریب بندے کا بڑھکس نکال دیا ہے

سید ساجد یزدانی:
پاکستان ایک غریب ملک ہے اس کی معیشت کا اتار چڑھاؤعدم استحکام کا چکار ہے۔جو اصل اور بنیادی مسئلہ ہے جس سے ملک شدید بحران کا شکار ہے۔آزادی پاکستان کے وقت بہت کم وسائل اور سرمایہ موجود تھا اور ترقی کے عمل بہت سست تھے۔بدقسمتی سے سیاست دان ترقی کے جدید عالمی نظام اور ملک کی ضروریات سے نا واقف تھے۔شروع سے ہی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کو بہت سے مسائل کا سامنہ تھا۔
پالیسیوں کی مسلسل ناکامی سے ملک کے حالات بد تر ہوتے چلے گئے اور ماضی سے ازحال تک کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہ ہونے کی وجہ سے اب موجودہ صورت حال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ ملک میں سب سے بڑا مسئلہ غربت کا ہے جو حکمرانوں کی نہ اہلی،جرائم اور سماجی کمزوریوں کی وجہ سے ہے۔
پاکستان جو چند برس قبل تک مہنگائی کا اس قدر شکار نہ ہوا تھا جس قدر آج ہے۔
ہر طرف آٹا ،چینی اور دوسری ضروریات زندگی نے غریب بندے کا بھرکس نکال دیا ہے۔ہر طرف لوگوں کی زبان پر بس ایک ہی لفظ ہے مہنگائی مہنگائی۔ ہمارا ملک جو کہ ایک زرعی ملک کہلاتا ہے۔جس کا دارومدار زراعت پر ہے۔لیکن اس ملک کی زرعی پیداوار اتنی بھی نئی کہ اپنی ہی عوام سکون کی زندگی گزارے اور اپنا کاشت کرے اپنا کاٹے اور باہر سے اناج نہ منگوانا پڑے۔
ہمارے پاس دنیا کا بہترین نہری نظام ہے۔ہمارے پاس دنیا کی زرخیز ترین زمین ہے۔اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہے کہ کچھ عرب اور خلیجی ممالک ہماری زرعی زمین پر نظر گاڑے بیٹھے ہے کہ اس کو ہم حاصل کرلیں اور اس کو کاشت کر کہ وہ اپنے ملک کی ضروریات کونہ صرف پورا کریں بلکہ اس سے فائدہ بھی اٹھائیں۔افسوس صدافسوس کہ ہم سب یہ دیکھ کر بھی اندھے بنے بیٹھے ہے۔
ہماری حکومت نہ جانے کس پالیسی اور کیا سوچ کر اپنی زرعی زمینیں انہیں دینے کے درپے ہوئی ہے۔وقتی طور پر ہو سکتا ہے کہ انہیں کچھ اس میں منافع نظر آرہا ہو لیکن انہیں آگے کا سوچنا چاہیے ۔صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے تو اپنے پانچ سال پورے کر کے لوگوں کو گروی رکھ کر پھر ووٹ مانگنے چل دوڑنا ہے بلکہ انہیں حقیقت کا اب اندازہ کر لینا چاہیے۔
مانا کہ ان کے بچے بیرون ملک جا کر تعلیم حاصل کر سکتے ہے اور وہا ں پر وہ شہریت بھی لے سکتے ہیں۔لیکن خدارا۔۔۔اس قوم کے ساتھ ایسا مزاق نہ کرے کہ یہ قوم اپنی موت آپ مر جائے۔کہیں یہ بھی افریقی ممالک میں شامل نہ ہوجائے کہ جہاں دیہاتوں کے دیہات بھوکے مر رہے ہیں ان کی لاشیں بھی بے گوروکفن پڑی گل سڑ رہی ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کمزور مالیاتی اداروں ،بے جا حکومتی اخراجات اور کرپشن کی وجہ سے غربت اور مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ان حالات میں عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی دن بدن دشوار ہو تا چلا جا رہا ہے۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت شاید پاکستان کی تقدیر کا حصہ ہے۔سیاسی اور قانونی بحرانوں کے بعد اب ملک میں بڑھتے ہوئے حالیہ اقتصادی بحران نے جو شدت اختیار کی ہے اس سے نمٹنا کسی بڑے چینج سے کم نہیں ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانی والی پاکستان پیپلز پارتی کے گزشتہ دور میں غیر یقینی سیکیورٹی اور سیاسی حالات کی بدولت نہ صرف روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 30فیصد کمی ہوئی ہے بلکہ کمزور مالیاتی اداروں،غیر ملکی قرضوں اور بڑھتے ہوئے حکومتی اخراجات نے معیشت کو اس حد تک نقصا ن پہنچایا ہے کہ ملک میں زرمبادلہ خطرناک حد تک کم ہوگئے ہیں۔

مہنگائی کی وجہ سے پاکستان میں عام آدمی کے لیے گزر بسر کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ملک میں مہنگائی میں اضافے کی ایک اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اقتصادی پالیسیوں میں ملک کے طاقتور طبقے کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے اور اس کے اثرات براہ راست غریب عوام پڑھتے ہے ۔انہوں نے کہا؛اقتصادی پالیسیاں ایسی بنائی جا رہی ہیں کہ اس میں عوام کو کوئی ریلیف نہی دیا جاتا ملک کے طاقتور طبقے اپنے مفادات کو ان پالیسیوں پر ترجیح دیتے ہیں۔
یہ طبقے قومی دولت لوٹتے ہیں، قرضے لیتے ہیں اور بعد میں پارلیمان میں اپنے ان قرضوں کو معاف کروالیتے ہیں اور اس کا بوجھ 190ملین عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔
غربت کی وجہ سماجی بے ایمانی ،عوام اور لوگوں کے غیر زمہ دارانہ رویہ ہے۔ ہر ایک شخص بے ایمانی اور غیر منصفانہ طریقے سے دولت کے حصول کے لیے سرگرم ہے،معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہو چکا ہے،اس بے یقینی کی کیفیت نے معاشرے میں منفی سوچ کو بڑھاوا دیا ہے،قوم اپنے حقوق سے آگاہ ہی نہی ہے،کام کرنے والے لوگ اپنی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر ہے،ٹیکسوں کی ادائیگی نہ کرنے،مسلسل قانون کی خلاف ورزی کو اپنا حق سمجھتے ہیں،یہ غیر زمہ دارانہ رویہ مسلسل بڑھتا ہی جا رہا ہے،اگر عوام نے مزید ایسے ہی حکمرانوں کو دوبارہ ووٹ دیا تو یہی مسائل آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑیں گے۔
پاکستان کی غربت کی تمام تر مشکلات کو درج کرنا مشکل ہوگا تاہم زیر غور اہم وجوہات درج زیل ہیں۔
حکومت ملک کے موجودہ حالات سے واقف ہی نہیں،حکومت کو ایک آدمی کو مسائل سے دلچسپی ہی نہی ہے اور نہ ہی ایوانوں میں اس بات کی ضرورت محسوس کی جاری ہے کہ عام آدمی کے مسائل کے حل سے متعلق قانون سازی کی جائے، حکومت کی بنادی تجویز کردہ پالیسیوں کو کامیاب نتیجہ حاصل نہیں ہوتا ، ایک پالیسی کی ناکامی کے بعد اس پر غور ہی نہی کرتی اور اس کے بعد ازاں گزشتہ مسائل کے مطالعہ پر غور ہی نہی کیا جاتا اور ایک نئی پالیسی کا اعلا ن کر دیا جاتا ہے، بھاری ٹیکسوں سے کچل کر بے روزگاروں کو غربت کی لکیر سے نیچے رہنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے،مزدور طبقہ اور عام آدمی کو بنیادی ضروریات سے محروم رکھا جاتا ہے ، خصوصی طور پر صحت و علاج، پالی،انصاف کر فراہمی ،مہنگائی،ملازمت ،قرضوں کی فراہمی اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات پر بھی عدم دلچسپی کا اظہار کیا جاتا ہے۔

غربت کی ایک وجہ کرپشن ہے،کرپشن کی ہمارے معاشرے میں مختلف اقسام ہیں جس کی وجہ سے نظام کا بنیادی ڈھانچہ بیرونی طور پر مظبوط اور اندرونی ساخت کو دیمک چاٹ چکی ہے، اوپر سے نیچے تک تمام ادارے اس گھناؤنے فعل میں ملوث ہے،حکومتی اداروں کی کارکردگی صرف عوام کے ادا کردا ٹیکس کا غلط استعمال اورحکمرانوں کا بیرون ملک رقوم کا زخیرہ ہے،انصاف دینے والی عدالتیں اور ان میں کام کرنے والا عملہ، تحفظ فراہم کرنے والے ادارے بلخصوص پولیس ،اس کرپشن نے نظام کو اس قدر کھوکھلا کر دیا ہے کہ حق کے حصول کے لیے بھی باڑی رقم دینا پڑتی ہے،قانون اور نظام کے حالات حکومت کے کنٹرول سے باہر ہیں،عالمی شماریاتی ادارے کے مطابق پاکستان کرپشن کی فہرست میں 24 منبر پر ہے، اس پورے منظر نامے میں کچھ کرپٹ لوگوں کا وسائل پر قبضہ کرنا اور عام مزدور طبقے کو متوسط رکھنا ہے۔

ہمارے معاشرے میں آپسی تعلقات میں شدت کا عنصر تیزی سے بڑھتا جارہا ہے،ایک دوسرے پر سبقت کی دور میں ہر شخص اپنے مفاد کی خاطر اپنی ضرویات کی تکمیل کے لیے انسانی قدروں کوپامال کر رہا ہے، کوئی بھی ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار نہیں ہے،دولت کے نشے میں مادی ترجیحات کو انسانیت سے بلند کر دیا ہے،ہمارا اقتصادی نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے،عوام غربت کی سطح سے مزید نیچے جاتے جارہے ہیں اس عمل سے اجاراداری جنم لے رہی ہے جو کہ معاشرے میں غربت کی ایک اور وجہ ہے۔

پاکستان کی خواندگی کی شرح بہت کم ہے،زیادہ تر لوگ آمدنی کے جدید زریعے سے واقف ہی نہی ہیں، زیادہ تر لوگ جدید ٹیکنالوجی کواپنے کاروبار کو ضروریات کے لیے اپنانے کے قابل ہی نہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ کاروبار میں آمدنی کی کمی اور بین الاقوامی نتائج سامنے نہی آتے اور پاکستان کا کاروباری طبقہ محدود ہے، تعلیم کی کمی کے باعث نچلا طبقہ اور مزدور اپنے حقوق سے آگاہ ہی نہی ہیں۔

پاکستان کی آمدورفت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے عوام کی ٹیکس کی ایک خطیر رقم آمدورفت پر خرچ ہو رہی ہے۔ پاکستان میں کاروباری وسائل کی کمی اور حکومت کی کاروباری منصوبوں پر عدم دلچسپی سے سرمایہ دار عدم تحفظ کا شکار ہیں جس کے باعث ملک کی سرمایہ کاری کی کمی آئی ہے،ملکی قدرتی وسائل سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا جا رہا اور بڑے پیمانے پر ہر سال آمدورفت بڑھتی جا رہی ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے۔

کسی بھی جمہوری ملک کی طرح ہمارے ملک میں بھی قانون اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایک مفسل لسٹ موجود ہے مگر تمام ادارے ملک میں امن و ایمان قائم کرنے میں ناکام ہیں۔ قانون اور نظام میں بے شمار وسائل موجود ہیں۔ جرائم میں شدت سے اضافہ ہو رہا ہے۔موجودہ حالات میں دہشت گردی سے سٹاک مارکیٹوں میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہو چکی ہے ۔
روزمرہ کی ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کا سامنہ ہے جس سے تمام ملک کو مشکلات کا سامنہ ہے۔
حکومت اداروں کو منظم کرنے میں ناکام رہی ہے،ملکی اثاثوں کی کمی کی وجہ سے ملک میں فنڈز کی قلت ہے جس کے منفی اثرات کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے تکمیل تک پہنچ ہی نہی پاتے،حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے اداروں کوغیر ملکی سرمایہ دار وں کو بیچا جا رہا ہے،مارکیٹ میں مصنوئی قلت پیدا کر کے اشیا ء کو مہنگا کر دیا جاتا ہے، اور اجارہ داری کے منصوبوں کے تحط کمیشن لے کر ڈیل کی جاتی ہے اور آخر میں تمام بوجھ صارف کو ہی اٹھانا پڑتا ہے یہی وجہ مہنگائی اور غربت میں مزید اضافہ کا باعث بنتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ان بے ضابطگیوں کو غور طلب فیصلوں سے حل کیا جائے۔ہماری قوم کی خوش قسمتی ہے کہ کوئی بھی مسئلہ ایسا نہی جس کا حل موجود نہ ہو مگر بد قسمتی اس بات کی ہے کہ ہم اپنی اصلاح کرنا ہی نہی چاہتے اور بد کردارموروثی سیاست دانوں کو ووٹ دے کر کامیاب کرواتے ہیں،اگر آج بھی ہم نے کوئی سنجیدہ قدم نہ اتھایا تو ہم لوگ کبھی بھی اس مہنگائی اور غربت سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔

پیپلز پاڑٹی حکومت نے عوام کی افلاح و بہبود کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا لیکن اس سے کسے فائدہ ہوا؟ اگر اس فنڈ کا 40فیصد انتظامی امور پر خرچ ہی جانا ہے تو باقی 60فیصد فنڈکی تقسیم بھی کوئی شفاف نہیں ہے کہ وہ ضرورت مندوں تک پہنچ سکے۔اس رقم کا ایک اندازہ کے مطابق 30فیصد ہی ضرورت مندوں تک پہنچتا تھا۔
پنجاب حکومت نے پہلے بیڑہ اٹھایا کہ سستی روٹی دی جائے۔
اس کے لیے انہو ں نے فلو ملز کو سبسڈی دے کر آٹا سستے داموں تندور کو مہیا کروایا کہ وہا ں سے لوگ 2روپے کی روٹی حاصل کر سکیں لیکن اس میں بھی شفافیت نہ آ سکی۔ہر فلور ملز میں 100فیصد سبسڈی والے تھیلے بنتے تھے۔جن میں سے فیکٹری سے نکلتے ہی یہ تھیلے صرف90فیصد رہ جاتے تھے۔فوڈز کنٹرولز کی مدد سے باقی 90فیصد آٹا تندوروں تک آتا تھا تو اس میں سے 20فیصد آٹا وہ بلیک میں فروخت کر دیتے تھے باقی تندوروں میں روٹی کی شکل میں دستیاب ہوتا ہے۔
لیکن وہ روٹی جو 2روپے کی ہونی چاہیے وہ غریب بندے کو پھر بھی دو روپے کی نہیں ملتی ہے۔ بلکہ جو دال کی پلیٹ پہلے 10سے 15روپے کی ملتی تھی اب وہ 35سے40روپے کی خریدنے پر عوا م دو روپے کی روٹی خرید سکتی ہے یعنی عوام کو پھر بھی وہ روٹی تقریبا 5روپے کی ملتی تھی۔اس سے غریب آدمی کو ہر گز کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔
چینی کا بحران تو حکومت اور اپوزیشن کا اپنا پیدا کردا ہے کیوں کہ اس میں تو صدفی صد ان کا اپنا مفاد تھا کیوں کہ ساری شوگر ملز انہیں سیاسی ارکا ن کی ہیں جو پارلیمنٹ میں بیٹھی ہیں کیا کبھی ایک شاگر مل مالک چاہے گا اس کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
عوام نے عدلیہ کو اپنی امید کا کرکز سمجھا اور تپتی دھو پ میں اس کی بحالی کے لیے پسینہ بھی بہایا اور خون بھی بہایا لیکن کیا ملا نہ تو انصاف اور نہ ہی اپنا بنیادی حق۔حکومت سے تو امید عوام کی ٹوٹی ہی تھی لیکن عدلیہ نے بھی اخیر کردی اور چوں چوں کے اس مربے میں حصہ دار بن گئی۔ عوام کو راضی کرنے کے لیے جج از خود نوٹس تو لے لیتے ہیں لیکن پھر اس کو اگلی تاریخ ڈال کر لوٹ کھسوٹ کا موقع دے دیتے ہیں۔
جس چیز کا فیصلہ تین دن کی کاروائی میں ہو سکتا ہے اس کے لیے تین ماہ کی تاریخ دے دینا کہاں کی عقلمندی ہے۔ سابقہ چیف جسٹس افتخار محمد چاہدری کے دور میں پٹرول 56روپے لیٹر تھا جب اس پر چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے کاروائی کی پھر اس کی کاروائی کو آگے ڈال دیا اور کوئی فیصلہ نہ دیا اور تین سے چار ماہ لٹکا رکھا جس کے نیچے پٹرول کی قیمت ایک ڈالر سے بھی زیادہ ہو گئی۔
عوام اب بھی جان لیں یہ حکومت اور ایلیٹ کلاس‘بیوروکریٹس کبھی بھی آپ عوام کا بھلا نہیں سوچیں گے جب تک اس ملک میں خونی انقلاب نہی آئے گا جب تک عوام سڑکوں پر نہ نکلے گی،جب تک عوام ان نام نہاد لیڈروں سے جان نہیں چھڑوالیتی۔
وقت اشاعت : 2014-07-24

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں