تازہ ترین : 1
Pakistan Ka Muashi Markaz Taliban K Qabze Main

پاکستان کا معاشی مرکز طالبان کےقبضہ میں ملک بھرمیں دہشتگردی کیلئےفنڈزکراچی سےجاتےہیں!

کراچی میں طالبان کے تین گروہ سرگرم ہیں جو الگ الگ رہنماوں کے وفادار ہیں۔۔۔ بعض علاقوں میں یہ فرقہ وارانہ تنظیموں کے ساتھ ملکر کارروائیاں کر رہے ہیں

کامران امجد خان :
تحریک طالبان پاکستان کا نام عموماََ قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخوا میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کے ساتھ جوڑا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس تنظیم نے ملک بھر میں دہشت گردی کی وارداتوں کے لیے فنڈز کے حصول کا ذریعہ کراچی کو بنا رکھا ہے۔ کراچی کے بنکوں میں لوٹ مار کی بڑھتی وارداتوں کے علاوہ اغواء برائے تاوان ، بھتہ خوری اور عام لوٹ مار سے بھی حاصل ہونے والا سرمایہ دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
کراچی میں تحریک طالبان پاکستان کی پناہ گاہیں ہیں جہاں وہ قبائلی علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی طرف سے کارروائیوں سے بچنے کے لیے پناہ لینے کے لیے آئے تھے مگر اب اس شہر میں جہاں پختون باشندوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے، آہستہ آہستہ طالبان کے تین گروہوں نے متعدد علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ عمل گزشتہ نصف صدی سے جاری ہے جس کے اثرات شہر قائد کے ساتھ ملک بھر پر مرتب ہو رہے ہیں۔

کراچی کی موجودہ صورت حال کی کڑیا ں2007ء کے سوات آپریشن سے جا ملتی ہیں۔ اس آپریشن کے نتیجے میں ہزاروں لوگ اپنے گھر کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان جنگ زدہ علاقوں کے لئے کراچی کا انتخاب قدرتی تھا، سوات کے ان بے گھر لوگوں کے عزیز رشتہ دار بھی چونکہ بڑی تعداد میں کراچی میں موجود تھے لہٰذا یہ لوگ محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں کراچی جا بسے۔
2009ء میں ان بے گھر افراد کے بھیس میں سوات ، جنوبی وزیرستان ، مہمند ایجنسی ، باجوڑ، دیر اور دیگر مقامات سے بھی شدت پسند کراچی میں پناہ لینے لگے۔ ابتدا میں ان شدت پسندوں نے مقامی لوگوں میں گھلنے ملنے کی پوری کوشش کی ، اپنی داڑھیاں منڈوا لیں ، بال کٹوا لیے اور غریب محنت کشوں کے ساتھ ملکر مزدوری کرنے لگے ۔ یوں چھپتے چھپاتے وہ اپنے نیٹ ور کا دائرہ پھیلانے کے لیے مناسب وقت کا انتظار کرتے رہے۔
کراچی میں اُن دنوں بھی طالبان کے کچھ چھوٹے گروہ پہلے سے مصروف عمل تھے جن کا کام اپنے مرکزی گروہوں کے لیے فنڈز کا اہتمام کرنا تھا ۔ یہ گروہ زیادہ تر بینک لوٹنے کی وارداتوں میں ملوث تھے، اُس وقت تک اُنہوں نے دیگر جرائم کی ابتدا نہیں کی تھی۔ مگر بعدازاں اُنہوں نے کراچی کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے قتل وغارت بالخصوص سیاسی بنیادوں پر لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔

جب تحریک طالبان پاکستان کراچی میں داخل ہوئی تو اسے شہر سیاسی و نسلی منافرت کا شکار ملا۔ اُس وقت پولیس اور سیاسی جماعتوں کے لے ” ٹارگٹ کلنگ“ کی وارداتوں کونسلی فسادات کا نام دینا بے حد آسان تھا چنانچہ جب طالبان گروہوں نے کراچی میں اپنی کارروائیوں کا آغاز کیا تو ان نسلی فسادات کی وجہ سے کسی کا دھیان ان کی طرف نہیں گیا۔ جب ایم کیو ایم نے 2010ء اور 2011ء مین خبر دار کیا کہ تحریک طالبان پاکستان کراچی میں اپنا اثرورساخ بڑھا رہی ہے تو کسی نے اس طرف توجہ نہیں دی ، اب صورت حال یہ ہے کہ شہر کے بڑے حصے پر طالبان کا قبضہ ہے۔
معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق طالبان پاکستان کے معاشی مرکز کراچی پر اپنی گرفت پوری طرح مضبوط کر چکے ہیں۔ شہر کے تقریبا ایک تہائی حصے پر طالبان کا مکمل کنٹرول ہے، جہاں قریب 25لاکھ لوگ آباد ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق پختون آبادی والے تمام علاقوں میں طالبان نے اپنا کنٹرول کر لیا ہے جبکہ دیگر علاقوں میں بھی وہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایک اور المیہ یہ ہے کہ بعض علاقوں میں طالبان کے مختلف گروہوں نے کالعدم فرقہ وارنہ تنظیموں سے اتحاد کر لیا ہے اور ان کے ساتھ ملکر فرقہ وارانہ قتل و غارت میں بھی ملوث ہیں۔ ان کے زیر اثر علاقے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی بے حد خطر ناک بن چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماوں ، پولیو ویکسین پلانے والے کارکنوں اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں کے لئے بھی ان علاقوں میں جانا بہت خطر ناک ہو چکاہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے تین گروہ اس وقت کراچی میں مصروف عمل ہیں۔ ان میں محسود گروپ، سوات گروپ اور مہمند گروپ شامل ہیں ۔ کراچی میں سب سے زیادہ مضبوط اور بااثر تحریک طالبان پاکستان محسود گروپ ہے۔ ان کے بھی دو ذیلی گروہ کراچی میں کام کر رہے ہیں۔ ایک گروہ سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کا وفادار ہے جبکہ دوسرا جنوبی وزیرستان میں تحریک کے سربراہ ولی الرحمن محسود سے وفاداری کا دم بھرتا ہے۔
تحریک طالبان پاکستان (سوات) گروپ میں زیادہ تر سوات سے تعلق رکھنے والے طالبان شامل ہیں جو سوات میں تحریک کے رہنما مولانا فضل اللہ کے وفادار ہیں۔تیسرا گروہ یعنی تحریک طالبان پاکستان(مہمند) گروپ اپنی مہمند ایجنسی میں موجود مرکزی تحریک کے لیے فنڈز کا اہتمام کرنے کیلئے سرگرم ہے۔ یہ تحریک طالبان پاکستان مہمندکے سربراہ عبدالولی کے وفادار ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان کے تمام گروہ کئی برس سے کراچی میں بھتہ خوری ، اغوا برائے تاوان ، بنک ڈکیتیوں ، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم میں ملوث ہیں۔ طالبان گروہ انتہائی منظم طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے تمام صاحب ثروت لوگوں کے بارے میں تفصیلات جمع کر رکھی ہیں اور بھتہ خوری کے لئے ” شکار “ کی دولت کے مطابق رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
مطالبہ پورانہ ہونے پر دستی بموں سے حملہ عام کارروائی ہے جبکہ انتہائی طورانکار کرنے والوں کے بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستانی حکا م کی طرف سے تحریک طالبان پاکستان کے غیر فنڈز کے ذرائع بند کیے جانے کی وجہ سے طالبان کو فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے جسے پورا کرنے کے لیے وہ بڑے شہروں میں جرائم پر مبنی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔
یہ سرگرمیاں ملک کے دوسرے شہروں میں بھی کی جاتی ہیں ، جہاں کئی اہم ملکی اور غیر ملکی شخصیت کو اغوا کیا جا چکا ہے۔ تاہم زیادہ تر وارداتوں کا مرکز کراچی ہی ہے۔
اپنے اثرورسوخ اور کنٹرول کو قائم رکھنے کے لئے تحریک طالبان پاکستان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ بھی تیز کر دیاہے۔ حالیہ ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران رینجرز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بے شمار مشتبہ افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ کرتے ہوئے اُن کا تعلق کالعدم تنظیموں اور طالبان گروہوں سے بتایا ہے مگر مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار آپریشن کے دوران بے شمار معصوم اور بے گنا ہ افراد کو پکڑ کر لے جاتے ہیں جبکہ شدت پسند اُن کے آنے سے پہلے ہی علاقے سے نکل جاتے ہیں۔

کراچی بلاشبہ پاکستان کا اہم ترین شہر اور معاشی مرکز ہے، اس شہر میں اس وقت خوف ، دہشت اور جرائم کے غلبے کی صورت حال ہے، اس سے پورا ملک متاثر ہو رہا ہے۔ دوسرے صوبوں میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے کراچی کو فنڈز کے حصول کا ذیعہ بنایا گیا۔ ٹارگٹڈ آپریشن بلاشبہ ایک موثر طریقہ ہو سکتاہے مگر اس کی کامیابی میں سب سے اہم کردار عوام اور مقامی لوگوں کا ہے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ ان منظم جرائم پیشہ گرہوں بالخصوص تحرک طالبان پاکستان کے خلاف موثر کارروائی کے لئے عوام کا اعتماد حاصل کریں اوران کی حمایت سے آپریشن کریں ۔ تب ہی یہ آپریشن سودمند ثابت ہو سکے گا اور شہر قائد کو امن و استحکام نصیب ہو سکے گا۔
وقت اشاعت : 2014-04-02

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں