بند کریں
اتوار مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستان کا دفاعی بجٹ
ایک بین الاقوامی ادارے کی 2014ء کی رپورٹ کے مطابق ایشیاء نے 2013ء میں 2010ء کی نسبت 11.6 فیصد زیادہ دفاعی بجٹ استعمال کیا ہے۔ اب ایشیاء میں طاقت کی نئی دوڑ شروع ہونے کا مکمل امکان موجود ہے
فاطمہ گیلانی:
اپنے دفاع سے غافل ہوکر کوئی ملک اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا۔ مضبوط دفاع ہی ملک کی سالمیت کی ضمات ہوتا ہے اور اس کے سبب اقتدار اعلیٰ سمیت ملک کے تمام معاملات خوش اسلوبی سے انجام پاتے ہیں۔ پاکستان کے دفاع کی بات کی جائے تو بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات کے پیش نظر ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا ہے اور پاکستان کے دفاعی منصوبہ ساز اس بات پر غور کررہے ہیں کہ کس طرح دفاع وطن کو اندرونی ا وربیرونی طور پر مضبوط کیا جاسکتاہے۔

افغانستان سے متوقع امریکی فوجوں کے انخلاء اور ایشیاء کے حوالے سے امریکہ کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی ایشیاء کی فوجی طاقت او دفاع پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے جس کیلئے دفاع بجٹ میں اضافہ ضروری سمجھا جارہا ہے اور اس کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے تو پاکستان کا ہمسایہ ملک بھارت ہی اس کیلئے سب سے زیادہ اور بڑے مسائل کھڑے کرتا رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان اگرچہ سیز فائر کا معاہدہ موجودہے لیکن بھارت جب دل چاہے اس معاہدے کی شرمناک انداز میں خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا رہتا ہے ۔ کبھی سیالکوٹ سیکٹر پر فائرنگ، کبھی واہگہ بارڈر اور اسی طرح دوسرے بارڈرز پر جو انڈیا سے ملحق ہیں پر ہمیں اکثر بھارتی جارحیت کا سامنا رہتاہے۔ ہر چند کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہے لیکن اس کے باوجود اسے مضبوط تر بنانے کی ضرورت ہے ۔
پاکستان ایٹمی پاور ہونے کے باوجود ایک پرامن ملک ہے جس نے امن کے فروغ کیلئے بھارت کے ساتھ مذاکراتی عمل کو ہمیشہ ترجیح دی ہے۔
ایک بین الاقوامی ادارے کی 2014ء کی رپورٹ کے مطابق ایشیاء نے 2013ء میں 2010ء کی نسبت 11.6 فیصد زیادہ دفاعی بجٹ استعمال کیا ہے۔ اب ایشیاء میں طاقت کی نئی دوڑ شروع ہونے کا مکمل امکان موجود ہے کیونکہ بھارت میں حالیہ انتخابات کے نتیجے میں انتہا پسند ہندو جماعت، بی جے پی اقتدار سنبھال چکی ہے اور اس کے منشور میں دفاعی اور ایٹمی ٹیکنالوجی کو بڑھانا سر فہرست ہے۔
رپورٹس کے مطابق نریندر مودی 200بلین ڈالر اس مقصد کیلئے استمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہ ٹیکنالوجی نہ صرف بھارت کے دفاع کیلئے استعمال کی جائے گی بلکہ اسے برآمد بھی کیا جائے گا۔ اس لیے پاکستان کیلئے بھی یہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی ہتھیار اور عسکری صلاحیت کو مضبوط کرنے کیلئے ناصف دفاعی بجٹ میں اضافی کرے بلکہ ہر سطح پر ایسے موثر اور ٹھوس اقدامات بھی کئے جائیں جو دفاع وطن کو حقیقی معنوں میں ناقابل تسخیر بنانے کیلئے ضروروی ہیں۔

دہشتگردی کے خلاف جنگ کی صورت میں پاکستان کو دوسرا بڑا چیلنج درپیش ہے۔ ہمارے شمال مغربی ہمسایہ ملک افغانستان سے نیٹو اور امریکی فورسز کا مکمل انخلاء 2016ء میں متوقع ہے۔ اس سلسلے میں بھی امریکہ کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور پالیسیاں اکثر پاکستان کیلئے مسائل پید اکرتی ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان کو اپنی افواج کے تینوں بنیادی شعبہ جات، برّی، بحری اور فضائیہ کی تعمیر و ترقی او آپریشنل صلاحیتوں کو بہتر سے بہترین بنانے اور اعلیٰ ترین پیشہ وارانہ معیار کو برقرار رکھنے کیلئے دفاعی بجٹ میں اضافہ ضروری ہے۔

دہشت گردی کی جب میں پاکستان اندرونی طور پر بھی متاثر ہورہا ہے۔ فاٹا، وزیرستان، خیبر ایجنسی کے علاقوں کے علاوہ کراچی اور دوسرے کئی شہر بھی دہشتگردی کی لپیٹ میں ہیں۔ خود کش دھماکے اور فائرنگ کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان تمام مسائل سے نمٹنے کیلئے بھی پاکستان کے پاس جدید ٹیکنالوجی اور حکمت عملی کا ہونا ضوری ہے ۔ پاکستان کو اندرونی طور پر جن دفاعی خطرات کا سامنا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ اب تک دہشتگردی کے واقعات میں پاکستان کے 40ہزار سے زائد بے گناہ معصوم شہری اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں سکیورٹی اداروں کے افسر اور جوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرچکے ہیں۔
محتاط ترین ادازے کے مطابق دہشت گردی کی وارداتوں کے نتیجے میں ملک معاشی لحاظ سے 100ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کرچکا ہے۔
اس ساری صورتحال سے نمٹنے کیلئے سب سے پہلے تو پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے کیلئے واضح اور جامع حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی اور اسی حکمت عملی کے تحت اپنے دفاع کیلئے دو ٹوک معوقف اپنا کر خارجہ پالیسی کا تعین کرنا ہوگا تاکہ ملکی سالمیت اور قومی وحدت کو کسی قسم کے ناقابل تلافی نقصان سے بچایا جاسکے۔
اس سلسلے میں ایٹمی طاقت اور ہتھیار اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ بھارت کی ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کیلئے بھی ایٹمی طاقت کے طور پر ابھرنا ناگزیر ہوگیا تھا اور یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ پاکستان دنیا کا ساتواں اور اسلامی ممالک میں سے پہلا اور واحد ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک ہے اس لئے دفاعی مقصد کے پیش نظر وہ ملکی سالمیت کیلئے خارجی تعلقات میں سب سے نظر ملاکر دو توک موقف اپنا سکتاہے۔
اپنی دفاعی استعداد کو ان مقامات پر بڑھانا ہوگا جہاں سے پاکستان کو خطرات کاس سامنا ہے اور اس مقصد کیلئے نہ صرف ٹیکنالوجی کو جدید کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کیلئے پاکستان کی دفاعی افواج کی تربیت اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے جس کیلئے آرمڈ فورسز کے بجٹ کو بڑحانا ناگزیر ہوگای۔
پاکستان کے دفاعی بجٹ میں 2013ء سے قبل پانچ سال تک کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔ پاکستان نے اپنا دفاعی بجٹ 2013/2014ء میں 6.12 بلین ڈالر سے 6.45بلین ڈالر تک بڑھایا ہے جبکہ بھارت نے 2004/05ء مین ہی اپنے دفاعی بجٹ میں دو گنا اضافہ کردیا تھا اور دستیاب اطلاعات کے مطابق بھارت اپنے دفاعی بجٹ میں متواتر اور بتدریج اضافہ کررہا ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ بھارت اس وقت دنیا بھر میں غیر ملکی اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے۔
پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے کیونکہ یہاں مہنگائی کو ہی کنٹرول نہیں کیا جارہا تو دفاعی بجٹ کیسے بڑھ سکتا ہے۔
دفاعی بجٹ کو بڑھا دینا ہی صرف مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ پاکستان کی سکیورٹی کیلئے اس جیو پولیٹیکل اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہمارے دفاع میں اس کی اہمیت مسلمہ ہے تاہم پچھلے کچھ عرصہ میں دفاعی بجٹ بہت کم رہا ہے۔
جبکہ ہماری علاقائی، بین الاقوامی، اندرونی اور بیرون سکیورٹی کو متوازن رکھنے کیلئے دفاعی بجٹ میں اضافہ ضروری ہے تاکہ جدید رجحانات اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے دفاعی کو ناقابل تسخیر بنایا جاسکے۔
ملک کے دفعی بجٹ میں اضافے کو بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن اگر ہم ملک کی دفاعی ضروریات اور اس کی جغرافیائی اہمیت اور اس کو پیش نظر خطرات کو ملحوظ کاطر رکھاجائے تو تنقید کود بخود بلا جواز اور بے معنی قرار پاتی ہے۔
ہمیں آج اپنی سلامتی کے حوالے سے جن خطرات کا سامنا ہے ان کے حساب سے ہمارا دفاعی بجٹ ناکافی ہے۔ ہم خطے بلکہ دنیا کے زمینی حقائق کو نظر انداز کرنے کے ہر گز محتمل نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ ہماری بقا کامعاملہ ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-09

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان