بند کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستان کے میگا منصوبے
وطن عزیز میں تیل، گیس، کوئلہ اور بجلی کی پیداوار کے وسیع قدرتی وسائل موجود ہیں۔ بلوچستان میں شہ رگ، کولپور، سندھ میں تھر کے ریگستان ، پنجاب میں چکوال کے قریب کوئلہ کے وسیع ذخائر ہیں۔ مقامی کوئلہ کو پراسس کرنے کے بعد تھرمل بجلی گھروں میں ایندھن کے طور پر استعمال کرکے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے
عبدالرزاق بگٹی:
کوئلہ‘ تیل‘گیس اور بجلی توانائی کے وہ ذرائع ہیں جن پر ملکی معیشت کی کچھ ترقی، عوام کی خوشحالی اور جدید دور کی پرآسائش زندگی کا دارومدار ہے۔ وطن عزیز میں تیل، گیس، کوئلہ اور بجلی کی پیداوار کے وسیع قدرتی وسائل موجود ہیں۔ بلوچستان میں شہ رگ، کولپور، سندھ میں تھر کے ریگستان ، پنجاب میں چکوال کے قریب کوئلہ کے وسیع ذخائر ہیں۔
مقامی کوئلہ کو پراسس کرنے کے بعد تھرمل بجلی گھروں میں ایندھن کے طور پر استعمال کرکے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ کوئلہ کے کانوں کے قرب و جوار میں یعنی مائین ماوٴتھ کے قریب بجلی گھر تعمیر کئے جائیں تو بجلی سستی ہو گی۔ پاکستان میں دریا بلندی سے نیچے کی طرف رواں رہتے ہیں۔ انکے بہاوٴ میں اتنی تیزی ہے کہ مختلف مقامات پر مجموی طور پر ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا ہو سکتی ہے۔
لہٰذا کاسا 1000 منصوبہ کے انفراسٹرکچر کی تعمیر پر اٹھنے والے اخراجات کی رقم سے ایک ہزار میگاواٹ استعداد کا پن بجلی گھر تعمیر ہو سکتا ہے جس سے مستقبل میں سستی بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔ صوبہ بلوچستان میں پنجگور، لسبیلہ خاران اور قلات، جنوب مشرقی سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں تیل کے کھربوں بیرل اور گیس کے کھربوں مکعب میٹر کے ذخائر موجود ہیں۔
موجودہ مقامی گیس کی پیداوار تقریباً چار ہزار ایم ایم سی ایف ڈی سے زیادہ ہے مگر پوری مقدار کو صاف کرکے استعمال نہیں کیا جا رہا۔ سولہ ارب ڈالر کی ایل این جی گیس کی خریداری کا معاہدہ قطر سے کیا جا رہا ہے جو کئی برسوں پر محیط ہے۔ یہ رقم DGDC اور PPL کے مقامی اداروں کے ذریعے خرچ کی جائے تو پاکستان میں تیل کی درآمد میں واضح کمی ہو گی اور گیس بھی ملک کے گھریلو اور صنعتی استعمال کی ضروریات سے کئی گنا زیادہ ہو جائیگی۔
اس طرح نہ تو قطر سے ایل این جی درآمد کرنے نہ ہی (TAPI) تاپی گیس درآمد کی ضرورت ہو گی۔ کراچی میں پانی کی قلت شدید بحرانی صورت اختیار کر چکی ہے، اسکے ساتھ حکومت سندھ نے گھارو سے کیٹی بندر تک ذوالفقار آباد شہر آباد کرنے اور کیٹی بندر کو ترقی دیکر کراچی کے مقابل بندرگاہ کا منصوبہ بنایا ہے۔
کراچی سے کیٹی بندر تک سمندر کے ساحل پر انسانی آبادی اور صنعت کے استعمال کیلئے پانی کی ضروریات کہاں سے پوری ہو سکیں گی۔
ڈیسی لینشن پلانٹ کے ذریعے سمندر کے پانی کو قابل استعمال بنا کر چھوٹی آبادی کے استعمال کیلئے مہیا کیا جا سکتا ہے مگر کروڑوں کی آبادی کیلئے ایسا کرنا ممکن نہیں۔ سعودی عرب میں دْبا اور ہنبوع کے ساحلی شہروں کو ڈیسی لینشن پلانٹ کے ذریعے پانی مہیا کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں شہر ملا کر بھی آبادی کے لحاظ سے کراچی ڈی ایچ اے سے چھوٹے ہیں۔ چاہئے تو یہ کہ جہاں پر دریائے سندھ سمندر میں داخل ہوتا ہے اس سے پہلے دریا کے بہاوٴ پر ایک اسپل وے تعمیر کیا جائے اور اس پر جہاز رانی کیلئے ریور لاک بھی بنایا جائے۔
اسپل وے اتنا بلند ہو کہ دریائے سندھ کا پانی اسکے اوپر سے سمندر میں داخل ہو سکے مگر سمندر کا پانی دریاوٴں میں داخل نہ ہو سکے۔ یوں دریائے سندھ کیٹی بندر سے کوٹٹری تک ایک جھیل کی صورت اختیار کر لے گا۔ اس جھیل میں کیٹی بندر سے کوٹٹری تک جہاز رانی بھی ہو گی۔ دریا کے دونوں کناروں پر دور تک زیر زمین پانی بھی میٹھا ہو گا اور انسانی آبادی اور صنعت کے استعمال کے قابل ہو گا۔

جھیل سے نہریں تعمیر کرکے پانی کو ضلع ٹھٹہ کے سمندر کے ساحل پر شجرکاری اور کاشتکاری کیلئے استعمال کیا جا سکے گا اور کراچی، ذوالفقار آباد اور کیٹی بندر کے علاوہ کوٹٹری تک دریائے سندھ کے قرب وجوار میں شہری آبادی اور صنعت کے استعمال کیلئے وافر پانی موجود ہو گا۔ لاہور میں زیر زمین پانی کی سطح بہت نیچے جا چکی ہے اور اس پانی میں آرسینک (سنکھیا زہر) موجود پایا گیا ہے۔
اگر دریا راوی پر لاہور سے نیچے بہاوٴ پر چھوٹا بند بنایا جائے اور لاہور سے اوپر بہاوٴ تک دریا کے دونوں کناروں کو بلند کیا جائے تو پانی میں رکاوٹ کے بدولت دریائے راوی میں جھیل بن سکتی ہے۔ اس جھیل بننے کی وجہ سے دریائے راوی کے دونوں کناروں پر زیر زمین پانی کی سطح بلند ہو گی اور آرسینک سے پاک صحت بخش پانی شہری آبادی کے استعمال کیلئے ملے گا۔
اسکے علاوہ شہر کے گردونوح میں کھدائی کرکے گہری جھیلیں بنائی جائیں اور شہر میں ہونیوالی بارش کے پانی کو علیحدہ چینلز کے ذریعے ان جھیلوں میں پہنچایا جائے۔ یہ جھیلیں بھی زیر زمین پانی کی سطح کو بلند کرنے میں معاون ہونگی۔
ماضی میں صدر جنرل محمد ایوب خان نے سندھ طاس معاہدہ کے تحت پاکستان کے تین دریا کلی طور پر انڈیا کو دے دیئے تھے۔
ان دریاوٴں کو انڈیا کو دیئے جانے کے باعث زراعت کیلئے پانی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے عالمی بنک اور دیگر ممالک سے رقم مہیا کی گئی تاکہ منگلا ڈیم اور کالا باغ ڈیم تعمیر کئے جائیں اور پھر منگلا ڈ یم کو مزید 50 فٹ بلند کرکے پانی کے ذخیرہ میں اضافہ کیا جائے۔ امریکہ نے یو ایس ایڈ کے تحت رقم فراہم کی کہ تربیلا ڈیم تعمیر کیا جائے۔ مگر واپڈا کے چیئرمین غلام اسحق خان کے مشورے پر دریاوٴں کے بدلے ڈیمز کی تعمیر کے معاہدہ میں سے کالا باغ ڈیم (6.1maf) اور منگلا ڈیم کو بلند کرنے (3.5MAF) کے منصوبوں کو خارج کیا گیا اور ان دونوں منصوبوں کی جگہ تربیلا ڈیم (9.7maf) کو شامل کیا گیا۔
تربیلا ڈیم کیلئے مختص یو ایس ایڈ کی رقم کو صدر ایوب خان نے دیہی ترقی کے پروگرام بجلی کی ٹرین چلانے اور دیگر کاسمیٹک ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کر لیا تاکہ ”ترقی کا عشرہ“ کا پرچار کرکے آئندہ کیلئے انتخابات جیت کر صدر بن جائیں۔ صدر ایوب خان کے اس عمل سے پاکستان 9.6maf کے پانی کے ذخائر سے محروم رہا‘ جس کا خمیازہ آج تک قوم بھگت رہی ہے۔
منگلا ڈیم کی ریزنگ (بلندی) 2009 میں اپنے ملکی وسائل سے مکمل کی گئی مگر کالا باغ ڈیم ابھی تک نہیں بن سکا۔ ملک کے مخلص منصوبہ سازوں کے سربراہوں اور حکومت کے سربراہ نے پنتالیس ارب ڈالر کے قرض کا بندوبست کیا ہے۔ کیا یہ رقم حقیقتاً مستقل فوائد کے حامل میگا منصوبہ جات پر خرچ ہونی ہے یا جزوقتی کاسمیٹک نوعیت کے منصوبوں پر خرچ ہونی ہے۔ کاش یہ رقم اوپر بیان کئے گئے میگا منصوبوں پر خرچ ہو سکے۔ کاش کہ کاسا 1000 اور تاپی گیس اور قطر سے ایل این جی کی درآمد کے منصوبے ترک کرکے غیر ممالک پر انحصار ختم کیا جا سکے۔ کاش ایسا ہو۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-11

(0) ووٹ وصول ہوئے