بند کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

فیصل آباد

پاکستان کے مانچسٹر میں دس عارضی مویشی منڈیاں لگ گئیں
شہر کو دوسرے علاقوں سے ملانے والی سڑکوں پر بھی جانوروں کا اژدھام۔۔۔۔ ان دس منڈیوں کے علاوہ بھی شہر کو دوسرے شہروں اورعلاقوں سے ملانے والی سڑکوں اور شاہراہوں پر قربانی کے جانوروں کی خرید وفروخت ہوتی رہتی ہے
احمد جمال نظامی:
بکرا عید کی آمد کے ساتھ ہی ملک کے تمام شہروں میں بکروں‘ دنبوں‘ گائے بھینس اور بچھڑوں کی آمد کاسلسلہ شروع ہوجاتاہے۔ اکثر مساجد جن کے ساتھ بچوں کوقرآن کی ناظرہ تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ‘ حفظ قرآن کرایاجاتاہے اور باقاعدہ ان مساجد کے ساتھ مدرسے بنے ہوئے ہیں ‘ ان مساجد کی طرف سے گائے کی قربانی میں حصہ ڈالنے کیلئے موجودہ قیمت مقرر کرکے نمازیوں اور گردو نواح کے مسلمانوں کو گائے کی قربانی کیلئے حصہ ڈالنے کی ترغیب دینے اور حصہ کی رقوم پیشگی وصول کرنے کااہتمام کیاگیاہے۔
قربانی کے جانوروں کی قیمتیںآ سمانوں سے باتیں کررہی ہیں۔ بکرے چھ سو روپے فی کلو کے حساب سے زندہ بکرے اور دنبے کو تول کر وصول کی جاتی ہے اور اس کے علاوہ بھی بکروں اور گائے بھینس کی بچھڑوں کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ یہ پہلا موقع ہے کہ متوسط طبقے کے افراد بھی‘ قربانی کرنے سے گریزاں ہیں۔قربانی کرنا سنت ابراہیمی ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام تقریباً ساڑھے چار ہزار سال قبل روئے زمین پر اللہ کے برگزیدہ پیغمبر تھے۔
ان کے والد گرامی اپنے شہر کے بڑے بت تراش تھے اور بت تراشی اس زمانے میں ایک مستند عقیدہ تھی لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام اکثر سوچتے تھے کہ انسانی ہاتھوں کے تراشے ہوئے یہ بت انسان کے معبود کیونکر ہوسکتے تھے۔ انہوں نے بہت سوچا کہ اس کائنات کامالک کون ہے۔ کیا روئے زمین پر رہنے والوں کا رب عظیم کوئی ایسی طاقت ہوسکتی ہے جو انسان کو دیکھنے پرنظر آتی ہو لیکن وہ اس نتیجے پرپہنچے کہ اس کائنات کا خالق نہ تو کوئی پہاڑہوسکتاہے ‘ نہ سورج اور نہ ہی آگ۔
اس کائنات کوتخلیق کرنے والی ذات صرف وہی ہوسکتی ہے جس نے بنی نوع انسان کے علاوہ‘فرشتوں‘ جنوں‘ پہاڑوں‘ جنگلوں ‘ آگ ‘ سورج کو پیدا کیاہے جو طاقتور ‘ غیرمرئی حیثیت کی حامل یا قوی ہیکل ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام موجودہ ملک عراق کے ایک شہر ”اْور“ کے باشندے اور اہل فدان میں سے تھے،ان کی قوم بت پرست تھی۔ انہوں نے نوجوانی میں ہی ریاست ”اْور“ کے حکمران نمرود اور اپنے بت پرست باب کو چیلنج کیاکہ کوئی بت انسانوں کا رب نہیں ہوسکتا جس پر حاکم اور نمرود کے حکم پر انہیں آگ کے ایک آلاؤمیں پھینکاگیا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے بجائے گلزار بن گئی تاہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کواپنے آبائی مذہب کیخلاف ان دیکھے پروردگار کے اس کائنات کے خالق اور لائق پرستش ہونے کی بات کرنے پراپنا ملک چھوڑنا پڑا۔
وہ اللہ کو وحدہْ لاشریک سمجھتے تھے اور اسی کاپرچار کرتے تھے۔ اسی وجہ سے ان کامذہب ”دین حنیف“ کہلایا۔اس وقت ”دین حنیف“ ہی اسلام تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے 175سا ل کی زندگی پائی۔ ان کی دوسری بیوی حضرت ہاجرہ کے بطن سے ان کی پہلی اولاد حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی ولادت اس وقت ہوئی جب وہ 86برس کے تھے لیکن حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی ولادت پر ان کی پہلی بیوی حضرت سارہ حضرت ہاجرہ سے حسدو رشک میں مبتلا ہوگئیں جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم سے حضرت ہاجرہ اور ان کے شیر خوار بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو عرب کے اس علاقے میں یک وتنہا چھوڑ آئے جسے آج کل اْم القریٰ یا مکہ شریف کہتے ہیں۔
حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے اسی جگہ پرورش پائی ‘ یہاں خانہ کعبہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی ولادت کے14سال بعد حضرت سارہ کے بطن حضرت اسحق کی ولادت باسعادت سے نوازا۔انہوں نے قطورہ نامی ایک خاتون سے تیسری شادی بھی کی جس سے ان کے چھ اور بیٹے پیدا ہوئے۔مدان شہر ‘حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے مدان کے نام پر ہی قائم ہوا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کا دوست کہاجاتاہے۔ قرآن پاک میں اللہ نے حضرت ابراہیم کو سلیوٹ پیش کیاہے،یہ سب اس لئے تھا کہ وہ اللہ کے کسی بھی حکم پر قیمتی سے قیمتی شے نچھاور کرنے کیلئے تیارہوجاتے تھے۔ ابھی حضرت سارہ کے ہاں حضرت اسحق کی پیدائش بھی نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے تین راتیں‘ نیند میں مسلسل ایک خواب دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں چھری ہے اور وہ اپنے نوعمر بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو اس سے ذبح کررہے ہیں۔
انہوں نے اس خواب کو اپنے لئے اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھااور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو مکہ میں‘ حضرت ہاجرہ سے الگ لے جا کر اپنا خواب سنایا جس پرحضرت اسمٰعیل علیہ السلام اپناسرتسلیم کر دیا اورکہاکہ ابا جان اگر اللہ کی یہی مرضی ہے تو انشاء اللہ آپ مجھ کو صابر پائیں گے اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام بیٹے کو ساتھ لے کر اس علاقے کی طرف چلے گئے‘جومنٰی سے کچھ فاصلے پر موجود ہے(اور جس علاقے میںآ ج کل حج کے موقع پرلاکھوں حجاج کرام اپنے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں) باپ نے بیٹے کی مرضی پا کر مذبوح جانور کی طرح اس کے ہاتھ پیر باندھے اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹا کر ان کوذبح کرنے لگے۔
فوراً حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے بتایاکہ بے شک انہوں نے اپنے خواب کو پورا کردکھایا۔اللہ نے حضرت اسمٰعیل ط کی قربانی قبول کرلی ہے لیکن یہ قربانی جنت سے بھیجے گئے ایک مینڈھے کی گردن پرچھری پھرنے کے نتیجے میں مکمل ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے ذبح کرنے سے پہلے اپنی آنکھوں پرپٹی باندھ لی تھی تاکہ چھری چلاتے ہوئے بیٹے کی محبت غالب آجانے سے ان کا ہاتھ نہ رک جائے۔
انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحی کے آنے پرآنکھوں سے پٹی اتار کر دیکھا تومینڈھا ذبح ہوا پڑا تھا اور حضرت اسمٰعیل علیہ قریب کھڑے مُسکرا رہے تھے۔یہی وہ قربانی تھی جو اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں ایسی مقبول ہوئی کہ ہمیشہ کیلئے اللہ کا برگزیدہ نبی ماننے والوں کیلئے سنت ابراہیمی بن گئی۔ خانہ کعبہ کاحج‘ اور ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو تمام دنیائے اسلام میں کسی مینڈھے ‘دنبے‘ بکرے‘ گائے‘ بھینس یا اونٹ کی قربانی تمام دنیائے اسلام میں ”شعار“ ہے۔
سنت ابراہیمی کااتباع ہمارے دین اسلام میں ہر صاحب حیثیت مسلمان پر واجب ہے۔سنت ابراہیمی چونکہ تمام عالم اسلام میں نہایت ایمان افروز انداز میں منایاجانے والاشعار عظیم ہے‘ اس لئے دسویں ذی الحجہ کو مسلمان صرف‘ میدان عرفات سے واپسی پر‘ منٰی واپسی کے بعد ہی قربانی کی رسم ادا نہیں کرتے‘یہ دنیا بھر کے ممالک میں اداکی جاتی ہے اورپاکستان میں تومہنگائی کے اس طوفان میں بھی مسلمانوں کی طرف سے نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کے جد امجد حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس سنت کا اتباع کچھ اس اندز میں کیاجاتاہے کہ ہر گھر میں قربانی کاجانور نہ بھی ہو تو قربانی کاذکر ضرور ہوتاہے جومہنگے مینڈھے اور بکرے خرید کر ان کی قربانی نہیں کرسکتے۔
وہ گائے یا اونٹ کی قربانی میں حصہ ڈال کر سنت ابراہیمی کااتباع کرلیتے ہیں۔ایک گائے کو اللہ کی راہ میں ذبح کرنے سے سات اورایک اونٹ کو اللہ کی راہ میں ذبح کرنے سے سات قربانیاں ہوتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان دنوں ملک کا تیسرا بڑا شہر بھی بکروں‘ مینڈھوں‘ اونٹوں اور گائے بھینس کے بچھڑوں کی بہار کامرکز بنا ہواہے۔ فیصل آباد کے شہریوں کی آسانی اور شہر کوجانوروں کی غلاظت سے بچانے کیلئے شہر کی مختلف اطراف میں 10عارضی مویشی منڈیاں مقرر کردی ہیں۔
یہ عارضی مویشی منڈیاں لائلپور ٹاؤن کے علاقے میں ملت روڈ کے قریب دھنولہ‘ اقبال ٹاؤن میں سمندری روڈ روشن والا بائی پاس روڈ پرنیاموآنہ جناح ٹاؤن میں بیس لائن جواد کلب نڑوالا روڈ ‘ مدینہ ٹاؤن میں ستیانہ روڈ بائی پاس‘ جڑانوالہ ٹاؤن میں کرمانوالہ چوک‘ کینال روڈ اورنزد وسیم نالہ جڑانوالہ کھڑریانوالہ روڈ‘ سمندری ٹاؤن میں بالمقابل شہبازشریف پارک رجانہ روڈ‘ تاندلیانوالہ ٹاؤن میں مویشی منڈی محلہ شمس پورہ اور بنگلہ چوک بکرمنڈی ماموں کانجن اور چک جھمرہ ٹاؤن میں ریلوے گودام نزد ریلوے سٹیشن میں قائم ہیں۔
ان دس منڈیوں کے علاوہ بھی شہر کو دوسرے شہروں اورعلاقوں سے ملانے والی سڑکوں اور شاہراہوں پر قربانی کے جانوروں کی خرید وفروخت ہوتی رہتی ہے اور بہت سے جانوروں کے مالک اور تاجر‘ انتظامیہ کوغچہ دے کر اندرون شہر بھی بکروں‘ مینڈھوں اور بعض لوگوں کوگائے وغیرہ کے گلے میں رسی ڈالے لئے پھرتے نظر آتے ہیں۔ بہت سے لوگ قربانی کے جانوروں کا بھاؤ تاؤ کرتے نظر آتے ہیں لیکن خریدنے والوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔
چھوٹے سے چھوٹا بکرا اور دنبہ30ہزار روپے سے40ہزار روپے کے درمیان ملتاہے۔ اچھے ‘ صحت مند بکروں اور دنبوں کی قیمتیں ساٹھ ستر ہزار سے ڈیڑھ دو لاکھ روپے تک ہیں جبکہ چھوٹی سے چھوٹی گائے کی قیمت بھی پچاس ہزار روپے کے لگ بھگ ہے اور اکثر گائیں‘ لاکھ روپے سے تین چار لاکھ روپے میں فروخت ہورہی ہیں۔عیدالاضحی جو مسلمانوں کیلئے ایک تہوار بھی ہے۔
ملک کے غریبوں کیلئے اس تہوار پرگھرانوں میں مختلف جانوروں کی قربانی سے جو گوشت غریبوں اور مسکینوں کودیاجاتاہے۔ اس گوشت سے ان کے چولہے بھی کئی روز تک روشن رہتے ہیں۔ جو لوگ ایک سے زیادہ جانوروں کی قربانی کرتے ہیں‘ ان کے گھروں میں فریج اور فریزر میں ‘ گوشت آئندہ کئی کئی دنوں کیلئے محفوظ کرلیاجاتاہے۔وہ غریب لوگ جن کے پاس گوشت کوذخیرہ کرنے کی سہولت نہیں ہوتی‘ وہ عید الالضحیٰ اور اس کے دو روز بعد تک ہونے والی قربانیوں میں سے غریبوں کاحصہ طلب کرکے‘ اچھا خاصا گوشت جمع کرلیتے ہیں اسے خشک کرکے یا پکا کرمختلف طریقوں سے اپنے گھروں میں سٹاک کرلیتے ہیں۔
عید الالضحیٰ کی آمد آمد ہے اور ہر طرف قربانی کے جانوروں کی خریدو فروخت ‘ گھروں کے باہر دروازوں پربندھے بکروں اور بچھڑوں کو دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے عظیم ایثار اور قربانی کیلئے با پ کی بیٹے کو ذبح کرنے کیلئے آمادگی کے ایمان افروز مناظر ‘ اللہ پر بندے کی فدائیت کامنظر پیش کرتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-01

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان