تازہ ترین : 1
Pakistan Bepanah Salahtiyatain

پاکستان

پاکستان دفاعی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرکے د نیا کے کئی ملکو میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے مگر پاکستان کی صلاحیتوں اور اس کی کامرانیوں کو پس پشت ڈال کر اس کا تاریک چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے

وسیم بیگ:
پاکستان دفاعی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرکے د نیا کے کئی ملکو میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے مگر پاکستان کی صلاحیتوں اور اس کی کامرانیوں کو پس پشت ڈال کر اس کا تاریک چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ یہ حکومت ، سیاستدانوں اور میڈیا کی ناکامی ہے کہ پاکستان کی صلاحیتوں کو آشکار نہیں کرتے۔ پاکستان نے حال ہی میں چین کے اشتراک سے جنگی طیارہ جے ایف تھنڈر تیار کیا ہے جسے اب دوسرے ملکوں کو بھی فروخت کیا جاسکے گا۔
اس سے پہلے بھی پاکستان دنیا کے کئی ملکوں کو دفاعی وجنگی ہتھیار وٹیکنالوجی مہیا کر رہا ہے۔
پاکستان میں خیر کی خبر شاذونادر ہی سننے کو ملتی ہے لیکن چند روز قبل خبر سامنے آئی کہ چین پاکستان کے اشتراک سے تیار کردہ جنگی جہاز برآمد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس منصوبے پر آئندہ 5 برس میں کام مکمل کیاجائے گا۔ یہ ایک خوش کن خبر بلکہ خوشخبری ہے۔

برسوں قبل پاکستان نے اس وقت دنیا کو بھونچکا کر دیاتھا جس اس نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب میں ایٹمی دھماکے کیے تھے۔ 1980 ء تک پاکستان کی ایٹمی قوت محض مفروضوں اور اندازوں کی حد تک زندہ تھی لیکن 1998ء میں اس ایٹمی قوم پر مہر تصدیق ثبت کر دی گئی۔
ان مثالوں سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ جب پاکستانی قوم اپنے لیے کسی اعلیٰ مقصد کا تعین کر لیتی ہے تو پھر اس کے حصول میں کسی مشکل یا کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لاتی ۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی قوم نے ابھی تک ایک ترقی یافتہ ملک وقوم بننے کی بھر پور کوشش نہیں کی۔ بعض شعبوں میں نمایاں اور متاثرکن کامیابیوں کے باوجود مجموعی صورتحال کچھ زیادہ خوش کن دکھائی نہیں دیتی۔ پاکستان کے معاشی اور سماجی اعشاریوں کا تجزیہ مندرجہ بالا نتیجے تک ہی پہنچتا ہے۔ شرح خواندگی ،صحت اور غریب ترین پاکستانیوں کے بنیادی حقوق کی بات ہو تو پاکستان اس حوالے سے سب سے پیچھے والے ممالک کی صف میں کھڑا دکھائی دیتاہے۔
یہ غیر متاثر کن صورتحال بہت سے شعبوں میں پاکستان کی ناکامیوں کی داستان بھی سناتی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کا جذبہ اور بھر پور صلاحیت رکھنے کے باوجود پاکستان کی یہ حالت کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب سیدھا سادہ یا آسان نہیں ہے ۔ بہت سی وجوہات کے علاوہ ایک بڑی وجہ موثر قیادت کا فقدان بھی ہے۔حتیٰ کہ اس دور میں بھی حالات بہتر ہو رہے تھے لیکن نااہل قیادت ترقی کے اس عمل کو برقرار رکھنے اور عوام کی حالت میں مثبت تبدیلی پیدا کرنے میں یکسر ناکام رہی۔

جنرل مشرف کی آمریت کے خاتمے کے بعد سیاسی لوگ برسراقتدار آئے لیکن گزشتہ 4 برس سے سیاسی وجمہوری حکمرانوں نے بھی عوام کی حالت زار کو درست کرنے کے حوالے سے کسی قسم کی کوشش نہیں کی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ملک کی ایک تہائی آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبورہے۔ یہ ایک ایسے ملک کی کہانی ہے جو ایٹمی قوت حاصل کر چکا ہے اور اس کے بنائے ہوئے جنگی ہوائی جہاز عالمی منڈی میں فروخت کرنے کے منصوبے ترتیب دئیے جارہے ہیں اور اس کے باوجود اس ملک میں6 کروڑ سے زائد لوگ غذائیت کی کمی کا شکار ہیں اور انہیں زندگی کی بنیادی ضروریات بھی پوری کرنا نصیب نہیں ہوتا۔

موجودہ حکومت نے عوام کے ساتھ جو سلوک روا رکھا تو رکھا اس سے قبل جنرل مشرف کے دور میں بھی عوام کے لئے دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہہ رہی تھیں۔ بجاکہ مشرف کے دور میں معاشی ترقی کی شرح متاثرکن تھی لیکن عوام کے دن اس کے باوجود نہیں پھرے تھے۔ اس وقت بھی ملک کی ایک تہائی آبادی خط افلاس سے نیچے ہی زندہ تھی۔ مشرف ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ان کی معاشی پالیسیوں کے اثرات رفتہ رفتہ سامنے آئیں گے اور عوام کی حالت یقینا بدلے گی لیکن ان کا یہ دعویٰ خیال خام ہی رہا۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ موجودہ سیٹ اپ یا حکمرانوں پر تنقید کرنے والوں کو جمہوریت دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام کی حالت نہ مشرف کے دور میں تبدیل ہوئی تھی اور نہ ہی زرداری کے اور گیلانی کے دورمیں ، اور نہ ہی مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں یہ تبدیل ہوئی ہے اور اس صورتحال کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں ہے ۔ بڑے اور وسیع پیمانے پر معاشی اور سماجی اصلاحات نافذ کیے بغیر ملک وقوم کی حالت میں مثبت تبدیلی برپا کرنا ممکن نہیں ہے۔ ایٹمی ہتھیاراور لڑاکا طیارے ہمیں اس وقت تک طاقتور نہیں بنا سکتے جب تک ہم معاشی خود کفالت کی منزل نہیں پالیتے اور یہ کام موثر اور ہمدرر قیادت کے بغیر محال ہے۔
وقت اشاعت : 2014-10-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں