تازہ ترین : 1
Pak Baharat Aman Koshishain Kab Natija Khez Hoon gi

پاک بھارت امن کوششیں نتیجہ خیز کب ہوں گی؟

بھارت میں چونکہ انتخابی عمل شروع ہوچکاہے اور گزشتہ ریاستی انتخابات میں کانگریس بری طرح مات کھا چکی ہے

ڈاکٹر انور سدید:
ہماری قومی سیاست روز اول سے غیر ملکی حکومتوں کی نگاہ کرم کی شکار رہی ہے۔ اس کی اولین مثال خود برطانیہ ہے جس کے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے انڈین نیشنل کانگریس سے ملی بھگت کر کے مسلم اکثریتی علاقوں کو تقسیم کردیا۔ 1947ء سے قبل کی ہندوستانی سیاست ظاہر کرتی ہے کہ آزادی کی تحریک میں کانگریس کے لیڈر برملا کہتے تھے کہ ہندوستان میں صرف دو سیاسی طاقتیں موجود ہیں۔

اول برطانوی حکومت اور دوم انڈین نیشنل کانگریس ۔ اس آواز کیخلاف قائد اعظم نے بروقت احتجاج کرتے ہوئے برملا کہا کہ ہندوستان میں تیسری سیاسی وقت بھی موجود ہے جو آل انڈین مسلم لیگ ہے اور اس علیحدہ قومیت کے تحت قیام پاکستان کا مطالبہ منظور کرایا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندو لیڈروں نے اکھنڈ بھارت کے تصور سے کبھی روگردانی نہیں کی اور باؤنڈری کمیشن سے خط تقسیم اس طرح کھنچوایا کہ مسئلہ کشمیر پیدا ہوگیا۔
گزشتہ 66برس کے دوران ہندوستان کی مختلف حکومتوں نے اس قرار داد پر عملدرآمدنہیں کیا جبکہ دونوں ملکوں کی جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ 1947ء میں جو پاکستان معرض وجود میں آیا تھا وہ ٹوٹ چکاہے اور مخاصمت اور آویزش اس حد تک بڑھی کہ ہندوستان نے پاکستان کو نیست و نابود کر نے کیلئے ایٹم بم بھی بنالیا جس کے جواب میں پاکستان نے بھی دفاعی مقاصد کیلئے ایٹمی طاقت حاصل کی لیکن فضا کی کشیدگی کبھی ختم نہیں ہوئی۔

پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع ایسا ہے کہ امریکہ ، روس، چین ، برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک اس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کردکتے۔ برطانیہ نے تو اس ملک پر سو سال سے زیادہ عرصے تک حکومت کی۔ امریکہ نے پاکستان کی آزادی کے پہلے روز سے ہی اس میں دلچسپی لینا شروع کردی تھی۔ امریکہ نے افغانستان میں دو مرتبہ فوجی کارروائی کی تو پاکستان نے پہلے افغان جنگ میں امریکہ کی ”پراکسی وار“ لڑی اور نائن الیون کے بعد امریکہ کیساتھ جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا اور گزشتہ دس سال کے سیاسی واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ کا ساتھ دے کر پاکستان نے کتنا نقصان اٹھایا ہے اور اس کی قومی سیاست پر امریکی حکمران کسی منفی انداز میں اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔
حتیٰ کہ یہ تصور بھی پنپنے لگا کہ امریکہ پاکستان کیساتھ وہی سلوک کررہا ہے جو نوآبادیاتی غلاموں کیساتھ کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی قومی سیاست پر یہ اثر اندازی بے حد اہم ہے لیکن یہ آج کاموضوع نہیں ۔ آج کا موضوع بھارت ہے جہاں عام انتخابات ہونوالے ہیں اور اسی انتخابی جنگ میں پاکستان کے خلاف نفرت اور تقسیم ہند کے عناد کو خصوصی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ دونوں ملک ہمسائے ہیں۔ لیکن ہندوستانی سیاستدانوں کا رویہ ہمیشہ مخاصمانہ اور انتقامانہ رہا ہے۔ بھارت بغل میں ہمیشہ چھری دبائے رکھتا ہے اور منہ سے رام رام بھی کئے جاتا ہے۔ یہ رویہ نہرو نے پروان چڑھایا اور منموہن سنگھ بھی اس پر عمل کررہے ہیں۔ چنانچہ ستمبر 2013ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی ” سائیڈ لائن“ پر انکی وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات ہوئی تو دونوں ملکوں کے درمیان فوجی رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
چنانچہ 24دسمبر 2013ء کو پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان 14برس کے بعد ملاقات ہوئی تو یہ نیویارک میں نواز شریف اور منموہن سنگھ کی ملاقات کا ہی نتیجہ تھا۔
دونوں ملکوں کے ڈی ایم جی او کی ملاقاتوں کا معاہدہ 1990ء میں ہو اتھا اور آخری ملاقات 1999ء میں کارگل جنگ کے دوران ہوئی تھی۔ 2013ء میں پاکستان نے بھارت پر 416/1خلاف ورزیوں کا الزام لگایا ۔
اس کے برعکس بھارت نے دعویٰ کیاکہ پاکستان نے 150سرحدی خلا ورزیاں کی ہیں لیکن اس نے یہ بات نظر اندز کرید کہ خلاف ورزی کی پہل بھارت نے کی تھی۔ 24دسمبر 2013ء کو واہگہ بارڈر پر پاکستان کے ڈی جی ایم او میجر جنرل عامر ریاض اور بھارت کے ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل ونود بھالیہ کے درمیان ملاقات اس لئے بھی اہم ہے کہ یہ چودہ برس کے بعدد ایک سیاسی سمجھوتے کے تحت عمل میں آرہی تھی اور دونوں اطراف کی یہ خواہش نمایاں تھی کہ خطے میں امن و امان قائم ہونا چاہئے اور کنٹرول لائن پر 2003ء کے جنگ بندی سمجھوتے پر سختی سے عملدرآمد کیا جانا چاہئے۔

دونوں ملکوں کے ڈائریکٹر جنرل ملٹی آپریشن کی ملاقات کے بعد جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں ملاقات کو خیر سگالی کے جذبات سے لبریز قرار دیا گی ااور سیز فائر برقرار رکھنے پر اتفاق ہوا۔ اس ملاقات میں ایک اور انسانی مسئلے پر بھی توجہ دی گئی کہ جو بدنصیب شہری لاعلمی میں سرحد عبور کرجاتے ہیں۔ ان کی رہائی کیلئے فوری اطلاع دی جائیگی۔
مزید براں کمانڈرز کے درمیان مستقبل قریب میں فلیگ میٹنگز بھی ہوگی اور سرحد کی لکیر پر ناجائز تعمیرات کی مئوثر روک تھام کی جائے گی۔
متذکرہ بالا ملاقات کی اہمیت سے کوئی بھی امن پسند انکا نہیں کرسکتا لیکن پاک بھارت سیاسی و عسکری تاریخ کے پورے تناظر کو پیش نظر رکھا جائے تو اس کی نفسیاتی وجوہ تقسیم ہند سے پیدا ہونیوالے مسئلہ کشمیر میں پائی جائیں گی جسے نہرو نے موروثی حوالوں سے بہت زیادہ اہمیت دی رور سیز فائر کے معاہدوں کی خلاف ورزی سے بین الاقوامی سرحد پر جنگوں کی صورت بھی پیدا ہوئی اور اس کے نتیجے میں دونوں ملکوں نے اپنے عوم کو غربت، ناداری اور بھوک میں مبتلا کر کے ایٹم بم بنا لئے ۔
اس ایٹمی طاقت کو بھارت مزید بڑھارہا ہے اور اس عمل میں اسے امریکہ کی معاونت بھی حاصل ہے۔ لیکن بھارت نے گزشتہ 66سال کے دوران اقوام متحدہ کی کشمیر میں ریفرنڈم کی قراردادوں پر عملدرآمد نہ کیا۔ نتیجہ یہ ے کہ کشمیری اپنے حق خودارادی کی جنگ خود لڑرہے ہیں اور بھارت نے ان کی آزادی اور حق رائے دہی کو نہ صرف غصب کررکھا ہے بلکہ اب ریاست جموں و کشمیر کے علاقوے میں کوئی گھر ایسا نہیں ہے جس کا کوئی فرد جان شہادت نوش نہ کر چکا ہو جبکہ پاکستان کا مئوقف یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر اوراقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے جو اس خطے کے مستقل امن کیلئے ضروری ہے۔

بھارت میں چونکہ انتخابی عمل شروع ہوچکاہے اور گزشتہ ریاستی انتخابات میں کانگریس بری طرح مات کھا چکی ہے ۔ اس لئے گما ن غالب یہ ہے کہ سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ ہندوستانی مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے پاکستان سے اس خیر سگالی کر عمل کو سامنے لارہے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی کے نامزد وزیرا عظم نریندر مودی نے بھی اپنی انتخابی تقریروں میں پاکستان کی طرف بعض جلسوں میں نرم رویہ اختیار کیا لیکن پھر جب انکے اندر سے لاوا پھوٹتا تووہ ہندواتا اور پاکستان دشمنی کا اظہار کرنے لگتے۔
فی الوقت ڈی جی ایم او ز کی میٹنگ سے اہل پاکستان بہتری کی امید کرتے ہیں۔ یہ ملاقات حوصلہ افزا قرار دی جارہی ہے۔ لیکن سوال بھارت کے خلوص کا اور مسئلہ کشمی پر کشمیریوں اور پاکستانیوں کے جذبات اور مطالبے کے احترام کا ہے۔ یہ مسئلہ دونوں ملکوں کی کشیدگی کو ختم کراسکتا ہے۔ دیکھئے یہ کامیاب ملاقات کیا رنگ لاتی ہے اور ہماری قومی سیاست پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔

وقت اشاعت : 2014-01-09

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

قارئین کی رائے :

اپنی رائے کا اظہار کریں