تازہ ترین : 1
Nizaam Ki Durustgi Intekhabi Islahat K Bagair Mumkin Nahi

نظام کی درستگی انتخابی اصلاحات کے بغیر ممکن نہیں

پاکستان کے چند بڑے مسائل میں سے ایک قیادت کا فقدان بھی ہے۔ ہمارے ہاں سیاسی قیادت اور لیڈر شپ کی کمی ہی دیگر مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے آئین کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے

مصنف : سید بدر سعید
چیف الیکشن کمیشن کا انتخاب کیا جاچکا ہے۔ بظاہر وہ متنازعہ نہیں ہیں اور ان کی ایمانداری اور شرافت بھی تسلیم کی جارہی ہے۔ دوسری جانب یہ بات بھی درست ہے کہ موجودہ نظام میں جب تک انتخابی امیدواروں کی چھان بین اور انتخابی نظام میں اصلاحات نہیں ہوں گی تب تک قابل اور ایماندار چیف الیکشن کمیشن بھی کرپٹ لوگوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ انتخابی اصلاحات لائی جائیں اور آئین کو اس کی اصل روح کے ساتھ نافذ کیا جائے۔
پاکستان کے چند بڑے مسائل میں سے ایک قیادت کا فقدان بھی ہے۔ ہمارے ہاں سیاسی قیادت اور لیڈر شپ کی کمی ہی دیگر مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے آئین کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں کرپٹ، بے ایمان اور ظالم شخص اقتدار میں نہیں آسکتا۔
دوسری جانب ہم ایوانوں کی سمت دیکھیں تو صورتحال اس کے کے برعکس نظر آتی ہے۔ یہ محض عام تاثر ہی نہیں ہے بلکہ ریکارڈ بھی یہی بتاتا ہے۔ ہمارے ہاں قاتل، ڈکیٹ اور کرپٹ لوگ بآسانی ایوانوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ان کے راستے میں نہ تو آئین کا آرٹیکل 62اور 63حائل ہوتا ہے، نہ ہی انہیں کسی مقام پر الیکشن کمیشن روکتا ہے۔ پاکستان کے مقدس ایوانوں تک رسائی کیلئے پاک باز افراد کو آگے لانے اور ظالم، کرپٹ افرادکو روکنے کیلئے جتنے فلٹر نظر آتے ہیں وہ بھی ابھی تک انہیں روکنے میں کامیاب نظر نہیں آتے۔

ہم اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ ہمارے مقدس ایوانوں میں بہت سے ایسے افراد موجود ہیں جو اخلاقی اور آئینی طور پر ان عہدوں اور مراعات کے اہل نہیں۔ اس طرح بہت سے ایسے لوگ ایوانوں تک نہیں پہنچ پاتے جن کو مقدس ایوان کا حصہ ہونا چاہئے۔ عوامی اختیارات یا ووٹ کی بات تو بعد میں آتی ہے۔ سب سے پہلے تو الیکشن کمیشن امیدواروں کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔
اس جانچ پڑتا کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ صرف ایسے امیدوار ہی انتخابی عمل کا حصہ بن سکیں جو آئین کے آرٹیکل 62اور 63سمیت دیکگر شرائط پر پورا اتریں لیکن بدقسمتی سے بابھی تک ایسی چھانٹی نہیں ہوسکی۔
ہمارے ہاں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62، 63میں کردار اور ایمانداری کے حوالے سے اس قدر سخت شرائط ہیں کہ اگر انہیں مکمل طور پر نافذ کردیا جائے تو موجودہ سیاستدانوں میں سے شاید ہی کوئی ایوان کا حصہ بن سکے۔
سوال یہ ہے کہ ہمارے لئے موجودہ سیاستدان اہم ہیں یا ملک کا آئین افضل ہے۔
یہ درست ہے کہ اب خلفاء راشدین جیسے مضبو ط ایمان اور کردار کے حامل افراد ملنا ناممکن ہیں لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ایمانداری اور شرافت کے معیار کو ہی نظر انداز کردیا جائے؟ الیکشن کمیشن کو انتخابات کے بعد متعدد الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یوں شرمندگی اور بدنامی بھی اس کے حصے میں آتی ہے۔
انتخابات میں دھاندلی کے الزامات اور بے ضابطگیاں ہی واضح کردیتی ہیں کہ دراصل امیدواروں کی سکروٹنی کے عمل میں ہی دھاندلی ہونی شروع ہوگئی تھی۔
پاکستان کو ایماندار اور پاکباز قیادت کی ضرورت ہے۔ عقلی بنیادوں پر دیکھا جائے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جب امیدوار اپنے کاغذات جمع کرائے تو باقاعدہ تحقیقاتی اداروں کے ذریعے ان کی مکمل جانچ پڑتال ہو۔
اسی طرح امیدوار کا پس منظر، رجحانات اور طرز حیات کا بھی سائنسی بنیادوں پر جائزہ لینا چاہئے۔ امیدوار کا انٹرویو لینے والے پینل میں ماہرین نفسیات اور دیگر تحقیقاتی اداروں کے اراکین بھی شامل ہوں۔ امیدوار سے متعلق مکمل جانچ پڑتال کرنے والے اہلکاروں کا نمائندہ بھی اس پینل کی مدد کیلئے موجود ہو۔ اس کے بعد باقاعدہ سوالات ترتیب دئیے جائیں اور پھر یہ بات طے کی جائے کہ امیدوار تمام تر آئینی شرائط پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔
اس کے برعکس ہمارے ہاں امیدوار کاغذات جمع کراتے وقت متعدد حامیوں کے ہمراہ نعرے لگاتے ہوئے جاتے ہیں۔ ان کے سکروٹنی کے عمل اور ان سے کئے گئے سوالات کی خبریں پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس طرح انتہائی اہم نوعیت کے اس سارے عمل کا مزید مذاق اڑایا جارہا ہے۔
چند دعاؤں اور احکامات پر پوچھے گئے سوالات نہ تو امیدوار کے کردار کی خبر دیتے ہیں نہ ہی اس کی شرافت اور ایمانداری پر مہر ثبت کرتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ آئین کو محض خانہ پری کے طور پر رائج کرنے کی بجائے اس کی اصل روح کو زندہ کیا جائے۔ آج پاکستان انتخابی اصلاحات اور انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات کی وجہ سے شدید بحران کا شکار ہے۔ اگر ہم اس کی اصل جڑ کو تلاش کریں تو یقیناََ الیکشن کمیشن کی جانب انگلیاں اٹھتی ہیں۔ اگر ہم نے پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانا ہے تو پھر ہمیں امیدوار کے سکروٹنی سے لے کر انتخابی عمل تک کے سارے نظام میں تبدیلیاں کرنی ہوں گی اور اسے محض خانہ پری کی بجائے حقیقی طور پر آئین کے مطابق رائج کرنا ہوگا۔
وقت اشاعت : 2014-12-15

(0) ووٹ وصول ہوئے

Syed Badar Saeed

مصنف کا نام : سید بدر سعید

سید بدر سعید کی مزید تحریریں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں