بند کریں
بدھ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نیا پاکستان
شاید خان صاحب کے ہاتھ کوئی جادو کا چراغ آگیا ہے جس کی وجہ سے قوم کو ایسے سہانے خواب دکھا رہے تھے یا انکا یہ خیال تھا کہ نہ ہماری حکومت آئے گی اور نہ ہی ہمیں اپنے وعدے سچ کر دکھانے پڑیں گے
مصنف : بلال محمود سلہری
کرکٹ کے میدان میں عمران خان ایک خطرناک حریف کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ایک طرف تو وہ ہار نہیں مانتے تھے اور دوسری طرف اپنے حریف کی کمزوریوں کا جائزہ لے کر اپنی بہترین حکمت عملی کی بدولت مدمقابل کو ناکوں چنے چبواتے تھے۔ عام آدمی کو اپنی زندگی کے دن پورے کرنے کیلئے کسی مصروفیت کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ عظیم لوگوں کو اپنی زندگی میں ایک مقصد کی تلاش ہوتی ہے۔
اسی لئے کرکٹ کے کپتان نے پہلے شوکت خانم کا معمار بننے کا فیصلہ کیا، اور اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد موصوف نے نیا پاکستان بنانے کا خواب دیکھا۔ اس کا نئے پاکستان میں اصولاََ ہر طرف خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔ ہر آدمی کو انصاف بجلی کی سرعت سے پہنچایا جائے گا، قانون کے رکھوالے لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے ذمہ دار ہونگے، بیرونی قرضے اتر جائیں گے، نوجوان بیروزگار نہ رہیں گے اور گویا ہم چند سالوں میں جنت کے کسی خطے کا منظر پیش کرنے لگیں گے۔

شاید خان صاحب کے ہاتھ کوئی جادو کا چراغ آگیا ہے جس کی وجہ سے قوم کو ایسے سہانے خواب دکھا رہے تھے یا انکا یہ خیال تھا کہ نہ ہماری حکومت آئے گی اور نہ ہی ہمیں اپنے وعدے سچ کر دکھانے پڑیں گے۔ ویسے اگر انکے ہاتھ چراغ آیا ہی تھا تو الیکشن میں دھاندلی روک لیتے مگر شاید چراغ والے جن نے بھی دھرنا دیا ہوا ہے کہ جب خان صاحب پرائم منسٹر بنیں گے تو وہ تب ہی انکی بات مانے گا۔

گزرے الیکشن میں قابل عزت نتیجہ حاصل کرنے کے باوجود جب سونامی نما انقلاب نہ آیا تو سابق کپتان نے صبر کا دامن پکڑنے کی بجائے خوب واویلا کیا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اسی ہار سے سبق سیکھتے۔ اپنے پولنگ ایجنٹوں کو تربیت دیتے، پارٹی کو مزید جمہوری طرز پہ استوار کرتے، اور ساتھ ہی خیبر پختونخواہ کی حکومت کو غنیمت جانتے ہوئے ایسی مثالی خدمت کر کے دکھاتے کے مخالفین بھی داد دینے پر مجبور ہوجاتیے ۔
وسائل کی کمی تو ہمیں من حیث القوم ہی درپیش ہے، بات تو تب بنتی جب نامداعد حالات میں گھرے خیبر پختونخواہ میں کچھ کر دکھاتے۔ مگر کپتان کو کیونکہ خواب میں کوئی بزرگ(شاید یہ بھی کپتان کا وہم ہی ہو) بشارت دے چکے ہیں کہ وزیراعظم بننا انکا پیدائشی حق ہے اور کیونکہ اب وہ سٹھیا گئے ہیں لہٰذا انہیں اس نیک کام میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہئے اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ چند ہزار کا مجمع لے کر وزیراعظم سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا جائے اور خود وزارتِ عظمیٰ کے مزے لوٹے جائیں۔

یوں خان صاحب جمہوریت کو بچانے نکلے اور اس مقصدکے حصول کیلئے اسلام آباد پہنچ گئے۔ ایک طرف تو نوجوانوں نے اس میوزیکل دھرنے کو بڑی پزیرائی دی اور دوسری طرف میڈیا نے پلک جھپکے بغیر ایسے دکھایا جیسے شاذو نادر ہی آج تک کوئی چیز دکھائی گئی ہو۔ پھر اپنے راستے کے کنٹینر ہٹاتے پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ گئے۔ کنٹینر اس لئے ہٹاتے کہ انکے ہونے سے نفرت اور ہٹنے سے محبت بڑھتی ہے۔
اگر اپنی جذباتی وابستیاں ہٹا کر صورتحال کا جائزہ لیا جاتے تو آپکو اس واقعے میں تینوں فریق قصور وار نظر آئیں گے۔ میری تحریر ہر اس شخص کو بری لگے گی جس کا کسی پارٹی سے کوئی تعلق ہے۔ مگر اختلاف رائے آپا جمہوری حق ہے اور اظہار راے میرا۔
1۔الیکشن کے بعد عمران خان کا مطالبہ ٹھیک تھا۔ یہاں حکومت کو انکامطالبہ مان کر تحقیقات کیلئے عمران کے مطالبات مان لینے چاہئے تھے۔

2۔طاہر القادری کی پاکستان آمد کے موقع پر راولپنڈی شہر کو مکمل طور پر کنٹینرز لگاکر بند کردیا گیا تھا۔ مصنف خود موقع پر موجود تھا، کچھ آنسو گیس بھری ہوا کے جھونکے بھی ہوا کو معطر کرتے ہوئے محسوس کئے۔ 4-5گھنٹے بس میں پھنسے رہنے کے بعد بہت سے کلو میٹر پیدل چل کر ٹیکسی ملی اور پولیس والوں کو یقین دلانا پڑا کے میرا قادرسی کوئی تعلق نہیں ہے۔
میں تو چھٹی گزار کر واپس آرہا ہوں۔
3۔ماڈل ٹاؤن سانحہ کے بعد ہمارے ملک میں پہلی دفعہ کسی وزیر سے استعفیٰ لیا گیا، بحرحال، اس واقعہ کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے۔ اس کی تحقیقات کا آغاز کرنے میں اور ایف آئی آر درج کرنے میں انا کا مسئلہ سمجھا گیا۔
4۔طاہر القادری نے اپنے جلسے کے آغاز میں ہی ڈنڈا برادر، کرائے دار فوج تیار کرلی تھی۔
جس وقت حکومت کی جانب سے کنٹینرز لگا کر ماڈل ٹاؤن کو سیل کیا جارہا تھا اتفاقاََ اس وقت کا بھی عینی شاہد ہوں۔ ماڈل ٹاؤن کی گلیوں میں جابجا ڈنڈا برادر افراد ، گلے میں منہاج کے شناختی کارڈز لٹکائے اور ہاتھوں میں ڈنڈے پکڑے کھڑے تھے۔ ایک دفعہ تو انکے درمیان سے گزرنے کیلئے مجھے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے فتح کا نشان ”V“ بنانا پڑا جس پر باعزت طور پرراستہ دیا گیا۔

قادری کی جانب سے ڈنڈا برادر فوج اور خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا غلط تھا اور حکومت نے ایک بار پھر کنٹینر لگا کر قادری کے غبارے میں ہوا بھری۔
5۔قادری صاحب نے اسی طرح اسلام آباد پہنچ کر بھی خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جو کہ نہایت قابل مزمت ہے۔
6۔حکومت نے اگر کنٹینر لگاہی دیئے تھے تو ذمہ داری کو ثبوت دینے کی بجائے عمران اور طاہر القادری نے کنٹینرز ہٹا کر اپنے ساتھیوں کو اکسا کر بار بار قانون ہاتھ میں لیا۔

7۔وزیراعظم کی رہائش گاہ اور پارلیمنٹ کی دیوار کے اندر جانے والے واقعے میں ٹی وی کی کوریج سے صاف دیکھا گیا ہے کہ عوامی تحریک کے کارکنوں کے پاس ڈنڈے اور شاید بندوقیں بھی تھیں۔ حکومت کے صبر کو آخری حد تک آزمایا گیا اور آخر کار تصادم کا راستہ اختیار کیا گیا۔ اس سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کا خون طاہر القادری ، عمران خان اور چودھری نثار کے سر ہے۔

8۔عمران خان نے کیونکہ خود عوامی تحریک کے ساتھ الحاک کیا تھا لہٰذا وہ اس پر تشدد کے واقعے اور پی ٹی وی پر حملے سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔
9۔عمران خان جیسے بڑے لیڈر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ بازاری زبان استعمال کریں۔ مگر خان صاحب متواتر گھٹیا زبان استعمال کرتے رہے ہیں اور دھرنے کو دوران پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہوکر جوش خطابت ہیں۔
احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے رہے ہیں۔
10۔جب استعفیٰ دینے کی بات چھڑی تو خیبر پختونخواہ سے استعفیٰ نہیں دیا گیا کیونکہ وہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور جب تحریک انصاف الیکشن جیتتی ہے تو دھاندلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ حقیقی جمہوریت آجاتی ہے۔
گویا
تیرا کتا، کتا،میرا کتا ٹومی
11۔عمران خان صاحب نے اپنی پارٹی کے جمہوری طور پر منتخب شدہ صدر سے جو سلوک روا رکھا اس سے سب اندازہ ہو چکا ہے کہ دراصل خان صاحب بزات خود ایک ڈکٹیٹر ہیں۔

میں تفصیل سے بیان کر چکا ہوں کے تینوں فریق غلطیوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ہر فریق سے کوئی نہ کوئی غلطی سرزد ہوئی فوج کو ثالث کے طور پر لانا ہویا تھرڈ ایمپائر کی انگلی اور کفن پہن کر قبریں کھودنا ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فریقین صبر تحمل کا مظاہرہ کریں اور معاملے کو انہام و تفہیم سے حل کر لیا جائے۔ نہیں تو کسی دن کوئی سرمایہ کار یا طالبان دھرنا دے کر بیٹھ جائیں گے اور ہمیں پھر سے ”میرے عزیز ہم وطنو“ کے دور میں داخل ہونا پڑے گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-09-12

(8) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     بلال محمود سلہری

بلال محمود سلہری کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان