بند کریں
بدھ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نواز شریف بمقابلہ عمران خان کرکٹ میچ کا آئیڈیا!
جہاں تک آئی ڈی پیز کے لئے کرکٹ میچ کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلہ میں دونوں بڑے سیاسی رہنماوٴں کو سنجیدگی سے سوچ کر عوامی فیصلہ کرنا چاہئیے۔ بالخصوص عمران خان کو‘ خیبر پی کے میں ان کی حکومت ہے
حافظ عمران:
شاہد آفریدی کرکٹ کا ایسا کردار ہیں جو شائقین کرکٹ کے دلوں پر راج کرتے ہیں قطع نظر اس کے کہ پرفارم کریں یا فلاپ ہوں‘ کئی ایک ناکامیوں‘ فاش غلطیوں اور کوتاہیوں کے باوجود موجودہ دور میں بلاشبہ پاکستانی عوام کے مقبول ترین کھلاڑی ہیں۔
شاہد آفریدی جتنے کامیاب کھلاڑی ہیں اس سے زیادہ کامیاب سیاستدان ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ٹیم کے اندر کوئی تحریک کب اور کیسے چلانی ہے اور کیا نتائج حاصل کرنے ہیں کس کھلاڑی کو اپنے گروپ میں شامل کر کے ڈریسنگ روم میں اپنی طاقت میں اضافہ کرنا ہے اورکسی کھلاڑی کو کب کیسے استعمال کرنا ہے۔
یہ تمام صلاحیتیں ملک کے مقبول ترین آل رآنڈر میں بدرجہ اہم موجود ہیں یہ تمام سیاسی صلاحیتیں ہیں جن کا مظاہرہ شاہد آفریدی وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔ مزید برآں وہ میڈیا میں ان رہنے کا فن بھی بخوبی جانتے ہیں کبھی گورنر پنجاب سے ملتے ہیں تو کبھی گورنر سندھ سے کبھی سابق صدر پرویز مشرف سے ملاقات کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کر کے بہت سے لوگوں کو خاموش پیغام دیتے ہیں تو کبھی عمران خان سے محبت کا دم بھرتے ہیں غرض یہ کہ خبروں میں رہنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
کرکٹ کی سرگرمیوں کے علاوہ اپنا بزنس بھی کامیابی سے چل رہے ہیں جہاں وہ کرکٹ کے کامیاب سیاستدان ہیں، وہیں درد دل بھی رکھتے ہیں اور اس معاملے میں وہ خاصے سمجھ دار واقع ہوتے ہیں ساتھ ہی وہ فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلے میں انہوں نے متاثرین بحالی کے لئے بھرپور انداز میں کام کیا۔ بعد آزاں انہوں نے اپنے آبائی علاقے کوہاٹ میں فلاحی کاموں کا بیڑہ اٹھایا اور مقامی افراد کو صحت کی بہتر سہولیات دینے کے لئے ایک ہسپتال قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
شاہد آفریدی فاوٴنڈیشن کے زیر انتظام آبائی گاوٴں تنگی بانڈا میں ہسپتال کی تعمیر کے لئے اب تک ڈیڑھ دو کروڑ روپے خرچ کر چکے ہیں۔جہاں شاہد آفریدی پر تنقید کی جاتی وہاں ایسے کاموں کی حوصلہ افزائی اور تعاون کے لئے بھی سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ شاہد آفریدی نے اس پر ہی اکتفا نہیں کیا اب وہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ”ضرب عضب“ کی وجہ سے نقل مکانی کرنیوالے افراد کی مدد کے لئے میدان میں آئے ہیں انہوں نے آئی ڈی پیز کی مدد کے لئے میاں نواز شریف اور عمران خان کی کے مابین کرکٹ میچ کروانے کا خیال پیش کرنے کے بعد اس پر کام شروع کر دیا ہے۔
یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ شاہد آفریدی کرکٹ کی سرگرمیاں نہ ہونے کے باوجود بھی بھرپور انداز سے ان ایکشن ہیں۔ کرکٹرز چونکہ عوامی سطح پر مقبول ہوتے ہیں ان کی فیس ویلیو بھی ہوتی ہے کرکٹ کھیل کر اچھی خاصی دولت بھی کما لیتے ہیں۔ یوں ان کے لئے فنڈز کا بھی زیادہ مسئلہ نہیں ہوتا بہر حال یہ رجحان خوش آئند ہے۔ فلاحی کاموں کے حوالے سے ذکر کیا جائے تو اس معاملے میں سب سے بڑی تحریک عمران خان کے شوکت خانم ہسپتال کو دیکھ کر ملتی ہے۔
ٹیسٹ کرکٹر انضمام الحق نے بھی ملتان میں ایک ہسپتال قائم کر رکھا ہے۔ جب کہ لاہور میں اپنی رہائش گاہ کے قریب ساتھی ٹیسٹ کرکٹر مشتاق کے ساتھ مل کر ایک مسجد بھی تعمیر کی ہے۔ سعید اجمل نے فیصل آباد کے نوجوانوں کے لئے ذاتی خرچ سے ایک اکیڈمی قائم کی ہے۔ رانا نوید الحسن نے شیخوپورہ میں کرکٹ اکیڈمی چلا رہے ہیں۔ اسی طرح دیگر کھلاڑی بھی فلاحی کاموں میں مصروف نظر آتے ہیں۔

فلاحی کاموں کے معاملے میں کرکٹرز اور فنکار ایک دوسرے کی بھرپور مدد بھی کرتے ہیں ماضی میں استاد نصرت فتح علی خان کے علاوہ اس وقت کے معروف فنکار شوکت خانم کینسر ہسپتال کی فنڈ ریزنگ کے لئے نمایاں نظر آتے تھے۔ آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے بلکہ اب فنکار بھی اس کام میں پیش پیش ہیں کوئی تعلیم کی بہتر سہولیات کے لئے کام کر رہا ہے تو کوئی آبائی علاقے میں صحت کے مسائل کو حل کرنے میں پیش پیش ہے۔
ابرار الحق نے نارووال میں ایک ہسپتال تعمیر کیا ہے جب کہ گلوکار جواد احمد تعلیم کے شعبہ میں بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ساتھ ہی وہ عوام کا سیاسی شعور بڑھانے کے لئے ”برابری“ کے نام سے ایک تنظیم قائم کر چکے ہیں ایسے تمام افراد جو دھرتی کا فرض چکا رہے ہیں وہ لائق تحسین ہیں ان کی تعریف بھی ضروری ہے ان کا ساتھ بھی دیا جانا چاہئے اور حکومتی اہلکاروں کو بھی ایسے کاموں میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

شاہد آفریدی کے ہسپتال کے لئے مخیر حضرات کو بھی آگے آنا چاہئے۔ انضمام الحق کے ہسپتال کو بھی تعاون کی ضرورت ہے نیز لاہور کے کرکٹر جنہیں عوام پسند کرتی ہے انہیں بھی مستحق افراد کے مسائل کے حل کرنے کے لئے خلوص دل کے ساتھ کام کرنا چاہئے۔ جہاں تک آئی ڈی پیز کے لئے کرکٹ میچ کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلہ میں دونوں بڑے سیاسی رہنماوٴں کو سنجیدگی سے سوچ کر عوامی فیصلہ کرنا چاہئیے۔
بالخصوص عمران خان کو‘ خیبر پی کے میں ان کی حکومت ہے عوام ان کی طرف دیکھ رہی ہے ان منتظر ہے اگر یہ کرکٹ میچ ہوتا ہے تو اس سے ناصرف پاکستان کے لئے اپنے گھر بار چھوڑنے والوں کی مدد ہو گی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ملکی حالات میں تناوٴ کی کیفیت میں بھی کمی آئے گی۔ اس میچ کے معاشرے پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-07

(0) ووٹ وصول ہوئے