تازہ ترین : 1
National Action Plan Per Awami Numaindoon K Tahafuzaat

نیشنل ایکشن پلان پر عوامی نمائندوں کے تحفظات

فوج اور رینجرز کی کارروائیاں سیاسی اور ذاتی مصلحتوں کاشکار ہونے لگیں۔۔۔۔ وسیع ترقومی مفاد کیلئے کرپٹ افراد کومنطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ہرممکن اقدامات کرنا ہوں گے

اسرار بخاری:
تمام ادارے دستور کی حدود میں رہ کرکام کریں“ چند الفاظ پر مشتمل یہ جملہ ایسا ہے شاید ہی کوئی خواندہ یانوخواندہ شخص ایسا ہو جس نے یہ جملہ پڑھ یاسن نہ رکھا ہو۔ یہ جملہ کسی ایک فرو، سیاستدانوں کی جانب سے اگرہر روز نہیں توہر ہفتے میں ایک مرتبہ ضرورکہاجاتا ہے۔ حال ہی میں جس شخصیت کی جانب سے یہ حملہ ادا کیاگیا ہے وہ پاکستان کے منصف اعلیٰ یعنی چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے سندھ ہائی کورٹ بارایسوسی سی ایشن کو تقریب سے خطاب میں اداکیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ یہ ملک بزرگوں کی لازوال قربانیوں سے حاصل ہوا ہے۔ رشوت اور بدعنوانی سب سے بڑی لعنت ہے۔ تمام ادارے آئین کی حدود میں رہ کرکام کریں۔ہڑتالیں اوروکلاکی تیاری نہ کرنا بھی مقدمات میں تاخیر کاسبب بنتا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کاتحفظ اور آئین کی بالادستی عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ بزرگو کی لازوال قربانیوں کے بعدپاکستان حاصل ہوا ہمیں اس ملک سے ہر قسم کی کرپشن اور بدعنوانیوں کاخاتمہ کرنا ہوگا۔
قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ کے بعد حکمران مسائل کاادراک نہ کرسکے۔ نظام عدل بہتر ہے خرابی ہم میں ہے۔گزشتہ دنوں کاجائزہ لیاجائے تواپوزیشن ہی نہیں بلکہ خود حکومتی ارکان کی جانب سب بھی یہ بات تسلسل سے کہی جارہی ہے خاص طور سے جب سے کراچی مین آپریشن شروع کیاگیا ہے بعض سیاستدانوں کاتویہ تکیہ کلام ہی بن گیا ہے جب سے فوج نے معاشی دہشت گردی کے خلاف کارروائی کاآغاز کیاہے بعض سیاستدانوں کی جانب سے بالخصوس میں رہنے کے بیانات تواتر سے آتے رہے ہیں بلکہ سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ توکئی باررینجرزکوکراچی سے واپس بھجوانے کی باتیں بھی کرتے رہے ہیں جس پر انہیں سنجیدہ فکر حلقوں کی جانب سے یہ باور کرایا گیا ہے کہ اگر ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو اس سے کراچی میں خونریزی کاختمہونے والا سلسلہ دوبارہ شروع ہوجائے گا۔

جہاں تک وسیع پیمانے پرلوٹ کھسوٹ کے قصے کہانیوں کا تعلق ہے اس سلسلے میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری اور ان کے ساتھی تو ملگ گیر کیابلکہ عالمگیر شہرت رکھتے ہیں اور جہاں تک وزیراعظم نواز شریف کاتعلق ہے ان پر دولت کے ناجائز حصول کے حوالے سے واضح ثبوت سامنے نہیں آئے الزامات ضرور عائد کئے جاتے رہے ہیں کہ بیرون ملک بہت دولت موجود ہے مگر اسی حوالے سے کسی فردیا ادارے سے ان کے خلاف ملک کے اندرباہر کوئی مقدمہ دائرنہیں کیا جس طرح آصف علی زرداری پر عائد تھے جن میں سرے محل اور سوئس بینکوں میں اربوں ڈالرز کے مقدمات ہیں مختلف بہانوں سے ان مقدمات کوالتواکاشکار کرکے اس مدت کی حد حاصل کرلی گئی جس کے بعد اگر مقدے نہ چل سکے تو ختم ہوجاتاہے۔
اس دوران کہاجاتا ہے یہ دولت سوئس بینکوں سے نکال کرسنگاپور کے بینکوں میں پہنچادی گئی یہ ٹرانزیکشن کیونکہ مبینہ طور پر بینک سے بنک کے ذریعے ہوتی ہے اس لئے پتہ لگانا مشکل نہیں ہے اگرچہ وزیراعظم نوازشریف کانیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کردہ فہرست میں نام ہے جومیگا سکینڈلز میں ملوث افراد کے حوالے سے کھلم کھلائے جارہے ہیں اس لئے اب یہ ایک ایسا مرحلہ ہے کہ خوداپنی ذات اور حکومت کوبچانے کیلئے وہ اپنی دوسری جماعتوں میں شامل کسی بھی مقام ومبرتبے کے حامل شخص کے خلاف احتساب کااعلان کردیں انہیں بچانے کی کوشش ان کیلئے خود کشی سے کم نہیں ہوگی۔
سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے جونیشنل ایکشن پلان اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے پارلیمنٹ کے بند کمرے میں اجلاس کی تجویزدی ہے یہ اس لئے صائب نہیں ہے کہ جب دہشت گردی کے خلاف کھلی کارروائیاں ہورہی ہیں اور خارجہ پالیسی کے خدوخال بھی بالکل واضح ہیں تو پھر خفیہ اجلاس کاکیاجواز ہے ملک میں بہت سی قباحتیں اس لئے جنم لیتی رہیں اور لے رہی ہیں کہ اہم فیصلے عوام کو اعتماد میں لئے بغیر کئے جاتے ہیں۔

جہاں تک نیشنل ایکشن پلان کاتعلق ہے یہ فوج نے اپنی مرضی سے شروع نہیں کیا تھا بلکہ ملک کی یا پارلیمنٹ میں موجودتمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر اس کی منظوری دی تھی اور اسے ایک بڑے سیاسی فیصلے کے طور پر اجاگرکرکے اس کا کریڈٹ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اب جوگورننس کے حوالے سے فوج کی جانب سے بات کی گئی ہے اس کابغور جائزہ لیا جائے تویہ عوامی مسائل سے زیادہ اس فکر مندی کااظہار نظر آتی ہے کہ پولیس اور رینجرز کی کارروائیوں کومنطقی انجام تک پہنچانے کامعاملہ کہیں سیاسی اور ذاتی مصلحتوں کاشکار نہ ہوجائے۔
تاہم فوج کی جو” حدود “ میں رہ کرکام کرنے کی راہ دکھائی جارہی ہے اس کے جواب میں فوج کی جانب سے کہاجاسکتاہے کہ وہ توان ہی حدود میں رہ کرکام کررہی ہے جن کاتعین ملک کی سیاسی قیادت نے کیاہے۔ دوسرے سیاسی قیادت کے ماتحت اداروں کی حالے یہ ہے کہ زبردست لوٹ کھسوٹ کرنے والے ان سے سودابازی کرکے آرام سے چھوٹ جاتے ہیں اس قابل مذمت اور لائق اصلاح صورتحال کی جانب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیرجمالی نے ان الفاظ میں کی ہے ” دس کروڑ کی کرو اور نیب کوپلی بارگین کے نام پر چار کروڑ دیکر چھوٹ جاؤ۔
حکومتی ترجمان سے موجودہ حکومت کی جانب سے اچھی حکمرانی کوہی اس کاطرہٴ امتیاز قراردیاہے۔ لیکن اگر اس حکومت کے حوالے سے یہ تاثرپھیلجائے کہ یہ کرپٹ افراد کوبچانے کی کوشش کررہی ہے اور ایسے اقدامات کی مرتکب ہوئی ہے جن سے ان کرپٹ افراد کے خلاف کارروائی منطقی انجام تک پہنچنے میں رکاوٹوں کاشکارہورہی ہے توان کے اس دعویٰ کوکیسے عوامی سطح پر تسلیم کیاجائے گا۔ ان کایہ دعویٰ توعوامی سطح پر تب ہی لائق تحسین ہوسکتا ہے جب حکومت کی جانب سے یہ دوٹوک اعلان سامنے آئے کہ جوبھی قانون کی زد میں آئے گااحتساب ہوگا وہ بخشانہیں جائے گا۔ یہ وسیع ترقومی مفاد میں بھی ہے اور یہی ملک وقوم کودہشت گردی اور معاشی دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کی پُرخلوص کوششوں کاواضح ثبوت بھی ہوگا۔
وقت اشاعت : 2015-11-23

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں