تازہ ترین : 1
NA 246 Zimni Intekhab Khawateen Ka Vote Bank

این اے 246ضمنی انتخاب، خواتین کا ووٹ بنک: فیصلہ کْن کردار ادا کرے گا

حلقہ 246 کراچی کے متوسط‘ تعلیم یافتہ طبقے پر مشتمل ہے جس میں خواتین رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 61,594 ہے ان میں سے تقریباً نصف سے زیادہ تعداد ملازمت پیشہ اور طالبات کی ہے۔ خواتین تعلیم‘ میڈیکل اور کاروباری شعبے میں خدمات انجام دے رہی ہیںِ،

غزالہ فصیح
کراچی کے حلقہ 246 کے ضمنی انتخابات ملکی تاریخ کے نمایاں ترین الیکشن بن گئے ہیں پوری قوم کی نظریں ان پرجمی ہیں۔ کراچی کے باسیوں کو ایک ماہ کی انتخابی مہم کے دوران ایسا جوش و خروش‘ ہنگامہ آرائی اور ہلا گلہ دیکھنے کو ملا ہے جو اس سے پہلے یہاں عام انتخابات میں بھی کم نظر آتا تھا۔ حلقے کے تینوں فریق، ایم کیو ایم‘ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی جیت کے لئے سردھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں تینوں جماعتوں نے اپنی طاقت کے مظاہرے کے لئے خواتین کا سہارا بھی لے لیا ہے جماعت اسلامی نے خواتین کا بڑا جلسہ کر ڈالا‘ عمران خان اپنی نئی نویلی بیگم ریحام خان کو لیکر پہلے جناح گراوٴنڈ کا نظارہ کرنے پہنچے اور بعد میں کراچی کے جلسے میں بھی انہیں ساتھ رکھا۔
عمران خان کہتے ہیں ریحام بی بی کو اس لئے ساتھ لایا ہوں تاکہ خواتین تبدیلی کے لئے متحرک ہوں اور اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کے لئے گھروں سے باہر نکلیں۔ ایم کیو ایم کے تمام جلسوں میں خواتین کی کثیر تعداد میں شرکت یقینی ہوتی ہے۔ الطاف حسین کا خطاب سنتے ہوئے آپ نے صف اول میں ایم کیو ایم کی خواتین کو ہمہ تن گوش اکثر دیکھا ہوگا۔الطاف حسین جب بھی ناراض ہو کر قیادت سے مستعفی ہونے کی بات کرتے ہیں تو خواتین کی اکثریت انہیں نعرے لگا کر منانے میں کوشاں نظر آتی ہے اور الطاف بھائی بالآخر ماوٴں بہنوں کی درخواست پر پھر مان جاتے ہیں۔
حالیہ انتخابی مہم کے دوران بھی ایم کیو ایم سمیت دیگر دونوں جماعتوں کی خواتین بھرپور انداز سے جلسے جلوسوں میں شریک رہیں انہوں نے پارٹی پرچم سر بلند کئے‘ پرچم کے رنگوں سے بنے لباس زیب تن کئے‘ کلائیوں میں انہی رنگوں کی چوڑیاں کھنکھائیں‘ ماتھا پٹیاں سجائیں اور اپنے چہروں پر بھی پارٹی کے نقش و نگار اجاگر کئے یہاں تک کہ جماعت اسلامی جس میں چہرے کا پردہ کرنے والی خواتین کی اکثریت ہے ا س کے جلسے میں بھی ہم نے کئی لڑکیوں کو چہرے پر پارٹی پرچم کے نقوش کی نمائش کرتے دیکھا۔

لیکن اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ موجودہ وقت میں خواتین کے سیاسی شعور میں پہلے کے مقابلے میں کئی گناہ اضافہ ہوا ہے اور وہ اپنے شہری‘ سماجی‘ قانونی و انسانی تمام حقوق کیلئے آواز اٹھا رہی ہیں اور ان حقوق کے حصول کیلئے عملی جدوجہد میں بھی حصہ لے رہی ہیں۔اس کا عکاس یہ ضمنی الیکشن بھی ہے۔اس میں خواتین کا ووٹ فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔

حلقہ 246 کراچی کے متوسط‘ تعلیم یافتہ طبقے پر مشتمل ہے جس میں خواتین رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 61,594 ہے ان میں سے تقریباً نصف سے زیادہ تعداد ملازمت پیشہ اور طالبات کی ہے۔ خواتین تعلیم‘ میڈیکل اور کاروباری شعبے میں خدمات انجام دے رہی ہیںِ، باشعور اور اپنے خیالات کے بخوبی اظہار پر قادر ہیں۔ کراچی کا یہ حلقہ جو کہ نائن زیرو اور دیگر مہاجر اکثریتی آبادی کے علاقوں پر مشتمل ہے اس کے بارے میں ملک کے دیگر علاقوں میں تجسس اور جاننے کی دلچسپی پائی جاتی ہے ،اسی بناء پرضمنی الیکشن کو بھی اتنی اہمیت دی جارہی ہے۔
ہم نے قارئین کیلئے اس حلقے کی خواتین سے بات چیت کی جس سے یہ معلوم ہوگا کہ کیوں 246 کا الیکشن پورے ملک کا فوکس بنا ہوا ہے اور تنیوں سیاسی جماعتوں کی خواتین رہنماوں سے بھی بات چیت کی ہے آپ کے تجزیے کی نذر ہے۔
دستگیر سوسائٹی کی ٹیچر مریم حسین نے کہا کراچی کی عوام کو الطاف حسین کی قیادت پر اعتماد ہے انہوں نے مہاجروں کے مسائل کے حل کیلئے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور ہماری آواز کو پورے پاکستان کو پہنچایا ہے مہاجر الطاف حسین کے سکوا کسی اور کو ووٹ دینے کا تصور بھی نہیں کرسکتے وہ اگر کھمبا کھڑا کریں اور اس کی حمایت کو کہیں تو ہم اسے بھی ووٹ دیں گے۔
عزیز آباد کی رہائشی نگہت عزیز نے کہا ہمارے مسائل ہماری قیادت ہی بہتر سمجھتی ہے‘ باہر سے یہاں آکر الیکشن لڑنے والوں کو تو اس حلقے کے گلی کوچوں کا بھی پتہ نہیں ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہوگا تو انہیں کہاں سے بلا کر لائیں گے۔
لیاقت آباد کی طالبعلم مہوش قیوم نے کہا الطاف حسین نے مہاجروں کے حق میں آواز نہ اٹھائی ہوئی تو آج ہمیں کالج‘ یونیورسٹیوں میں داخلہ تک نہ ملتا‘ کراچی میں مہاجر آبادی کو یکساں شہری حقوق فراہم کرنے کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا الطاف حسین نے مہاجر قوم کو اسمبلیوں میں پہنچایا ہے ہمارے ووٹ کی حقدار صرف ایم کیو ایم ہے۔
عائشہ منزل کی رہائشی فرحت عباس نے کہا ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن زیادتی پر مبنی ہے۔ متحدہ کا میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے اس ٹی وی پر مجرم جماعت بنا کر پیش کیا جارہا ہے یہ مہاجروں کی نمائندہ جماعت ہے اس کے خلاف تعصب ہمارے خلاف تعصب ہے ہم اپنے قائد کو برا کہنے والوں کو اپنے علاقے میں گھسنے کا موقع کبھی نہیں دیں گے۔
اسی حلقہ انتخاب سے کچھ خواتین کی مختلف آوازیں بھی سنائی دیں۔
اسماء اسمٰعیل نے کہا پورے فیڈرل بی ایریا کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ‘ پارک کچرا کنڈی بن گئے ہیں اگرچہ لوکل گورنمنٹ نہیں ہے مگر ایم کیو ایم کے ایم این اے‘ اپم پی اے تو فنڈز لیتے ہین وہ کیوں علاقے کی دیکھ بھال نہیں کرتے میں ایم کیو ایم کی سپورٹر رہی ہوں مگر اب اسے ووٹ نہیں دوں گی۔ کریم آبادکی رہائشی مبینہ کریم نے کہا پچھلی مرتبہ ہماری کمیونٹی نے ایم کیو ایم کو ووٹ نہیں دیا تو ہمیں لوگوں نے آکر باقاعدہ سبق سکھانے کی دھمکی دی کئی دن تک ہمارا پانی اور بجلی بند رکھے۔

ایم،کیو،ایم کی رہنما،سینٹر خوش بخت شجاعت نے قومی روزنامے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا :
خوش بخت شجاعت:
پی ٹی آئی نے اپنی سیاست کا آغاز ایم کیو ایم کی پیروی سے کیا ہمارے ایم کیو ایم کے نعرے انہوں نے چرالئے۔ خواتین کوجلسوں میں لانے انہیں مساوی اہمیت دینے کا سلسلہ ایم کیو ایم نے شروع کیا تھا۔ ایم کیو ایم نے خواتین کو امپاور کیا جنرل نشستوں اور مخصوص سیٹوں پر الطاف حسین بھائی نے مڈل کلاس کی خواتین کو نمائندگی دی انہیں ایم پی اے‘ ایم این اے‘ سینیٹر بنایا کراچی میں ایم کیو ایم نے مزاج بنادیا کہ خواتین کا احترام کرنا ہے ہم نے یہاں ایشیا کی تاریخ کا سب سے بڑا خواتین کا جلسہ کیا ، ہمیں خوشی ہے اب دوسری پارٹیاں ہماری پیروی کررہی ہیں مگر ہمارے جیسے نظم و ضبط کے لئیے ہم سے کلاسیں لینے پڑیں گی۔
پی ٹی آئی کے لوگ پیرا شوٹرز ہیں جنہیں ان علاقوں کا نہ تو پتہ نہ مسائل کا معلوم۔2797 پولیس والوں کے ساتھ اس علاقے میں آرہے ہیں یہ ڈرپوک لوگ ہیں،کبھی کراچی والوں کو زندہ لاش کہتے ہیں کبھی کالے پیلے ، میں کہتی ہوں یہ متعصب گفتگو اور امتیاز بہت مہنگا پڑے گا۔ انھوں نے کہا جو یہ تنقید نطام کے حوالے سے کر رہے ہیں تو کراچی کے کسی حلقے کو اٹھا کر دیکھیں ہر حلقہ بلدیاتی نظام کے خاتمے کی وجہ سے کچرے کا ڈھیر بنا ہوا ہے ڈیفنس میں 2000 ہزار گز کے گھر ہیں لیکن پانی کے ٹینکر 8000 کے منگائے جاتے ہیں پورے ڈیفنس میں پانی نہیں ہے۔
جب بلدیاتی نظام تھا ایم کیو ایم کے تحت انہوں نے پورا سسٹم ڈیویلپ کردیا۔ 2 کروڑ کی آبادی کیلئے یہ سسٹم ختم کردیا گیا صرف ایم کیو ایم کی کارکردگی کو Nil کرنے کے لئے کراچی اس وقت لاوارث شہر ہے نہ پانی مل رہا ہے نہ فنڈز مل رہے ہیں صرف ایم کیو ایم کے نمائندگان اسلام آباد میں کراچی کے لئے آواز اٹھا رہے ہیں کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ہو بچے مار دیئے جائیں پی ٹی آئی یا کوئی اور نہیں بولتا اب یہ کیسے کراچی کے درد میں یہاں نہاری کھانے آرہے ہیں۔

کراچی میں دہشتگردی سے سب سے زیادہ عورتیں متاثر ہوئیں : دردانہ صدیقی
جب کوئی لڑکا اسلحہ اٹھاتا ہے تو اس کا پورا گھرانہ‘ پوری نسل متاثر ہوتی ہے جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی نے قومی روزنامے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ این اے 246- میں ہم چالیس سال سے خدمت اور فلاحی کاموں میں مصروف ہیں۔ کراچی کی خواتین امن چاہتی ہیں کیونکہ اس شہر میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ عورتیں متاثر ہوئی ہیں۔
ہزاروں ماوٴں کی گود اْجڑی‘ سہاگ لٹْے اور بہنوں کے بھائی مارے گئے۔ دردانہ صدیقی نے کہاجب کوئی لڑکا اسلحہ اٹھاتا ہے تو اس کا پورا گھرانہ بلکہ پوری نسل متاثر ہوتی ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امن کی علمبردار ہے۔ جلسہ عام میں خواتین کی شرکت نے جماعت پر ان کے اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔ ہم نے اس جلسے کا انعقاد یہ ثابت کرنے کیلئے کیا ہے کہ جماعت اسلامی میں خواتین کو مساوی اہمیت حاصل ہے۔
جماعت کا خواتین ونگ کسی دیگر سیاسی جماعت کے مقابلے میں سب سے منظم ہے ہماری خواتین نے گھر گھر جاکر رابطے کئے ہیں۔ جلسے میں خواتین کی بھرپور شرکت اس انتخابی حلقے میں جماعت اسلامی کی خدمت پر اعتماد کا اظہار ہے۔ دستگیر کے علاقے میں الخدمت سینٹر کے تحت خواتین کا انڈسٹریل ہوم قائم کیا گیا ہے۔ مستحق خواتین کو جہیز اور راشن کی فراہمی‘ بچوں کی تعلیم اور علاج معالجے کے اخراجات فراہم کئے جاتے ہیں‘ اسی علاقے میں عثمان پبلک اسکول تعلیمی خدمات فراہم کر رہا ہے جبکہ واٹر فلٹر پلانٹ بھی جماعت اسلامی نے لگایا۔
دردانہ صدیقی نے کہا کراچی کی خواتین دہشت گردی اور بھتہ خوری کی سیاست سے نجات چاہتی ہیں۔ جماعت کی قیادت بے لوث خدمت پر یقین رکھتی ہے۔
ناز بلوچ
پی ٹی آئی کی رہنما ناز بلوچ نے روزنامے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این اے 246 کی خواتین ہمارے پاس آرہی ہیں۔ ان پندرہ دن میں حسین آباد ،کریم آباد واٹر بورڈ جہاں جہاں گئی ہوں وہ گھروں سے نکل کر ہم سے مِلی ہیں ‘خواتین نے بہت اچھا رسپانس دیا ہے۔
انہوں نے ہماری پولنگ ایجنٹس بننے کیلئے خود پیش کش کی ہے۔خواتین کی سوچ ہے کہ تبدیلی آنی چاہیے۔ خواتین کو شکایت ہے کہ پچھلے 25سال سے ایم کیو ایم حکومت میں رہی ہے اس نے کیا کیا آپ دیکھ لیںF.B.AREAکے بلاک 2 سے 16تک تمام علاقوں میں پانی کی کمی ہے۔ صرف بلاک I اور 7کو پانی کی فراہمی ہے۔بھنگوریہ گوٹھ میں زندگی کی کوئی بنیادی سہولت فراہم نہیں کی گئی 7500بلوچ رہتے ہیں۔
انہیں پانی تک پینے کو نہیں ملتا۔ پی ٹی آئی نے علاقے سے خوف وہراس کے ماحول کو ختم کیا یہ ہماری کامیابی ہے۔ نوگوایریاز کو ختم کیا ہے۔ گھرگھر گئے ہیں‘ نوجوانوں نے خود آکر ہمیں آنسو بھری آنکھوں سے کہا ہم نے اپنا بچپن خوف میں گزار دیا اب آپ ہمیں چھوڑ کر نہ جائیں۔کراچی کے مسائل کو دیکھ کر لگتا نہیں کہ یہ کاسموپولٹن کا حصہ ہے ،فردوس کالونی ‘ موسیٰ کالونی‘ بھنگوریہ گوٹھ زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
ہمیں یہ شکایت بھی ملی کہ پچھلے الیکشن میں جن پولنگ بوتھس سے ووٹ نہیں پڑا ان کے خلاف انتقامی کارروائی کی گئی پانی بند کردیا گیا۔ہمیں کراچی کی مختلف کمیونٹیز کہتی ہیں ہم کھل کرسامنے نہیں آسکتے مگر آپ کو ووٹ دیں گے۔ حسین آباد کی بازاروں اورگلیوں سے گزرے ہیں تو عورتوں نے گرمجوشی سے استقبال کیا۔ گھروں سے باہر کر ہم سے ہاتھ ملائے۔ کھڑکیوں سے دیکھ کر ہاتھ ہلائے پی ایم ایل این کی خواتین ہمارے پاس آرہی ہیں۔ آج سے پہلے اس علاقے کی جو خواتین سیاست میں حصہ نہیں لے رہی تھیں وہ بھی متحرک ہوگئی ہیں یہی ہماری جیت ہے۔
وقت اشاعت : 2015-04-23

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں