بند کریں
بدھ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ایم کیو ایم پر ”را“ کی مدد کا الزام…
متحدہ پھر امتحان میں پڑگئی۔۔۔۔ رابطہ کمیٹی کا بھر پور ردعمل ایس ایس پی کی پریس کانفرنس کو سیاسی ڈارمہ قراردیدیا
سالک مجید:
ایم کیو ایم پر جناح پور سمیت اتنی سازشوں کے الزامات لگ چکے ہیں کہ اب کوئی الزام لوگوں کو حیران نہیں کرتا اس کے باوجود 30اپریل کی شام اچانک ٹی وی چینلز پر پولیس نے2ملزمان کوپیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ لوگ بھارت فوجی ٹریننگ لے کر آئے ہیں ان کا تعلق ایم کیوایم سے ہے اور ”را“کی مدد سے دہشتگردی کرنے میں ملوث ہیں ان کولندن سے ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت ہدایات دیتی تھی دونوں ملزمان کے نام ریحان طاہر اور جنید بتائے گئے اور پریس کانفرس ایس ایس پی ملیر راؤ انوارنے بلائی اور یہ بھی کہہ دیا کہ ایم کیوایم ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ دہشتگرد جماعت ہے اور ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) سے بھی زیادہ خطرناک اور سنگین جرائم میں ملوث ہے ملک دشمن ایجنسی ”را“ کے ساتھ رابطوں میں ہے اور ”را“ہمارے ملک دانشوروں اساتذہ ڈاکٹروں اورشریف مگر قابل لوگوں کو قتل کر ارہی ہے۔
حکیم سعید اور شاہد حامد جیسے لوگوں کو قتل کیا گیا۔ایم کیوایم پر پابندی لگا دی جائے۔ملزمان سے مزید تفتیش کیلئے جے آٹی بنائی جائے۔ایک سوال کے جواب میں راؤ انوار نے یہ بھی کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ ایم کیو ایم اب کیسے ہڑتال کرتی ہے۔ان بلند بانگ دعوؤں اور سیاسی باتوں کو ایک باوردی پولیس افسر کی زابانی ٹی وی پر براہ راست جس کسی نے بھی سناوہ حیران ضرورہوا۔
ایم کیوایم کے سیاسی مخالفین بھی حیران رہ گئے کہ اتنے سنگین الزامات اور ایک پولیس افسر کی پریس کا نفرس کیا یہ سب کچھ اعلیٰ حکومتی شخصیات کی منظوری اور آشیر باد ہو رہا ہے یاایس ایس پی نے اپنے طور پرپریس کا نفرس بلا کر سیاسی جماعت سے لے کر پڑوسی ملک تک ہر قسم کے الزامات لگادیئے اور حکومتی شخصیات سندھ سے لے کر اسلام آباد تک خاموش تما شائی بنی رہ گئی۔
ایم کیوایم کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ تھوڑی دیر بعد اہم پریس کا نفرس کی جا ئیگی ۔اس سے پہلے کہ ایم کیوایم کے رہنماؤں کی پریس کا نفرس ہوتی راؤ انوار کو مختلف ٹی وی چینلز نے اپنے سیاسی ٹاک شوز میں براہ راست مہمان کے طور پرآن لائن لے لیا۔راؤ انوار 1989ء سے لے کر2015ء تک اپنے مختلف آپریشنز کا رروائیوں اور ایم کیوایم کے سیاسی سفر اور اس سے جڑے ہوئے دہشتگردی اور جرائم کے الزامات اور کیسز پر کھل کر بولتے چلے گئے۔
تحریک انصاف اور مسلم لیگ کی بعض شخصیات بھی سیاسی ٹاک شوز میں شامل تھیں ۔رات کو ایم کیوایم کے رہنماؤں نے عباس حیدر ضوی اور ڈاکٹر فاروق ستار کی سربراہی میں پریس کا نفرس کے ذریعے راؤ انوار کے تمام الزامات کو مستر دکرتے ہوئے انتہائی بھونڈ،مضحکہ خیز اور لغو قراردیدیا بلکہ راؤ انوار کی پریس کا نفرس کو ایک سیاسی ڈرامہ کہا اور ایک روز قبل وزیراعلیٰ ہاوس میں ہو نے والی اہم میٹنگ کی طرف اشارہ بھی کیا اور کہا کہ آصف زرداری اور وزیراعلیٰ کہ میٹنگ میں تیسر ا شخص کون تھا اس کے بارے میں میڈیا خود کھوج لگائے۔
عباس حیدر رضوی کاکہنا تھا کہ کسی نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے ترکش سے تیرایم کیو ایم پر برسائے ہیں پاکستان کے عوام باشعور ہیں کراچی کے عوام تو اور بھی زیادہ باشعور اور سب سے زیادہ پڑھے لکھے ہیں وہ بخوبی سمجھ گئے ہیں۔کہ ایم کیوایم کیخلاف اس قدر گھسے پٹے اور چھوٹے الزامات لگا کر سندھ میں کون فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے کم کہے کو زیادہ سمجھا جائے۔

ایم کیوایم کی پریس کا نفرس کے بعد سیاسی اور قانونی حلقوں میں راؤ انوار کی پریس کا نفرس کے ماسٹر کی تلاش کے لئے بحث شروع ہوگئی۔وزیراعلیٰ ہاوس میں آصف زرداری اور وزیر اعلیٰ کی میٹنگ کے حوالے سے تیسرے شخص کی تلاش بھی زیرلیب آگئی ۔کیا وہ شخص خودراؤ انوار تھا۔ٹی وی تبصروں اور سوشل میڈیا پر تبصروں میں کھل کر کہا گیا کہ راؤ انوار کو آصف زرداری کی قربت اور اعتماد حاصل ہے۔
سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس میں اس افسر کو عہدے سے ہٹانے کیلئے کہا تھا۔اعلیٰ عدالتوں میں اس پولیس افسر کے خلاف زمینوں پر قبضے سے لے کر جعلی پولیس مقابلوں تک مختلف الزامات لگ چکے ہیں لیکن حکومت سندھ کیلئے یہ افسر آنکھوں کا تارا بنا رہا ہے اور اسے لامحدود اختیارت بھی حاصل رہے ہیں۔راؤ انوار1992ء کے کراچی آپریشن میں بھی شامل تھا خودراؤانوار نے ٹی دی شوز میں آکر کہا کہ کراچی آپریشن کے کئی پولیس افسروں کو ماراجاچکا ہے میں بھی ایم کیو ایم کی ہٹ لسٹ پر تھا اور مجھ سمیت چند افسران باقی رہ گئے ہیں ۔
ماضی میں ،میں خود ٹرانسفر کروا کر بلوچستان چلا گیا تھا کیو نکہ میرا نام ہٹ لسٹ میں شامل تھا۔1988ء سے ایم کیوایم کو دیکھ رہا ہوں اور ان کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں۔سابق آئی جی افضل شگری نے27سال پہلے رپورٹ لکھ دی تھی کہ ایم کیوایم سیاسی جماعت نہیں بلکہ کچھ اور ہی معاملہ ہے۔ماضی میں میرے پاس جو عہد ے اور ذمہ داریاں تھیں ان کے مطابق ایکشن لیتا رہا لیکن ایم کیوایم کے کاموں کے بارے میں کا فی کچھ جانتا تھا اور اب دشمن ملک بھارت سے ٹریننگ لے کر آنے والے دو ملزمان کو پکڑا تو انہوں نے ”را“سے رابطوں اور ایم کیوایم کی لندن قیادت سے براہ راست ہدایات ملنے کا اعتراف کیا چنانچہ ان ملزمان کو میڈیا کے سامنے پیش کر دیا۔
پریس کا نفرس میں نے خودبلائی ۔آئی جی سندھ پولیس شہر میں موجود نہیں تھے۔پریس کا نفرس میں بتایا گیا کہ ملزمان کو گزشتہ رات پکڑا گیا ہے۔ٹی وی شو میں راؤانوار نے بتایا گیا کہ ملزمان کو پرسوں رات پکڑلیا تھا۔متحدہ کے رہنماؤں نے پریس کا نفرس میں بتایا کہ ریحان کو 25فروری اور جنید کو24مارچ کو اٹھایا گیا تھا اور ان بازیابی اور ہائی کے لئے سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن بھی دائر کی گئی تھی۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-13

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان