تازہ ترین : 1
MQM K Liye elzamat Se Bachna Mushkil

ایم کیو ایم کیلئے الزامات سے بچنا مشکل

پہلے مرحلے میں جب ایم کیو ایم پر ہاتھ ڈالا گیا تو اس اقدام کے خلاف چیخ و پکار لندن میں بھی سنی گئی اگرچہ کراچی میں آپریشن کے ”کپتان“ وزیر اعلیٰ سندھ ہیں

نواز رضا
جب سندھ حکومت نے کراچی میں امن و امان کی بگڑتی صورت حال کے پیش نظر رینجرز کوطلب کرنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت کچھ جماعتوں جن میں ایم کیو ایم پیش پیش تھی نے کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر دیالیکن وفاقی حکومت کراچی میں امن وامان کی صورت حال بہتر بنانے کے لئے صرف رینجرز ہی بھجوانے پر آمادہ ہوئی ابتدا میں تمام سیاسی جماعتوں بشمول ایم کیو ایم نے کراچی کو رینجرز کے حوالے کرنے کا خیر مقدم کیا لیکن جلد ہی یہ خوشی کافور ہوگئی جب رینجرز نے کراچی کی دو بڑی جماعتوں کے عسکری ونگز پر ہاتھ ڈالنا شروع کیا ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر ” نائن زیرو “ پر چھاپا مارا گیا تو ایم کیو ایم کی طرف سے شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ ایم کیو ایم کا” میڈیا ٹرائل “ کر کے مطلوبہ سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے پہلے مرحلے میں جب ایم کیو ایم پر ہاتھ ڈالا گیا تو اس اقدام کے خلاف چیخ و پکار لندن میں بھی سنی گئی اگرچہ کراچی میں آپریشن کے ”کپتان“ وزیر اعلیٰ سندھ ہیں لیکن عملاً تمام اختیارات رینجرز کے پاس ہیں جس کا سربراہ میجر جنرل رینک کا فوجی افسر ہے اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ آرائی نہیں ہو گا کہ اس وقت عملاً کراچی کا نظم و نسق فوج کے پاس ہے رینجرز کے چھاپوں سے پیپلز پارٹی اور سنی تحریک کو بھی شکا یت کا موقع ملا تاہم پیپلز پارٹی اس وقت خم ٹھونک کر ایسٹیبلشمنٹ کے سامنے کھڑی ہو گئی جب ”ایپیکس کمیٹی “کے اجلاس میں ڈی جی رینجرز نے23افراد کی گرفتاری کے فہرست پیش کردی جو کراچی میں سالانہ230ارب روپے کا بھتہ اکھٹا کر کے چند بڑے لیڈروں تک پہنچاتے ہیں ان میں سے کچھ کا تعلق پیپلز پارٹی سے بتایا جاتا ہے آصف علی زرداری نے ان ہی لوگوں کی گرفتاری پر شور شرابہ کیا لیکن جب سے ایم کیو ایم کے ” را“ سے رابطوں کے بارے میں بی بی سی کی رپورٹ منظر عام پر آئی ہے ملکی سیاست میں بھونچال آگیا ہے ویسے بھی ایم کیو ایم جس کا پہلے ہی سے” گھیرا “تنگ کیا جا رہا تھا بی بی سی کی رپورٹ نے اسے دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ موجودہ صورت حال میں ایم کیو ایم مرعوب ہونے کی بجائے نہ صرف ایسٹیبلشمنٹ کو آنکھیں دکھارہی ہے بلکہ دھمکی آمیز رویہ اختیار کر لیا ہے ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت یہ سمجھتی ہے کہ الطاف حسین کو پارٹی کی قیادت سے الگ کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جس کے بعد الطاف حسین جو آئے روز اپنی پارٹی کے کارکنوں سے ناراض ہو کر قیادت سے الگ ہونے کے اعلانات کرتے رہے ہیں نے جب یہ محسوس کیا کہ ان کو پارٹی کی قیادت چھوڑ دینے کا آپشن دیا جا رہا ہے وہ ایک بار پھر ایسٹیبلشمنٹ کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں اور دھمکی دی ہے کہ اگر ان کو ہٹایا گیا تو گلی کوچوں میں جنگ ہو گی گویا انہوں نے باور کرادیا ہے کہ وہ کسی صورت پارٹی کی قیادت سے الگ نہیں ہوں گے خواہ انہیں اس کی کتنی ہی قیمت کیوں نہ ادا کرنا پڑے ہفتہ عشرہ کے دوران وفاقی دارا لحکومت اسلام آباد میں ایم کیو ایم کے حوالے سے غیر معمولی سرگرمیاں دیکھنے میں آئی ہیں قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر عبد الرشید گوڈیل وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سمیت دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کر کے یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ ایم کیو ایم کو دیوار سے لگا نے کی کوشش نہ کی جائے یہی وجہ ہے حکومت پاکستان نے اس رپورٹ کے حوالے سے انتہائی محتاط طرز عمل اختیار کر رکھا ہے بی بی سی کی رپورٹ کا سارا” ملبہ “ایم کیو ایم کی قیادت پر ڈالنے سے گریز کیا ہے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بی بی سی کی رپورٹ کے حوالے سے انتہائی محتاط انداز میں گفتگو کر رہے ہیں انہوں نے یہ کہہ کر کہ ایم کیو ایم میں بڑے اچھے لوگ بھی ہیں ان کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا جاسکتا ” ایم کیو ایم کو بحثیت سیاسی جماعت ” بیل آؤٹ“ کیا ہے تاہم وہ اس بات پر مصر ہیں اس معاملہ کی شفاف تحقیقات کرکے ذریعے حقائق منظر عام پر آنے چاہیں جب تک تحقیقات اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچتی کوئی قیاس آرائی نہ کی جائے حکومت پاکستان نے ایم کیو ایم کے بھارت سے فنڈز لینے کے بارے میں بی بی سی کی رپورٹ پر حقائق معلوم کرنے کے لئے برطانوی حکومت سے مدد طلب کر لی ہے اس سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے برطانوی ہائی کمشنر فلپ مارٹن کی ملاقات بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے ملاقات کے اگلے ہی روز وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی منظوری سے وزارت خارجہ نے برطانوی حکومت کو خط لکھ دیا ہے جس میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی طرف سے ایم کیو ایم کو بھارتی فنڈ ملنے کے انکشاف کے بعد برطانوی حکومت سے حقائق کی تہ تک پہنچنے کیلئے حکومت پاکستان کی مدد اور تمام مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے واضح رہے کہ بی بی سی نے چند روز قبل اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ایم کیو ایم کے لندن میں مقیم 2 رہنماؤں کے بیان کے مطابق بھارت ایم کیو ایم کی فنڈنگ کرتا ہے اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کو تربیت کیلئے بھی بھارت بھجوایا جاتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ایم کیو ایم کا محض میڈیا ٹرائل تھا یا اس کے پیچھے کچھ حقائق بھی تھے سر دست کوئی بات حتمی طور نہیں کہی جا سکتی اس کے لئے ہمیں کچھ دن انتظار کرنا پڑے گاڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں جہاں دو ملزماں کی گرفتاری سے اہم پیش رفت ہوئی ہے وہاں حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں گرفتار ملز م معظم علی تک برطانوی پولیس کو رسائی دے دی ہے برطانوی پولیس کی دو رکنی ٹیم تحقیقات کے لئے پاکستان پہنچ چکی ہے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں ملوث تینوں ملزماں کو اسلام آباد لایا گیا ہے تاہم اس بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان جو ایم کیو ایم سے سیاسی اختلافات رکھنے کے باوجود کے بارے میں اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں کا کہنا ہے ” اس کیس کو ایم کیو ایم کے حوالے سے نہ دیکھا جائے ایم کیو ایم نے تو خود بھی ڈاکٹر عمران قتل کیس کی تحقیقات کا مطالبہ کر رکھا ہے لہذا اس معاملہ پر قیاس آرائیاں نہ کی جائیں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے تینوں گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ کے لئے جے آئی ٹی بنائی جا رہی ہے اس کیس کے بارے میں بھی آئندہ چند دنوں اہم پیش رفت کا امکان ہے2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے بارے میں تحقیقات کرنے والا جوڈیشل کمیشن ماہ رواں کے پہلے ہفتے اپنا کام مکمل کر لے گا الیکشن کمیشن ،پاکستان، تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جوڈیشل کمیشن کو تحریری دلائل جمع کرا دئیے ہیں الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کو شفاف قرار دیا ہے اورکہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اپنی جانب سے لگائے گئے کسی ایک الزام کا ثبوت پیش نہیں کر سکی نادرا رپورٹس سے دھاندلی ثابت ہوئی اور نہ ہی بیلیٹ پیپرز کی اردو بازار سے طباعت کا کوئی ثبوت فراہم کیا الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اضافی بیلٹ پیپرز کے غلط استعمال اور شکوک و شبہات کو بھی بے بنیاد قرار دیا ہے جب کہ تحریک انصاف جوڈیشل کمیشن کے سامنے اپنے تجویز کردہ گواہان کے علاوہ متعدد الزامات سے بھی دستبردار ہو گئی ہے دلچسپ امر یہ ہے پاکستان تحریک انصاف نے جوڈیشل کمیشن میں 35پنکچرز کی بات کی اور نہ ہی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اور جسٹس رمدے کا انتخابی دھاندلیوں میں نام تک لینے کی جرات کی وفاقی حکومت نے عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کرانے کے لئے پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان تحرک انصاف کے درمیان معاہدے کی نقول کمیشن کے سامنے جمع کرادی ہیں اب عمران خان نے نیا الزام عائد کیا ہے کہ الیکشن کمشن مسلم لیگ (ن) سے ملا ہوا ہے اس کے موقف میں بار تبدیلی آگئی ہے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بھی اپنے تحریری دلائل جمع کرا دئیے ہیں جن میں کہا گیا ہے پی ٹی آئی نے شواہد دئیے ہیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ دھاندلی کا” ماسٹر مائنڈ“ کون تھا؟ اب پی ٹی آئی نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے جب رسائی ہی نہیں ہے تو ریکارڈ کیسے لا سکتے ہیں اور لہذاس نے شواہد دینے کی بھی ذمہ داری الیکشن کمیشن پرڈال دی ہے جس کو موتد الزام بھی ٹھہراتی ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے پی ٹی کا کیس کس قدر ”مضبوط“ ہے ؟ آنے والے میں دنوں جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہو گا اگر جوڈیشل کمیشن نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے موقف کو تسلیم کر لیا تو پی ٹی آئی کو سیاسی میدان سے بوریا بستر گول کرنا پڑے گا بصورت دیگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو جانا ہو گا بس جوڈیشل کمیشن کی فائنڈنگ کے لئے ہمیں ہفتہ عشرہ انتظار کرنا ہو گا۔
وقت اشاعت : 2015-07-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں