بند کریں
پیر مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مودی کے ساتھ من کی بات، پاکستان کے لئے طبل جنگ۔۔۔۔
صدر اوبامہ آل انڈیا ریڈیو کے شو’من کی بات‘ میں نریندرا مودی کے ساتھ ہم نوائی کریں گے ۔۔ریڈیو سٹوڈیو کے باہرری پبلک ڈے تقریب کے مہمان خصوصی بنیں گے۔۔ اور من کی دیگر باتیں کریں گے
مصنف : نازش ظفر
سٹیٹ آف یونین تقریرجو عام طور پر جنوری کے آخری ہفتے میں ہوتی ہے اکیس جنوری کو ہی ہو گئی۔۔ امریکی صدر بارک اوباما نے پیرس کی گلیوں سے لے کر پاکستان کے سکولوں تک دہشتگردی کا شکار افراد کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اور دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانے کے لیے یکطرفہ کارروائی کا امریکی عزم ایک بار پھر واضح کر دیا۔۔ بنیادی ہدف داعش تنظیم قرار پائی۔
۔
صدر اوبامہ کے اس اعلان کے ساتھ ہی ہال تالیوں سے یوں گونجا جیسے سپاہ کا لشکر، سالار کی پکار پر لبیک کہہ رہا ہو۔۔ اگر کہیں اس نعرے کی پکار پر خا موشی کے سوا کچھ نہیں ملتا تو وہ ' وہ سر زمین ہے جسے میدان جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں وزیر داخلہ سے داعش کی موجودگی بابت سوال کیا جائے تو ایسے الزامات کو حکومت کے خلاف سازش قرار دے کر دامن جھاڑ لیتے ہیں ۔
۔ اس خط کی بارے میں شائد انہیں حقیقتاً علم ہی نہ ہو جو ان کی نومبر دو ہزار چودہ کی اس گفتگو سے بیس روز قبل بلوچستان کی حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت اور انٹیلی جنس اداروں کو لکھا گیا تھا جس میں داعش کی جانب سے جاری کردہ ایک میمو کے متعلق آگاہ کیا گیا ۔۔ میمو میں پاکستان سے ہنگو سمیت افغان بارڈر کے ساتھ علاقوں سے دس ہزار بھرتیوں کا دعوی کیا گیا تھا، ساتھ ہی پاکستانی فوج پر حملوں اور ملک بھر میں فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کا عزم کیا گیا تھا۔
۔
کانوں سے بہری وزارت داخلہ کو ممکن ہے داعش کی موجودگی کی شنید نہ پڑی ہو لیکن کیا ملتان ، لاہور اور اسلام آباد سمیت چھوٹے بڑے شہروں میں لگے پوسٹر اور افغان مہاجرین بستیوں میں بٹتے ہوئے پمفلٹ دکھائی بھی نہ دئیے۔۔۔
تین روز قبل بنگلہ دیش سے چار داعش جنگجو گرفتار ہوئے ۔۔ سخاوت الکبیر، انور حسین ، ربی الاسلام اور نذر السلام ۔
۔ گرفتار شدگان نے تفتیش کے دوران پاکستان میں ٹریننگ لینے کا اعتراف کیا۔۔
القاعدہ کی طرز پر داعش کے منصوبوں میں بھی خطہ خراسان کے لئے خصوصی پلاننگ موجود ہے۔ پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور مشرق وسطی کے چند علاقوں سمیت اس جغرافیائی خطے میں دہشت گردی کی باگ ڈور ، سابق طالبان لیڈر ملا سعید اورکزئی کو د ینے کی خبر بھی ابلاغ عامہ پر آچکی ہے۔
۔ لیکن ابلا غ شائد واقعی عامہ یعنی عوام کے لئے تھا، خواص یعنی سیکیورٹی زمہ داران کے لئے نہیں ۔۔۔
بدھ کے روز شام سے ترکی کے راستے پاکستان آنے والے داعش جنجو یوسف السلفی کی دو ساتھیوں سمیت گرفتاری بھی ہو چکی۔۔
لیکن ملک میں داعش کی موجودگی اور کارروائیوں کے متعلق اقرار ابھی باقی ہے۔ ان کی کارروائیوں سے نمٹنے اور ملک کو ان سے پاک کرنے کا قومی ایکشن پلان ۔
۔ شائد خدا نخواستہ ایک اور پشاور حملے جیسے واقعے کا منتظر ہو۔۔
سٹیٹ آف یونین خطاب میں جنگ کا طبل بجاتے ہی اوبامہ بھارت یاترا پر روانہ ہوگئے ۔۔ دس سال تک نریندر مودی کو ویزہ نہ دینے والا ملک ان کے پردھان مندری بننے کے بعد بغل کی چھری بھول کر ۔ منہ کی رام رام سننے کو تیار ہے۔۔۔
صدر اوبامہ آل انڈیا ریڈیو کے شو'من کی بات' میں نرندر مودی کے ساتھ ہم نوائی کریں گے ۔
۔ریڈیو سٹوڈیو کے باہرری پبلک ڈے تقریب کے مہمان خصوصی بنیں گے۔۔ اور من کی دیگر باتیں کریں گے۔۔
صدر اوبامہ کی ایشیاء پیسیفک پالیسی اور نریندر مودی کی ایکٹ ایسٹ پالیسی کے لیے ملاقات انتہائی ساز گار ہوگی۔۔ دو بڑی جمہوری قوتوں کا ملاپ یوں بھی فطری ہے اور چین کے خلاف موثر حریف بننے کی بھارتی صلاحیت اس ملاپ کو چار چاند لگا تی دکھائی دیتی ہے۔
۔ پاکستان کے لیے ایسے میں اوبامہ کے پاکستان نہ آنے کی شکائت اول تو بنتی ہی نہیں، بنتی ہو تو سیکیورٹی کے بندو بست کے لئے پہلے ایک کل جماعتی کانفرنس بلا لی جائے۔۔۔
توانائی، ماحول اور معاشی منصوبے ملاقاتی ایجنڈا کا حصہ ہیں۔۔ پاکستان کے ساتھ ورکنگ باوٴنڈری پر فائرنگ کے واقعات سمیت، انسانی حقوق کی دوسری خلاف ورزیاں شائد شامل گفتگو نہ ہوں۔
۔
خطے میں طاقت کا پلڑا یوں ایک طرف جھک جانے پر پاکستان کا دفاع کیا ہوگا۔ ایک طرف انتہا پسند سیاسی جماعت کا لیڈر اقوام عالم کی ہمدردی اور تعاون سمیٹنے میں کامیاب ہو رہا ہے دوسری طرف دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کا حلیف بن کر پچاس ہزار جانیں گنوا کر بھی پاکستان اقوام عالم کے سامنے کٹہرے میں کھڑا دکھائی دیتا ہے۔۔سوال وہی پرانا یہ ملک ملزم ہے یا مدعی ؟ صحت جرم کا انکار کیوں کر کرے، کسے وکیل کرے اور کس سے منصفی چاہے۔
۔۔
اس سے پہلے کہ پتھر کے دور میں بھیجنے کی دھمکی داعش کے حوالے سے دی جائے۔۔۔ ڈو مور کی گردان اور زور پکڑ جائے۔۔ ڈرونز کی نئی کھیپ آئی ایس کمانڈروں کے تعاقب میں اتاری جائے۔۔ پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت داعش کے ہاتھوں پشاور جیسے بڑے واقعے کا انتظار کئے بغیر اس نئے فنے کا سر قلم کرنے کی منصوبہ بندی اور کارروائی کیوں نہیں کرتی۔۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ مسئلے کی موجودگی کو تسلیم کیا جائے۔۔۔
صدر اوبامہ ایک نئی جنگ کا طبل بچا چکے۔۔ میدان جنگ اگر ایک بار پھر پاکستان کی سر زمین قرار پائی تو پچاس ہزار مزید جانوں کی قربانی دی جاسکتی ہے یا یہ جنگ اپنے بل بوتے پر لڑ کر پاکستان کو داعش اور امریکہ دونوں کی فتنہ انگیزی سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-26

(1) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     نازش ظفر

نازش ظفر کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان