بند کریں
پیر مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مصائب نے جنوبی پنجاب کا رُخ کر لیا!!
محرم الحرام میں بلدیاتی انتخابات ‘ خدا خیر کرے۔۔۔۔ بلدیاتی انتخابات کی سرگرمیاں جاری ہیں اور ”کاغذی کاروائی“ مکمل کی جا رہی ہے ۔ مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی میں نظر آرہا ہے مگر ملتان میں دو اُمیدواروں کے جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے
خالد جاوید مشہدی:
مشکلات اور مصائب نے شاید جنوبی پنجاب کو دیکھ لیا ہے۔ پہلے کراچی میں تودہ گرنے سے 13افراد جاں بحق ہو گے جن کا تعلق خان پور اور یزمان سے تھا اس سے پورے علاقے میں صف ماتم بچھ گئی پھر خود سوزی کے دو واقعات ہوئے۔ الیکٹرانک میڈیا پر اس حوالے سے چیخ وپکار لگی رہی حتیٰ کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف خصوصی طیارے سے مظفر گڑھ آپہنچے ۔
وہ خود سوزی کرنے والی خاتون کے گھر پہنچ گے مگر خود سوزی کرنے والے شہباز کے اہلخانہ منتظر ہی رہے۔ وزیراعلیٰ ابھی علاقے میں ہی تھے کہ تونسہ میں لیگی رُکن قومی اسمبلی امجد فاروق کھوسہ کے ڈیرے پر خودکش حملہ ہو گیا جس میں 7بے گناہ جان سے گے ،کم و بیش 15افراد زخمی ہو گے۔ حملہ کی نوعیت بالکل وہی تھی جو مرحوم کرنل شجاع خانزادہ کے ڈیرے پر ہو اتھا۔
امجد فاروق کھوسہ کی خوش نصیبی تھی کہ وہ اس وقت اسلام آباد میں تھے۔ جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کی جڑیں عرصہ سے موجود ہیں۔ لوگ پکڑے بھی جا رہے ہیں۔ اور گزشہ ہفتہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی جب مظفر گڑھ سے دومطلوب دہشت گرد پکڑے گئے جو ایم کیو ایم کے رُکن قومی اسمبلی رشید گوڈیل پر قاتلانہ حملے میں ملوث تھے۔
ذرائع کے مطابق ان میں سے ایک نے رشید گوڈیل پر گولی چلانے کا اعتراف بھی کیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایسی اطلاعات تھیں کہ ایم کیو ایم نے خود ہی رشید گوڈل پر حملہ کا ڈرامہ رچایا تھا۔ اس سلسلے میں ایک قابل غور پہلے یہ ہے کہ مبینہ طور پر دونوں ملزم کراچی میں گرفتار ہونے والے ایک مبینہ ٹارگٹ کِلر پیار علی کی نشاندہی پر گرفتار ہوئے اور پیار علی رشید گوڈیل کا برادر نسبتی ہے۔
پیار علی کو بھی مبینہ طور پر رشید گوڈیل پر حملے کے الزام میں ہی پکڑا گیا تھا۔اس نے بتایا کہ اسے ایک شخص کے قتل کرنے کا معاوضہ50ہزار روپے دیا جاتا تھا۔ جنوبی پنجاب میں دہشت گردی کی بھی ایک تاریخ ہے اور حالیہ دھماکہ اس سلسلے کا چوتھا حملہ تھا۔ دہشت گردی کی ایک بڑی کارروائی 15جنوری 2009 کو ہوئی جب امام بارگاہ جوہر علی میں چہلم کے جلوس پر حملہ کیا گیا جس میں 33 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوئے۔
اسی سال 15دسمبر کو سابق گورنر پنجاب ذوالفقار کھوسہ کے گھر پر حملہ کیا گیا جس میں24 افراد جاں بحق اور 80 سے زائد زخمی ہوئے۔اس سے اگلے سال 3اپریل 2010 کو ڈی جی خان کے نواحی قصبہ سخی سرور میں دربار پر عرس کے دروان خود کش حملہ کیا گیا جس میں40 افراد جاں بحق ار 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ادھر محرم الحرام کا آغاز ہو چکا ہے اور دوسری طرف بلدیاتی انتخابات کے لیے بھی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔
بعض حلقوں نے تجویز پیش کی تھی کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد محرم الحرام کے بعد کروایا جائے مگر ایسا نہ ہو سکا۔اس حوالے سے گزشتہ ہفتے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے ملتان کا دورہ کیا اورپولیس حکام کے ساتھ اجلاس میں محرم الحرام سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کی طرف سے محرم الحرام کے اجتماعات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں ۔
خدانہ کرے ایسا ہواور یہ ایام امن اور سلامتی سے گزر جائیں۔ جہاں تک بلدیاتی انتخابات کا تعلق ہے تو این اے 122 لاہور اور این اے 144 اوکاڑہ کے ضمنی انتخابات کے نتائج سے بلدیاتی انتخابات کی صوتحال بھی متاثر ہو گئی۔ یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو ایک غیبی مدد میسر آئی ہے ۔ اگرچہ عمران خان اب بھی بہت کچھ کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں مگر یہ اتنا بڑا جھٹکا ہے کہ پی ٹی آئی کو سنبھلنے میں کچھ دیر لگے گی۔
دوسری طرف عمران خان کی منفی پالیسیوں سے پارٹی کے اندر بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک نجی ٹی وی نے باوثوق انداز میں خبر چلائی کہ شاہ محمود قریشی عمران خان کی طرف سے چوہدری محمد سرور کو پنجاب کے معاملات میں زیادہ اہمیت دئیے جانے کے خلاف احتجاجاََ پارٹی سرگرمیوں سے علیحدہ ہو کر ملتان پہنچ گے ہیں اورانہوں نے اپنے فون بھی بند کر لیے ہیں۔
اس کی بعد ازاں نیم دلی سے تردید بھی کی گئی مگر باوثوق ذرائع یہ دعویٰ کر رہے ہیں۔ پارٹی ترجمانوں کے لیے عمران خان کی پالیسیوں کا دفاع مُشکل ہو رہا ہے ایسے ہی ایک ذریعہ نے بتایا کہ پی ٹی آئی پنجاب کے ایک سینئر عہدیدار رُکن پنجاب اسمبلی نے انہیں اعتماد میں لیتے ہوئے راز دارانہ انداز میں بتایا کہ کیا کریں بس ”پھنس“ گے ہیں۔ دریں اثناء بلدیاتی انتخابات کی سرگرمیاں جاری ہیں اور ”کاغذی کاروائی“ مکمل کی جا رہی ہے ۔
مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی میں نظر آرہا ہے مگر ملتان میں دو اُمیدواروں کے جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے بلا مقابلہ انتخاب کے بعد پی ٹی آئی کی صفوں میں پریشانی کے آثار ہیں ان میں یونین کونسل 25 سے سابق ایم پی اے سعید انصاری اور یونین کونسل 68 سے ایم پی اے احسان الدین قریشی کے صاحبزادے منور احسان قریشی دونوں چیئرمین بلا مقابلہ منتخب ہو گے ہیں۔ ادھر سید احمد محمود نے اپنے بیٹے اور ایک حلیف کو بلا مقابلا منتخب کروا کر پیپلز پارٹی کا چھوٹا سا دیا جلانے کی کوشش کی ہے۔ ورنہ پیپلز پارٹی کا کوئی پرُسان حال نظر نہیں آتا اور بظاہر ایسے کوئی آثار نظر نہیں آرہے کہ پارٹی بلدیاتی انتخاب میں اپنی زندگی کا کوئی ثبوت دے پائے گی۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-23

(0) ووٹ وصول ہوئے