تازہ ترین : 1
Mahaz Arai Or Kashedgi Ka Zimedar Kon

محاذ آرائی اور کشیدگی کاذمہ دار کون؟

سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حکومت کی طرف سے دانش مندی اور سیاسی تدبر سے کام لیا جاتا تو پی ٹی آئی کی طرف سے 31اگست سے پہلے تک کے مذاکرات میں طے پانے والے نکات سے اس کا سلسلہ دوبارہ اسی جگہ سے بحال ہوسکتا تھا

احمد کمال نظامی:
تحریک انصاف کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاجی مہم کے ”پلان سی“ کے پہلے مرحلے کے لئے عمران خان نے 8دسمبر کو فیصل آباد کو بند کرنے کی کال دے رکھی تھی۔ عمران خان کی طرف سے یہ بات کہی گئی تھی کہ ان کی پارٹی شہر کے بعض داخلی راستوں کو بند کر کے رہے گی لیکن مسلم لیگ (ن) کے بعض لیڈروں نے بھی اس کال کو مکمل ناکام بنا نے تہیہ کررکھا تھا۔
جنہوں نے آٹھ بازاروں کے اندر دکانوں کو کھولنے کیلئے 7دسمبر کو ہی مسلم چوک گھنٹہ گھر اور آٹھ بازاروں میں اپنی سٹریٹ پاور کا مظاہر شروع کردیا تھا۔ 7دسمبر کی شام کو فیصل آباد شہر کی فضا میں پیدا ہونے والی سیاسی تلخی ہی سے اگلے روز کا ماحول واضح ہوگیا تھا۔ دانشمندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ حکومت پارٹی کے کارکنوں کو گھروں سے نکلنے میں روک دیا جاتا۔
ساتھ ہی پی ٹی آئی سے نپٹنے اور ان کی طرف سے قانون کو ہاتھ میں لینے کی صورت میں انہیں صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ذریعے روکنے اور احتجاج کو قانون کے دارئے میں رکھنے کی پالیسی سے کام لیا جاتا۔ مگر افسوس کہ تحریک انصاف کی کال کے جواب میں سخت رد عمل کا مطارہ کیا گیا۔ فیصل آباد کی سیاست پر نظر رکھنے والے ہر شخص کو معلوم ہے کہ سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں اور وزیر مملکت عابد شیرعلی میں فیصل آباد کی سیاست تک شدید سیاسی مخالفت ہے۔
حمزہ شہباز نے 7دسمبر کو اپنے خفیہ دورہ فیصل آباد کے دوران سرکٹ ہاؤس میں ان دونوں کی ایک دوسرے سے صلح کرادی تھی لیکن ان دونوں کے سیاسی ڈیروں میں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کی سیاست کے علاوہ کبھی ایک دوسرے کیلئے کلمہ ء خیر کا اظہار نہیں ہوتا۔ 8دسمبر کی عمران خان کی کال کو ناکام بنانے کیلئے رانا ثناء اللہ کاں تو کئی دن پہلے سے ہی متحرک ہوگئے تھے اور ایک روز پہلے انہوں نے شہر کو بند کرانے کے حوالے سے عمران خان کے پلان سی پر تبصرہ کرتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ آٹھ دسمبر آں ے دو، دیکھ لیں گے اور شاید ہی وجہ تھی کہ ان کے سیاسی ڈیرہ کے مسلم لیگی کارکنوں نے ڈی ٹائپ کالونی چوک اور ناولٹی پر پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے سمندری روڈ پر فیصل آباد شہر میں داخل ہونے والی ٹریفک کو روکنے کے لئے ٹائر جلانے اور زبردستی ہڑتال کروانے والوں کے خلاف صف آرا ہونے میں کامیاب رہے۔
پولیس کو ان دونوں چوکوں میں اگرچہ لاٹھی چارج کرنا پڑا اور انہیں منتشر کرنے کیلئے واٹر گن کا استعمال بھی کرناپڑا۔ مگر ٹکراؤ اور محاذ آرائی کی صورت حال میں مظاہرین پر کسی شخص کو گولیاں چلانے کاموقع بھی مل گیا۔ کہا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کے دو کارکن جاں بحق ہوئے اور بعض زخمی بھی ہوئے لیکن ایک کارکن حق نواز کی نعش تو سب کے سامنے آئی کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے حق نواز کی یہ نعش رانا ثناہ اللہ خاں کے ڈیرے کے سامنے رکھ کر وہاں زبردست احتجاج بھی کیاگیا۔
دوسری نعش کے حوالے سے خود عمران خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں معلوم نہیں ہے کہ دوسرا شخص کون ہے جو جاح بحق ہوا ہے اور کسی کو معلوم نہیں ہے کہ اس کی نعش کہاں ہے۔ جبکہ رانا ثناء اللہ خان نے واضح کیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کا کارکن تھا جسے خود پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ٹائروں کو آگ لگاتے ہوئے جھلس جانے پر اٹھا کر نہر میں پھینک دیا تھا۔ بہر حال دو سیاسی جماعوں کی سیاسی کشیدگی میں فائرنگ سے حق نواز تو موت کے منہ میں چلا گیا جبکہ جو لوگ زخمی ہوکر الائیڈ ہسپتال میں داخل ہوئے انکے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ انہوں نے کسی بھی سیاسی جماعت سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔
اگر یہ درست ہے کہ وہاں موجود عام لوگ گولیوں کی زد میں آنے سے زخمی ہوئے ہیں تو پھر انتظامیہ اور پولیس کی اس حوالے سے اور بھی ذمہ داری تھی کہ وہ نظم و نسق برقرار رکھتی۔دوسری جانب سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ جنہوں نے 17جون کے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد اپنی وزارت سے استعفیٰ دے رکھا ہے، بہتر ہوتا وزیراعلیٰ پنجاب ان کو پی ٹی آئی کی کال کے خلاف کسی بھی طرح کے جوابی اقدام اور بیانات سے روک دیتے۔

چونکہ حق نواز کے جاں بحق ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں نے نعش رانا ثناء اللہ خاں کے ڈیرے کی طرف لے جانے کی کوشش کی تھی اس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی اور پی ٹی آئی کے لیڈروں کے دباؤ پر جاں بحق ہونے والے سیاسی کارکن حق نواز کے بڑے بھائی مسٹر عطاء اللہ کی مدعیت میں جو ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے اس میں رانا ثناء اللہ خان، ان کے داماد شہریار خان اور داماد کے سیکورٹی اہلکار کے علاوہ وزیر مملکت چوہدری عابد شیر علی، ڈی سی اور نور الامین مینگل اور 300سے زائد دیگر لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ رانا ثناء اللہ خان اور چوہدری عابد شیر علی دونوں کسی بھی سیاسی کارکن کے قتل میں مشترکہ طور پر منصوبہ ساز نہیں ہوسکتے۔ ان میں سے زیادہ سے زیادہ کسی ایک کو ایف آئی آر میں نامزد کرایا جاسکتا ہے اور ڈی سی او نورالامین مینگل کو بھی حق نواز کے قتل میں ملوث قرار دینے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ جس طرح ڈاکٹر طاہرالقادری کی تنظیم نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر میں وزیراعظم میاں نواز شریف اور دیگر وفاقی وزیروں کو زیر دفعہ 109ت۔
پ ملزموں میں شامل کر کے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تفتیش کو الجھا کر اس مقدمے کو خراب کیا ہے۔ یہی کچھ حق نساز کے قتل کی ایف آئی آر لکھوانے میں کیا گیا ہے۔ اگر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر میں پنجاب حکومت کے ذمہ داران کے ساتھ چند پولیس افسروں کو نامزد کردیا جاتا تو آج تک اس کی تفتیش کسی ٹھکانے لگ چکی ہوتی۔ اصولاََ تو حق نواز کے قتل کی ایف آئی آر اس نامعلوم شخص تک ہی محدود رہنی چاہئے تھی جس کو گولیاں چلاتے ویڈیو میں پورے ملک کے لوگوں نے دیکھا ہے۔
اس کی تصدیق بھی بعد میں پستول برآمد ہونے اور لگنے والی گولی کے تجزیے پر ہوجاتی، یا زیادہ سے زیادہ اس ایف آئی آر میں رانا ثناء اللہ خان کے سیاسی ڈیرے کی نشاندہی کی جاسکتی تھی۔ لیکن ہمارے ہاں سیاسی نعش کو اپنے سیاسی مخالفوں خے خلاف ہتھیار بنا کر انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش میں سیاسی مقدمہ خراب کردیا جاتا ہے۔ اس وقت ملک میں جاری سیاسی مخاصمت میں بہت کچھ خراب ہورہا ہے۔
متحارب سیاسی قوتیں عوامی مفادات کے تحفظ کے نام پرعوام کو بے یقینی کی خطرناک کیفیت میں دھکیل رہی ہیں۔ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے انتخابات میں دھاندلی کا الزام اپنی جگہ درست ہوسکتا ہے۔ عمران خان کا یہ موقف بھی ناقابل فہم نہیں ہے کہ انہیں الیکشن کمیشن، پارلیمان اور عدالتوں سے انصاف نہ ملن کے بعد انہوں نے سڑکوں پر نکلنے اور دھرنے کے کنٹینر پر حکمرانوں کے خلاف سیاسی محاض کھولنے کی راہ اختیار کی ہے لیکن ملک کے مقتدر سیاسی و عوامی حلقوں کے نزدیک یہ سیاسی انداز ہر گز پسندیدہ نہیں ہے۔
کئی ماہ سے اسلام آباد کے ڈی چوک میں ان کے دھرنے کا کنٹینر حکمرانوں کے خلاف ہر زہ سرائی کررہا ہے اور وہ پارلیمان کے علاوہ عدالتوں تک سے انصاف نہ ملنے کی دہائی دے کر اپنی پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو ملک کی پارلیمانی سیاست سے باہر رکھے ہوئے ہیں۔ اسمبلیوں سے پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفے منظور نہ کرنے کی حد تک حکمران جماعت نے نہایت دانشمندی سے ملک میں مڈٹرم انتخابات کا راستہ بند کررکھا ہے۔
لیکن عمران کان نے جب سے وزیراعظم کے استعفے کی شرف سے دستبرداری اختیار کی ہے اور حکومت کو خود مختار جوڈیشل کمیشن کے تقرر اور تحقیقات کیلئے بنائی جانے والی ٹیم میں ایک دو فوجی ایجنسیوں نے نمائندوں کو شامل کرنے کی حد لگائی ہے، حکومت کو اس مطالبے کی منظوری کو پی ٹی آئی کی اسمبلیوں میں واپسی سے مشروط کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ وفاقی وزیر خذانہ اسحاق ڈار کی طرف سے ایک مرحلے پر تو یہ بھی کہا جاتا رہا کہ وہ 7دسمبر کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہتے ہیں اور پھر سیاسی عدم رواداری کا جو مظاہرہ کیا گیا اس پر وزیر خذانہ یہ کہنے پرمجبور ہوگئے کہ مذاکرات اب 8دسمبر کے بعد سیاسی صورت حال کے مطابق ہی کئے جائیں گے۔
بلاشبہ 7دسمبر کے واقعہ نے سیاسی ماحول میں سوگ اور تلخی کی کیفیت بھر دی ہے۔
اس وقت وزیراعظم میان نواز شریف نے پی ٹی آئی کو فوری طور پر مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔ عمران خان کو اب فیصل آباد کے جاں بحق ہونے والے اپنے کارکن حق نواز کی نعش پر سیاست کرنے کی بجائے حکومت کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کو قبول کرلینا چاہئے کیونکہ اس وقت ملک میں جو سیاسی بحران پیدا ہوچکا ہے اگر اس کو سیاسی انداز میں حل نہ کیا گیا تو جیسا کہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ کشتیاں ساحل کے قریب بھی ڈوب جایا کرتی ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حکومت کی طرف سے دانش مندی اور سیاسی تدبر سے کام لیا جاتا تو پی ٹی آئی کی طرف سے 31اگست سے پہلے تک کے مذاکرات میں طے پانے والے نکات سے اس کا سلسلہ دوبارہ اسی جگہ سے بحال ہوسکتا تھا۔ اور اگر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی میز پر بٹھا لیا جاتا تو اس سے اول تو تحریک انصاف فیصل آباد کو بند کرنے کی کال واپس لے لیتی اور اگر تحریک انصاف کی طرف سے یہ کال واپس نہ بھی لی جاتی تو اس سے اس کا کی شدت بہت حد تک کم کی جاسکتی تھی۔
وقت اشاعت : 2014-12-12

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں