بند کریں
بدھ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لانگ مارچ اور سٹریٹ پاور
عید کے بعد مولانا طاہر القادری کے انقلاب اور عمران خان کے آزادی مارچ کے دن مزید قریب آچکے ہیں۔ حکومت مخالف دیگر جماعتیں بھی اب حکومتیں کے خلاف جلسے جلوس اور دھرنوں کی تیاریوں میں ہیں
مصنف : سید بدر سعید
ملکی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہوتا جارہا ہے۔ عید کے بعد مولانا طاہر القادری کے انقلاب اور عمران خان کے آزادی مارچ کے دن مزید قریب آچکے ہیں۔ حکومت مخالف دیگر جماعتیں بھی اب حکومتیں کے خلاف جلسے جلوس اور دھرنوں کی تیاریوں میں ہیں۔ چھوٹی چھوٹی جماعتیں مل کر اتحاد قائم کرہی ہیں۔ یا پھر اپنا وزن عمران خان یا طاہرالقادری کے پلڑے میں ڈال رہی ہیں۔
بظاہر ”ان ہاؤس“ بڑی تبدیلی کا امکان نظر نہیںآ تا کیونکہ ایوان میں حکومت کی پوزیشن مضبوط ہے۔ اسی لئے حکومت مخاف طاقتوں نے ”سٹریٹ پاور“ شو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے کہ عوامی رد عمل اور سڑک کی سیاست کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔ ایسی صورت میں زیادہ امکان تو مارشل لاء کا ہی ہوتا ہے۔ یہ تاثر بھی درست نہیں کہ فوج آتے ہیں انتخابات کروا کر واپس چلی جائے گی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ فوجی قیادت سیاست کی کشتی میں قدم رکھ لے تو پھر وہ سیاسی جماعتوں کی پابند نہیں رہتی۔
پاکستان میں ”سٹریٹ پاور شو“ نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں بھی دھرنے، جلسے، جلوس اور ریلیاں نکالی جاتی رہیں ہیں۔ بعض اوقات ایسے دھرنے یا جلسے کسی ایک جماعت کی جانب سے ہوتے ہیں تو کبھی مختلف جماعتیں مل کر اتحاد قائم کرتی ہیں اور پھر اس اتحاد کے تحت سب مل کر سٹریٹ پاور شو کرتی ہیں۔

پاکستان میں سڑکوں کی سیاست اور افردی قوت کے مظاہروں کی بنیاد 1956ء سے 1958ء میں میجر جنرل سکندر مرزا کے پاکستان کا پہلا صدر بنتے ہی رکھ دی گئی تھی۔ سکندر مرزا نے عملی طور پر پارلیمنٹ کو اپنا غلام بنانے کی کوشش کی۔ اس کے دوسالہ دور میں ہی تین وزراء اعظم اپنے عہدوں سے مستعفی ہوئے جن میں چودھری محمد علی، حسین شہید سہروردی اور ابراہیم اسمعیٰل چند دیگر شامل ہیں۔
فیروز خان نون 1958ء میں وزیراعظم بنے تو اپوزشن سڑکوں پر آچکی تھی اور خان عبدالقیوم خان سمیت نامور سیاسی لیڈر سکندر مرزا کے خلاف احتجاجی ریلیوں کی قیادت کررہے تھے۔ سکندر مرزا نے ان احتجاجی تحریکوں کے بدلے میں اختیارات استعمال کرتے ہوئے پارلیمنٹ تحلیل کردی اور فوج کو مارشل لاء کی دعوت دے دی۔ جنرل ایوب خان چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوگئے۔
دو ہفتے بعد جب سکندر مرزا نے اپنے اختیارات کے تحت ایوب خان کو واپس بھیجنا چاہا تو ایوب خان نے انہیں ہی عہدے سے الگ کردیا۔سکندر مرزا کے خلاف جو احتجاجی تحریک چلی اور اس کے نتیجے میں جو اقدامات اٹھائے گئے اس کی وجہ سے ملک کو اگلے وزیراعظم کیلئے 13سال تک انتظار کرنا پڑا۔
پاکستان کی دوسری بڑی احتجاجی تحریک ایوب خان کے خلاف چلائی گئی جس میں عوام ایک بار پھر سڑکوں پر آگئے۔
1965ء کی جنگ کے بعد بیروزگاری اور کساد بازاری میں اضافہ ہوا تو اس کی ذمہ داری ایوب خان پر ڈالی گئی اور ان کے خلاف احتجاج شروع ہوگیا۔ اس احتجاج میں طلباء سب سے آگے نظر آئے۔ جب ایوب خان نے صدی کی سب سے بڑی کامیابی کا دن منانے کا فیصلہ کیا تو نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے بڑے شہروں میں احتجاج کی کال دے دی۔ ایوب خان نے اس احتجاج کو طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی۔
7نومبر 1968ء کو پولیس نے طلباء کی ریلی پر راولپنڈی میں فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں تین طالب علم جاں بحق ہوگئے اور احتجاج مزید شدت اختیار کرگیا۔ ملکی سطح کے سیاست دان بھی اس احتجاج کا حصہ بن گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو 1967ء میں اپنی الگ سیاسی جماعت بنا چکے تھے۔ وہ بھی اس احتجاج کا حصہ بن گئے۔ سول سوسائٹی، مزدور اور بیروزگاری طبقہ بھی سڑکوں پر نکل آیا۔
صحافی او ادیب تک اس میں شامل ہوگئے۔ جس کے نتیجے میں ایوب خان فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کھو بیٹھے اور انہوں نے مارچ 1969ء میں استعفیٰ دیکر اختیارات یحیٰی خان کے حوالے کردئیے جس نے انتخابات کے عد ذوالفقار علی بھٹو کو اختیارات سونپ دئیے۔
پاکستان کی ایک بڑی اور اہم احتجاجی تحریک 1977ء میں پاکستان نیشنل الائنس کے پلیٹ فارم سے چلائی گئی۔
یہ تحریک وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تھی۔ یہ تحریک لگ بھگ اسی ایشو پر چلائی گئی جس پر موجودہ صورتحال میں آزادی مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔ بھٹو اور ان کی جماعت پیپلز پارٹی 1977ء کے انتخابات میں واضح اکثریت سے جیت گئی تھی جس پر اپوزیشن نے دھاندلی کا الزام لگا کر انتخابات کو مسترد کردیا۔ بھٹو کے خلاف نو سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے انتخابی نتائج مسترد کیے اور اسمبلی سیشن کا بھی بائیکاٹ کردیا۔
اس احتجاجی تحریک کے نتیجے میں مارشل لاء لگ گیا اور ضیاالحق نے حکومت پر قبضہ کر کے بھٹو کو جیل بھیج دیا جس کا اختتام بھٹو کی پھانسی پر ہوا۔
بھٹو کے بعد اگلی احتجاجی تحریک 1981ء میں ضیاالحق کے خلاف شروع ہوئی جسے ایم آڈی کا نام دیا گیا۔ یہ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کا اتحاد تھا جو ضیاالحق کی آمریت کا خاتمہ چاہتی تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ایم آرڈی کی قیادت پیپلز پارٹی کے پاس آگئی جو سندھ میں خاصی فعال تھی۔
اس نے 1985ء کے انتخابات کی تیاریاں شروع کردیں اور مختلف چھوٹے بڑے احتجاجی جلسے شروع کردئیے، آگے چل کر ایم آر ڈی میں بھی پھوٹ پڑ گئی اور یہ دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ کچھ جماعتوں کا خیال تھا کہ ضیاالحق کی جانب سے کروائے گئے انتخابت میں حصہ نہ لیا جائے جبکہ کچھ جماعتیں الیکشن لڑنا چاہتی تھیں۔
1992ء میں بے نظیر بھٹو نے نواز شریف کی حکومت کے خلاف کرپشن اور 1990ء کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے اور لانگ مارچ کا اعلان کیا۔
نومبر 1992ء کے لانگ مارچ میں نوابزادہ نصر اللہ خان، محمد خان جونیجو اور قاضی حسین احمد سمیت متعدد معروف سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔ نواز شریف کی حکومت نے ریاستی طاقت کا استعمال کیا اور متعدد سیاسی رہنما گرفتار کرلئے گئے۔ یہ مارچ بظاہر کامیابی حاصل نہ کرسکا لیکن 1993ء میں بے نظیر بھٹو نے ایک بار پھر ہزاروں افراد کے ساتھ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کردیا۔
اس دوران شریف حکومت بھی اپنے حمایتی کھو بیٹھی اور آرمی چیف عبدالوحید خان کے کردار ادا کرنے پر نواز شریف نے جولائی 1993ء میں استعفیٰ دے دیا۔
پاکستان کی بڑی احتجاجی تحریکوں اور لانگ مارچ میں 2008ء کی وکلاء تحریک کو بھی خاصی اہمیت حاصل ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے بطور صدر چیف جسٹس افتخار چودھری اور دیگرججوں کو ان کے عہدے سے ہٹایا تو سول سوسائٹی اور وکلاء نے احتجاج شروع کردیا لیکن اس احتجاج کو بظاہر کامیابی نہ مل سکی اور چیف جسٹس بحال نہ ہوسکے۔
2009ء میں دوبارہ اسی مقصد کیلئے لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا۔ اس وقت آصف علی زرداری صدر پاکستان تھے۔ نواز شریف نے لاہور سے لانگ مارچ کی قیادت کا فیصلہ کیا۔ اس بار وکلاء اور سیاسی قیادت ایک ساتھ باہر نکلی اور 16مارچ 2009ء کو آغاز میں ہی مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان ہوگیا جس پر لانگ مارچ ختم کردیا گیا۔ سٹریٹ پاور کا بہترین مظاہرہ پاکستان عوام تحریک کے سربراہ طاہرالقادری کی جانب سے 2013ء کے آغاز میں کیا گیا۔
ان کا ایجنڈا انتخابی عمل میں اصلاحات کا تھا۔ انہوں نے حکومت سے گھر جانے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس کا اختتام طاہرالقادری اور حکومتی ٹیم کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ہوگیا اور بظاہر اس لانگ مارچ کے نتیجے میں بھی کوئی تبدیلی نہ آسکی۔
پاکستان کی تاریخ میں ہونے والے زیادہ تر لانگ ماچ اور سٹریٹ پاور کے مظاہروں کے نتیجے میں یاتو حکومت کو کامیابی حاصل ہوئی ہے یا پھر ان کے نتیجے میں ملک میں مارشل لاء نافذ ہوا ہے۔ اب ایک بار پھر سیاسی جماعتیں لانگ مارچ او دھرنے کے اعلانات کررہی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس میں کس کو فائدہ ہو تا ہے۔ حکومت اس مسئلے سے نمٹنے میں کامیاب ہوتی ہے یا پھر یہ قدم مارچل لاء کی جانب اٹھتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-26

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-