بند کریں
اتوار مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
لوڈ شیڈنگ پر وزیراعظم کی تنبیہ… جگہ جگہ مظاہرے
رمضان المبارک میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ بیشتر علاقوں میں سحری اور افطاری کے اوقات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا طوفان کھڑا ہے۔ جس سے حکومت کے تمام دعوے ٹھس ہو کر رہ گئے ہیں
احمد جمال نظامی
رمضان المبارک میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ بیشتر علاقوں میں سحری اور افطاری کے اوقات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا طوفان کھڑا ہے۔ جس سے حکومت کے تمام دعوے ٹھس ہو کر رہ گئے ہیں وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیرعلی کس قدر سچ بول رہے ہیں اس کا اندازہ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے اس نوٹس سے لیا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے سحر و افطار کے اوقات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر اظہار برہمی کرتے ہوئے وزارت پانی و بجلی کو احکامات جاری کئے ہیں کہ ان اوقات میں ہرگز لوڈشیڈنگ نہ کی جائے۔
ماہ مقدس رمضان المبارک میں سحر و افطار کے اوقات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے دعوے ہر سال کئے جاتے ہیں۔ گذشتہ برس بھی حکومت کی طرف سے بڑے بڑے دعوے کئے گئے تھے لیکن پورے ماہ رمضان کے دوران حکومت بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں ناکام رہی تھی۔ دراصل بجلی کے شارٹ فال پر قابو پانے کی طرف حکومتی اقدامات زیادہ سنجیدہ نظر نہیں آتے۔
2013ء کے عام انتخابات کے بعد سے موجودہ حکومت بھی بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے نئے سے نئے سال اور تاریخوں کا اعلان کرتی جا رہی ہے کہ بجلی کے بحران پر فلاں فلاں سال اور تاریخ میں قابو پا لیا جائے گا۔ اب وفاقی بجٹ برائے مالی سال 2015-16ء کے موقع پر حکومت نے 2017ء میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری طرف حکومت بجلی کی پیداوار کے لئے وفاقی بجٹ میں رقم مختص کرنے کی بجائے ادھر ادھر کے معاملات پر زیادہ توجہ دی ہوئی ہے سر فہرست مسائل جن میں دہشت گردی اور توانائی بحران شامل تھے ، ایک سال بعد دہشت گردی پر تو بہت حد تک قابو پا لیا گیا ہے لیکن بجلی کا بحران اپنی جگہ موجود ہے اور گیس کا بحران بھی بڑھ رہا ہے۔
حکومت کو جان کر شاید حیرت ہو کہ ان کی” بہترین کارکردگی “کی وجہ سے موسم گرما میں رمضان المبارک ہونے کے باوجود بجلی کے ساتھ بعض مقامات پر گیس کی لوڈشیڈنگ بھی جاری ہے۔سحر و افطار کے اوقات میں ان کو بجلی کے علاوہ گیس کی لوڈشیڈنگ کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف جو اس وقت ماہ مقدس رمضان المبارک شروع ہونے کے بعد بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہمی کا اظہار کر رہے ہیں کیا وہ رمضان المبارک کے آغاز سے پہلے وزارت پانی و بجلی اور اس کے تمام ذمہ داران کو متنبہ نہیں کر سکتے تھے ؟ وزیرمملکت پانی و بجلی عابد شیرعلی کی طرف سے بجلی کے حوالے سے جتنی بھی باتیں کی جاتی ہیں اس کو ذمہ دار اور باشعور حلقے سنجیدہ نہیں لیتے۔
وہ ہر ہفتے جب وفاقی دارالحکومت سے اپنے شہر فیصل آباد آتے ہیں اور وقت گزارنے کے لئے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی جاتے ہیں تو ان کے اعداد و شمار اپنے ہی بیانات اور دعووں کی ہر مرتبہ تردید کر رہے ہوتے ہیں۔ رمضان المبارک سے دو ہفتے قبل وہ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے دفتر گئے تو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک میں سحری اور افطاری کے اوقات میں لوڈشیڈنگ بالکل نہیں ہو گی اس سے اگلے ہفتے فیسکو کے دفتر گئے تو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے ہی دعوے کی قلعی کھول ڈالی کہ سحری اور افطاری کے اوقات میں صرف ان علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی جہاں بجلی چوری نہیں ہوتی۔
گویا حکومت بجلی کے بحران پر دو سال گزر جانے کے باوجود قابو پا سکی ہے اور نہ ہی بجلی چوروں کا مکمل طور پر قلع قمع کیا جا سکا ہے۔ کیا یہ بات درست ہے کہ بڑے صنعت کاروں کو محض ریوڑیوں کے بھاوٴمعمولی جرمانے کر کے کروڑوں اور لاکھوں روپے کے جرمانوں سے محفوظ رکھا گیا۔
حکومت کی اس سے بڑی ناکامی کیا ہو گی کہ ماہ مقدس رمضان المبارک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر عوام کی طرف سے احتجاج سامنے آ رہا ہے۔
موجودہ حکومت کی بیڈگورننس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس مرتبہ رمضان المبارک کے پہلے روزے کے دن ہی مختلف شہروں اور مقامات پر حکومت کی طرف سے بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو نہ پا سکنے کی وجہ سے احتجاج شروع ہو گئے تھے۔ اسی طرح مختلف شہروں سے ایسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ حکومت صوبہ پنجاب میں بھی رمضان المبارک کے حوالے سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔
سستے رمضان بازاروں کا وسیع نیٹ ورک قائم کرنے میں ناکام ہے اور اس طرح سے رمضان المبارک کے دوران لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ دکاندار اور بیوپاری عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ پھلوں، سبزیوں، دالوں اور گوشت وغیرہ کے نرخ اپنی مرضی سے وصول کئے جا رہے ہیں اور ذخیرہ اندوزی کے نام پر بھی صارفین کو لوٹا جا رہا ہے۔ حکومت سمجھ رہی ہے کہ چند یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے وہ عوام کے رمضان المبارک کے دوران کفایت کر پائے گی لیکن خلق خدا رمضان المبارک میں بھی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ رمضان المبارک کے حوالے سے زبانی دعوے کرنے کی بجائے حقیقی معنوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے اوقات پر بھی قابو پائے اور اسی طرح رمضان المبارک کے دوران ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں سے عوام کو محفوظ بنانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں۔ پرائس کنٹرول اور مارکیٹ کمیٹیاں اپنا کردار ادا کرنے میں ایک طرف مکمل ناکام نظر آ رہی ہیں اور دوسری طرف یہ تلخ حقیقت بھی سامنے آ رہی ہے کہ ان کمیٹیوں کے بعض ناخدا ہی ذخیرہ اندوز اور منافع خور ہیں۔
جن کے ساتھ ملاوٹ مافیاکے کنگ بھی شامل ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف کو چاہیے کہ وہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے حوالے سے تمام وعدوں کو وفا کریں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو چاہیے کہ وہ صوبہ بھر میں ملاوٹ مافیا، ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو نکیل ڈالیں اور اپنی فورس کی کاغذی کارروائیوں کا محاسبہ کر کے اسے عملی ثبوت دینے کیلئے مجبور کریں۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-23

(0) ووٹ وصول ہوئے