تازہ ترین : 1
Lakhoon Bache Polio K Qatre Peene Se Mehroom

لاکھوں بچے پولیو کے قطرے پینے سے محروم !

پولیو کے خاتمہ کے لیے بھی قومی سطح اپر ایمر جنسی کا نفاذ کیا گیا ہے۔ پاکستان سے پولیو کے خاتمہ میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ دہشتگردی ہے کیونکہ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں دہشتگردوں کی طرف سے بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانے والے والدین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں

اخلاق علی خان:
دنیا بھر میں 24 اکتوبر کو ورلڈ پولیو ڈے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد انسداد پولیو کی جنگ جاری رکھنے کے عہد کی تجدید اور پولیو وائرس کے خاتمہ کے لیے ویکسین ایجاد کرنے والے امریکی طبی محقق اور وائرلوجسٹ جوناس سالک کی انسانیت کی عظیم خدمت پر انہیں خراج تحسین پیش کرنا ہے ۔دنیا کے تمام ممالک سے پولیو کا خاتمہ گلوبل ہیلتھ سٹرٹیجی کا اہم حصہ ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی اور پولیو کا خاتمہ دونوں اہم ترین اہداف ہیں دونوں ہی قوم کے بچوں کے دشمن ہیں چنانچہ حکومت پاکستان نے دونوں کے خاتمہ کے لیے نیشنل ایمرجنسی نافذ کی ہوئی ہے اور ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج پوری قوم کی حمایت کے لیے آپریشن میں مصروف ہیں اور بے مثال شجاعت وبہادری کے ساتھ اپنی جانوں کے نذرانے دے کرملکی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور دہشت گردی کا خاتمہ کا صفایا کرنے میں مصروف ہیں۔
دوسری طرف پولیو کے خاتمہ کے لیے بھی قومی سطح اپر ایمر جنسی کا نفاذ کیا گیا ہے۔ پاکستان سے پولیو کے خاتمہ میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ دہشت گردی ہے کیونکہ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کی طرف سے بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانے والے والدین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں اور پولیو ٹیموں پر ملک کے مختلف علاقوں میں قاتلانہ حملوں کی وجہ سے لاکھوں بچے پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہ گے ہیں۔
پولیو کے خاتمہ کی جنگ میں بہت سے پولیو ورکرز دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید بھی کئے گئے ، چنانچہ ملک کے کچھ علاقے جن میں کے پی کے کے علاوہ کراچی کا گڈا ب کا علاقہ بھی شامل ہے۔پولیو وائرس کی آماجگاہ بن گے۔ ایسے خاندان جن کے بچے پولیو ویکسین کے قطرے پینے سے محروم رہ جاتے ہیں وہ جب ملک کے دیگر علاقوں میں اپنے عزیز واقارب سے ملنے اور روزگار کی تلاش میں آتے ہیں تو اپنے ساتھ پولیو وائرس بھی لاتے ہیں دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب آپریشن کی کامیابی کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ وہ علاقے جو نوگوایریا بن گے تھے پاک فوج کے آنے سے دوبارہ حکومتی عملداری بحال ہو گئی ہے اور پولیو کے قطرے پلانے ولای ٹیمیں خیبرپختونخواہ اور دیگر علاقوں میں جا کر بچوں کی ایمونائزیشن کر رہی ہیں اور جن علاقوں میں بھی خطرہ ہوتا ہے وہاں فوجی جوان، خاصہ دار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دیگر اہلکار پولیو ٹیموں کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں ۔
اس مقدس کام میں پولیو ٹیموں کے اہلکار اور خصوصا خواتین کی ہمت اورفرض شناسی بھی قابل ستائش ہے کہ وہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر اس قوم کے نونہالوں کے مستقل معذوری سے بچانے کے لیے بہادری کے ساتھ اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں۔ پنجاب میں پولیو کے حوالے سے حکومت کی کارکردگی نہایت حوصلہ افزاء ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف بیماریوں کی روک تھام ،خاص طور پر پولیو کی مکمل بیخ کنی میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں۔
جس کے نتیجہ میں پنجاب میں بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام EPI کے تحت روٹین ایمونائزیشن کی شرح ایک سال کے دوران لگ بھگ 50 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد سے زائد ہو گئی ہے جو وزیر اعلیٰ پنجاب اور ان کی ٹیم کی انتھک محنت اور مسلسل سٹاک ٹیکنگ اور مانٹیرنگ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ پنجاب میں دیگر صوبوں سے ملحقہ بارڈر ڈسٹرکٹس کے داخلی وخارجی راستوں پر دیگر صوبوں سے آنے والے مسافر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے ٹیمیں مقرر کی گئی ہیں۔
پنجاب کے مختلف شہروں میں پشتون آبادیوں میں بچوں کو قطرے پلانے کے لیے پولیو ٹیموں میں پشتو بولنے والی خواتین ومرد شامل کئے گے ہیں تاکہ زبان کیاجنبیت آڑے نہ آئے۔ چنانہ یہ حکمت عملی بہت کار گرثابت ہوئی ہے۔ رواں سال 2015 میں اب تک پورے ملک میں 38 پولیو کیس رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں سے ایک کا تعلق ضلع چکوال صوبہ پنجاب سے ہے۔ 10 کروڑ کی آبادی والے صوبے میں صرف ایک کیس روپوٹ ہونا بھی حکومت کی کامیاب حکمت عملی اور موثر اقدامات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ چکوال میں 6سال سکے جس بچے میں پولیو وائرس پایا گیا وہ معذوری سے محفوظ ہے اور چل پھر رہا ہے کیونکہ بچے نے پولیو مہم کے دوران مختلف اوقات میں 10 مرتبہ ویکسین کے قطرے پیئے ہوئے تھے۔ اس طرح پولیو وائرس کے حملے کے باوجود بچہ معذوری سے محفوظ رہا۔ حکومت پنجاب نے بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں پہلی مرتبہ پولیو ویکسین کا انجکشن شامل کر کے پورے ملک میں سبقت حاصل کر لی ہے۔
اب 14 ہفتے کی عمر کے بچوں کو پولیو ویکسین کا ٹیکہ لگایا جا رہاہے ۔ ماہرین کے مطابق پولیو ویکسین کے قطروں سے زیادہ انجکشن زود اثر اور موثر ہے۔ مزید برآں حکومت پنجاب اپریل 2016 سے پولیو کی نئی ویکسین BOPV بھی متعارف کرانے جا رہی ہے جس سے پولیو کے جلد خاتمہ میں مدد ملے گی۔پنجاب میں جہاں دہشت گردی خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل جاری ہے اسی طرح وفاقی حکومت کی جانب سے پولیو کے خاتمہ کے لیے قومی ایمرجنسی پلان پر بھی پنجاب میں بھر پور عملدرآمد کیا جا رہا ہے ۔ پاکستان میں پولیو کے خاتمہ کے لیے موجودہ کوششوں اور اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ جس طرح ملک سے پولیو کے کیسز بتدریج کم ہو رہے ہیں 2016 پولیو کے خاتمہ کا سال ثابت ہوگا۔
وقت اشاعت : 2015-11-30

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں