بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خیبرپختونخوا کا بجلی گیس سمیت وسائل کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ
صوبہ خیبر پختونخوا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن ہونے کے ناطے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جس کے عوام اور بزنس کمیونٹی کی 35سال کی لازوال قربانیاں نظر انداز نہیں کی جاسکتیں
ضیاء الحق سرحدی:
گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان نے گزشتہ دنوں صوبہ خیبر پختونخواکی تاجر برادری کی حوصلہ افزائی اور ان کے مسائل کی آگاہی کیلئے خیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پشاور کا دورہ کیا۔صوبے کی تاجر برادری نے ان کے دورے کو سراہا اور اسے حوصلہ افزاء اقدام قرار دیا۔ مہتاب احمد خان 1999ء میں بحیثیت وزیراعلیٰ پختونخوا چیمبر میں کینیڈین کیٹلاگ شو میں تشریف لائے تھے اور اس کے 16سال کا عرصہ گزرنے کے بعد رواں ماہ میں بحیثیت گورنر خیبر پختونخوا تشریف لائے ہیں۔
گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان نے گزشتہ دور حکومت میں بھی صوبے کی بزنس کمیونٹی کو ریلیف دینے کیلئے ہر ممکن کوشش کی تھی اس لئے موجودہ دور میں بھی ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے صوبے کی معاشی و اقتصادی ترقی کیلئے اپنا موثر کردار ادا کریں گے اور تاجر برادری کی معروضات وفاقی حکومت تک پہنچا کر سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔

گورنر کے دورہ چیمبر کے موقع پر سینیٹر الیاس احمد بلور لیڈربزنس مین فورم، صدر کے پی سی سی آئی فواد اسحق، سینیٹر نعمان وزیر، کے پی سی سی آئی کے سابق صدور و موجودہ ایگزیکٹیو ممبران، PAJCCIکے ڈائریکٹر و راقم ضیاء الحق سرحدی ،تاجر تنظیموں کے صدوراور دیگر تاجر برادری کے نمائندگان بھی شریک تھے۔جنہوں نے گورنر کو صوبے کے تجارتی مسائل کے بارے میں تفصیلاً آگاہ کیا اور اس کے حل کیلئے تجاویز پیش کیں۔
بزنس کمیونٹی کی جانب سے پاک فوج کو قبائلی علاقوں میں امن و امان بحال کرنے کی کوششوں پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ باڑہ خیبر ایجنسی میں آپریشن مکمل ہوچکا ہے لیکن وہاں انڈسٹریز کی جانب جانیوالے راستے ابھی تک بند ہیں۔ اگر باڑہ میں قائم انڈسٹری کو جانیوالے راستے کھول دیئے جائیں تو وہاں معاشی سرگرمیاں جلد بحال ہوجائیں گی۔

صوبہ خیبر پختونخوا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن ہونے کے ناطے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جس کے عوام اور بزنس کمیونٹی کی 35سال کی لازوال قربانیاں نظر انداز نہیں کی جاسکتیں۔ آرمی پبلک سکول کے المناک سانحہ نے پاکستان سمیت پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ہمیں وفاقی حکومت کی جانب سے داد رسی کی اشد ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا چیمبر نے انہی قربانیوں کو دیکھتے ہوئے وفاقی حکومت سے پشاور کے عوام کو ہلال استقلال سے نوازنے کا مطالبہ کیا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر سمیت تمام ایم پی ایزنے متفقہ طور پر ہلال استقلال اور صوبے کیلئے نئے مالیاتی پیکج سے متعلق قرار دادیں بھاری اکثریت سے منظور کر رکھی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ گورنر خیبر پختونخوا پشاور کے عوام کو ہلال استقلال سے نوازنے کے لئے وفاقی حکومت سے خصوصی سفارش کریں۔
حکومت بزنس کمیونٹی کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرے۔ خود کش حملے، دہشت گردی اور اغواء برائے تاوان کی وارداتیں ، قتل و غارت، ڈکیتیاں اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں بزنس کمیونٹی سمیت عوام کیلئے وبال جان بنی ہوئی ہیں۔ پشاور سمیت صوبے کی تاجر برادری کو پرچیاں وصول ہورہی ہیں جو حکومت اور سیکورٹی فورسز کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔ پشاور میں کالعدم تنظیموں کے نام پر بھتہ خوری کے واقعات ہو رہے ہیں۔
ان نامساعد حالات میں عدم تحفظ کا شکار بزنس کمیونٹی بمشکل کاروباری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
سابق وفاقی حکومت نے 2010ء میں خیبر پختونخوا چیمبر کی سفارش پر صوبے کے مخصوص حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مالیاتی پیکج کا اعلان کیا تھا۔ اس پیکج میں انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس دیگر ٹیکسوں میں چھوٹ سمیت بینک قرضوں پر مارک اپ کی شرح نصف کرنے سمیت دیگر مراعات شامل تھیں۔
وفاقی حکومت نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے سیکشن 126Fکے تحت صوبے کو انکم ٹیکس Exemptionدی لیکن ایف بی آر نے اس پیکج کے حقیقی ثمرات بزنس کمیونٹی اور خیبر پختونخوا کے عوام کو نہیں پہنچنے دئیے۔ ایف بی آر نے سیکشن 113متعارف کراکر 1فیصد ٹرن اوور ٹیکس عائد کرکے 126Fکے تحت انکم ٹیکس میں دی گئی مراعات واپس لے لی ہیں جو صریحاً نا انصافی ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیئے سپریم کورٹ میں دائر اپیل واپس لے تاکہ سابقہ پیکج کے خاطر خواہ فوائد حاصل ہوسکیں۔

دہشت گردی سے جہاں سیکیورٹی خدشات بڑھے ہیں وہاں صوبے کی بزنس کمیونٹی کو موزوں لاگت اور تجارتی ماحول میسر نہیں آ رہا جس سے بے روزگاری کی شرح بڑھی ہے۔ چونکہ 2010ء کی نسبت آج حالات زیادہ خراب ہیں اور اس صوبے کے عوام اور بزنس کمیونٹی اس بات کے مستحق ہیں کہ اس صوبے کو ایک نیا مالیاتی پیکج ملنا چاہئے۔ اس سلسلے میں گزشتہ دنوں چیمبر کے ایک وفد نے وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار سے ملاقات کی ہے اور ان سے صوبے کے موجودہ حالات کے پیش نظرنئے مالیاتی پیکج کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
پاک چائنا اکنامک کاریڈور پر بھی بات کی گئی اور روٹ کی تبدیلی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے برملا کہا گیا کہ خیبر پختونخوا کی بزنس کمیونٹی روٹ کی تبدیلی کو کسی صورت تسلیم نہیں کرے گی۔وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ کی مد میں صوبہ خیبر پختونخوا کو 1%اضافی رقم فراہم کررہی ہے، ایک فیصد فنڈ جو کہ تقریبا27ارب روپے بنتے ہیں اس میں آدھا فنڈ سیکورٹی اور پولیس ریفارمز پر خرچ کیا جائے اور آدھا فنڈ بزنس کمیونٹی اور معیشت کی بحالی پر خرچ کیا جائے۔
صوبہ خیبر پختونخوا گیس کی پیداوار میں خود کفیل ہے اس وقت صوبے کے اپنے ذخائر سے تقریبا 500mmcftگیس پیدا ہو رہی ہے جبکہ ہماری کھپت 240mmcftہے۔ گیس میں سرپلس ہونے کے باوجود صوبہ خیبرپختونخوا میں نئے گیس کنکشنز پر پابندی عائد ہے۔ آئین کے آرٹیکل 158کے تحت ہمیں اپنے وسائل پر پہلا حق حاصل ہے۔ لہٰذا نئے کنکشنز پر پابندی کے خاتمے کیلئے وفاقی حکومت اقدامات اٹھائے۔

اس وقت سب سے اہم مسئلہ لوڈ شیڈنگ کا ہے، این ایف سی ایوارڈکے فیصلے کے مطابق ملک بھر میں بجلی کی پیداوار کے حساب سے صوبہ خیبر پختونخوا کیلئے تقریبا 16فیصد کوٹہ مختص ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں قائم تمام انڈسٹریل زونز تقریباً 180 MWسے بھی کم بجلی استعمال کررہے ہیں۔اس کے باوجود بجلی کی لوڈشیڈنگ سمجھ سے بالا تر ہے۔صوبہ خیبرپختونخوا میں ہائیڈل پاور جنریشن سے تقریبا 3900میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے جبکہ پورے صوبے اور قبائلی علاقہ جات میں تقریبا 2500 میگا واٹ سے بھی کم بجلی استعمال ہوتی ہے۔
ملک بھر میں بجلی کی پیداوارکے حساب سے صوبہ خیبر پختونخوا کو 16فیصد کوٹے کے حساب سے 1760MWبجلی فراہم کی جانی چاہئے جبکہ صوبے کوصرف 1000MWسے بھی کم بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔پشاور ، سوات، چارسدہ اور ایبٹ آباد سمیت دیگر بڑے شہروں میں نئے انڈسٹریل اسٹیٹس کا قیام صوبے کی معاشی ترقی کیلئے از حد ضروری ہیں۔ رسالپور میں ایکسپورٹ پراسسنگ زون( EPZ)قائم کیا گیا لیکن اس EPZکو ملک کے دوسرے EPZکی طرح سہولیات میسر نہیں۔
ای پی زیڈ کو سپیشل اکنامک زون (SEZ) کا درجہ دیئے جانے کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سپیشل اکنامک زون ایکٹ 2012ء بھی موجود ہے لیکن ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا جبکہ سندھ بورڈ آف انوسٹمنٹ نے تین سپیشل اکنامک زون بنائے ہیں اسی طرح پنجاب اور بلوچستان میں بھی سپیشل اکنامک زون پر کام جاری ہے۔
صوبہ بھر میں جاری آپریشن کی تکمیل پر آئی ڈی پیز کی جلد از جلد باعزت واپسی، سمیت افغان مہاجرین کی ہر حال میں اسی سال وطن واپسی کا معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
پشاور تا طور خم روڈ پر 20سے زائد مختلف غیر قانونی چیک پوسٹوں پر غیر قانونی اوور چارجنگ سے تاجر برادری کو بے جا مسائل کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے قبائلی علاقوں میں برائے نام ٹیکس چھوٹ پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا تاکہ انڈسٹریلائزیشن کی کیلئے سہولیات ممکن بنائی جا سکیں۔اجلاس کو بتایا گیاکہ پشاور ڈرائی پورٹ کی تعمیر اورطور خم سے پشاور تک زیر تعمیر روڈ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی۔
جس کیلئے مسلم لیگ ن کے سابقہ دور میں اضاخیل پایان میں 64ایکڑ اراضی اور دو کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے۔ اجلاس میں میں گورنر سردار مہتاب احمد خان نے یقین دہانی کرائی کہ ان تمام مسائل کے حل کیلئے وفاقی حکومت کوتفصیلاً آگاہ کیا جائے گا تاکہ دہشت گردی سے متاثرہ صوبہ کی معاشی بحالی جلد از جلد ممکن ہوسکے۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-31

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان