تازہ ترین : 1
Kiya Election Commission Ki Taqarari Per Ittefaq e Raye Ho Jaye Ga

کیا الیکشن کمشنر کی تقرری پر اتفاق رائے ہوجائیگا؟

چیف الیکشن کمشنر کی تقرری بھی ایک معمہ بن گئی ہے اور رانا بھگوان داس نے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے معذرت کرلی جبکہ اس معاملے پر وزیراعظم اور قائد حذب اختلاف ملاقات بھی کرچکے ہیں

زاہد حسین مشوانی:
ملک میں توانائی کا بحران بتدریج بڑھ رہا ہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی عوام کی ناک میں دم کردیاہے جبکہ سردی کے آغاز پر ہی گیس کی لوڈ شیڈنگ جڑواں شہروں میں شروع کردی گئی ۔ انتخابی دھاندلی کے خلاف عمران خان کا دھرنا جاری ہے جبکہ مذاکرات کا عمل بھی ساتھ ساتھ چل رہا ہے دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر کی تقرری بھی ایک معمہ بن گئی ہے اور رانا بھگوان داس نے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے معذرت کرلی جبکہ اس معاملے پر وزیراعظم اور قائد حذب اختلاف ملاقات بھی کرچکے ہیں۔
رانا بھگووان داس کے مطابق ان کو حکومت کی طرف سے نہیں کہا گیا بلکہ ان سے سینیٹر رضا ربانی نے ملاقات کی اور ان کو یہ پیشکش کی لیکن وہ یہ ذمہ داری نہیں سنبھال سکتے۔ بھگوان داس کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو آزاد خودمختار ہونا چاہئے اور الیکشن کمیشن کے حوالے سے ہمیں پڑوسی ملک بھارت سے ہی سیکھ لینا چاہئے۔ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کیلئے تین ناموں پر غور کیا جارہا تھا اور رانا بھگوان داس کی طرف سے معذرت کے بعد جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی اس عہدے کیلئے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان چیف الیکشن کمشنر کیلئے جسٹس ریٹائرڈ بھگوان داس کے نام پر اتفاق کیا گیا تھا۔
پیپلز پارٹی کے راہنما میاں رضا ربانی نے رانا بھگوان داس سے ملاقات کی اور انہیں چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کیلئے قائل کرنے کی کوشش کی تاہم رانا بھگوان داس نے ذاتی وجوہات کی بناہ پر یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کیا۔ رانا بھگوان داس کا موقف تھا کہ ایک شخص کیلئے آئین میں ترمیم کی ضرورت نہیں۔ میاں رضا ربانی کے مطابق جسٹس ریٹائرڈ بھگوان داس نے حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ان پر اعتما دکرنے پر شکریہ ادا کیا مگر ذاتی وجوہات کی بنیاد پر عہدہ قبول کرنے سے معذرت کی بھگوان داس کے انکار کے بعد جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کیلئے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آگئے ہیں ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نوازشریف اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سمیت ایوان میں موجود تمام جماعتیں تصدق حسین جیلانی کے نام پر متفق ہیں ۔
اپوزیشن لیڈر اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کو اعتماد میں لیں گے۔ ان سطور کے شائع ہونے تک اس بات کے امکانات ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہو تاہم ملک میں صاف شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن میں مستقل حکام کی تقرری ضروری ہے۔ رانا بھگوان داس کو معلام ہے کہ الیکشن کمیشن ہمارے ملک میں آزاد نہیں اور الیکشن دو ہزار تیرہ کے بعد فخرالدین جی ابراہیم کے بارے میں جو ریمارکس دئیے گئے ان سے بھی وہ بخوبی آگاہ ہیں۔
بھگوان داس کی طرف سے معذرت بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ ملک میں انتخابات اور اس میں دھاندلی کے الزامات کا سلسلہ تو جاری ہے لیکن وزیراعظم نوازشریف اور پاکستانی وفود کے دورہ چین کو بڑی کامیابی سے تعبیر کیا جارہاہے اور کہا جارہا ہے کہ اس سے ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ پاکستان نے چین کے ساتھ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر دستخط کئے جس کے تحت 10400میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور اسے آئندہ تین ساے چار سالوں میں قومی گرڈ میں شامل کیا جائے گا۔
یہ کہا جارہا ہے کہ ان منصوبوں سے بجلی کی مجموعی صورتحال بہت ہوگی اور ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ حکومتی عہدیداروں اور وزراء کا کہنا ہے کہ جب قومی گرڈ میں مزید بجلی شامل ہوگی تو توانائی کے شعبہ میں ایک نمایاں اور مثبت اثرات نظر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی بہتر صورتحال سے تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، لوگوں کیلئے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے اور قومی معیشت مستحکم ہوگی۔
منصوبوں کے تحت ہائیڈرو، شمسی اور کوئلہ سے بجلی پیدا کی جائے گی۔ سولر اور ونڈ پاور جنریشن دو سال میں شروع ہوجائے گی جبکہ کوئلہ سے تین سال میں اور ہائیڈرو بجلی پانچ سال میں پیدا ہوگی۔ وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ پاک چائنا اقتصادی کوریڈور کے طور پر چین خضدار سے گوادر تک بڑا شاہراتی نیٹ ورک قائم کرنے کیلئے پاکستان کی مدد کرے گا جبکہ ایک اورشاہراتی نیٹ ورک سندھ کو پنجاب سے ملائے گا جو افغانستان تک جائیگا۔
ان طرح پاکستان علاقائی تجارتی مرکز بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر شاہراتی انفراسٹرکچر سے پاکستان سے ہر قسم کی علاقائی تجارت کیلئے ایک موثر نیٹ ورک فراہم ہوگا۔
وزیراعظم محمد نوازشریف کا کہنا ہے کہ ہمیں خطہ میں رہنے والے اربوں افراد کی ترقی کیلئے کوشش کرنی ہوگی، غربت اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے مسائل کا خاتمہ سب سے اہم ہے، ہمیں مالیاتی مسائل کے خاتمہ کیلئے توازن میں وسعت دینی ہوگی، دہشت گردی کے خطرات کے باوجود پاکستان کی اقتصادی ترقی بہت اچھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی چین اور مشرق وسطیٰ میں اس کے شراکت داروں سے اپنے روابط کو فروغ دے رہا ہے اور کاسا 1000توانائی کا منصوبہ جو کرغزستان ، تاجکستان، افغانستان اور پاکستان کے درمیان تیار کیا گیا ہے، کسی حد تک ہمارے توانائی کے مسائل کو ختم کردے گا جبکہ پاک ایران گیس منصوبوں پر بھی کام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایشیائی ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچہ کے منصوبوں کو عملی شکل دے کر وسیع مواقع پیدا کرسکتے ہیں اور یہ اس طرح ہی ممکن ہے کہ ہم بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کیلئے زیادہ سے ذیادہ خرچ کریں اور مجھے یقین ہے کہ آنے والے سالوں میں ایشیاء کو بنیادی ڈھانچہ کیلئے کھربوں ڈالر درکار ہوں گے لیکن ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ہماے قومی بجٹ اکیلے ان مسائل سے نہیں نمٹ سکتے اس لئے ضروری ہے کہ ہمیں مشترکہ سوچ اور قیادت پر سوچنا چاہئے اور ہمیں مالیاتی مسائل کے خاتمہ کیلئے تعاون میں وسعت دینی ہوگی جبکہ کام کرنے ولاے افراد کی آمدورفت سمیت مختلف دیگر مسائل سے بھی عہدہ برآہونا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کا عمل جاری ہے، ہم نے حال ہی میں ویژن 2025ء مرتب کیا ہے جس کے تحت پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنایا جائے گا اور ہمارے چینی دوستوں کو قراقرم ہائی وے کی تعمیر سے تجارت میں آسانی ہوگی اور ہماری گرم پانی کی بندرگاہیں یورپ سمیت دیگر ممالک سے تجارت کیلئے تیز تر رابطے کا ذریعہ ہیں۔وزیراعظم نے کا کہ میں یہاں پر خصوصاََ پاکستان کے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کی خواہش کا اظہر کرنا چاہتا ہوں جس میں پاکستانی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے چین کی مدد قابل تعریف ہے، پاکستان کی آبادی 200ملین کے قریب ہے اور گذشتہ چند سالوں میں ہماری سٹاک مارکیٹ نے بہتری کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، دہشت گردی کے خطرات کے باوجود پاکستان کی اقتصادی ترقی بہت اچھی ہے، ہمارے پاس بڑھتی ہوئی مڈل کلاس، قابل اور محنتی صنعتی افراد، اچھا بنیادی ڈھانچہ اور بہترین کارکردگی والی یونیورسٹیاں اور تحقیقی مراکز موجود ہیں، ہمارے ملک کو قدرت نے معدنیات کے وسیع ذخائر سے نوازا ہے، پاکستان اور چین کی اقتصادی راہداری کے ذریعہ مغربی چین کو جنوبی پاکستان سے رابطوں میں آسانی ہے اور گوادر کی بندرگاہ مشرق وسطیٰ سے تجارت کا اہم ذریعہ ہے اور اس سلسلہ میں دونوں حکومتیں مشترکہ طور پر بحری سروس شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہیں اور ہم منصوبوں کی جلد تکمیل سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں اور ہم نے باہم متفق منصوبوں پر کام کی رفتار کو تیز کیا ہے اور اس سلسلہ میں ہم نے مختلف نوعیت کے اہم معاہدوں پر دستخط کئے ہیں، اقتصادی راہدار کے منصوبے کو پاکستان صورتحال تبدیل کردینے والا منصوبہ سمجھتا ہے جس سے دونوں ممالک اور خطہ کے ممالک کے رابطوں میں اضافہ ہوگا اور اس حوالہ سے چینی صدر ژی جن پنگ کی سوچ قابل تعریف ہے جس میں سلک روڈ اقتصادی پٹی اور میری ٹائم سلک روڈ کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
نواز شریف نے مذید کہا کہ آخر میں رابطوں میں اضافہ کے حوالہ سے لوگوں کی سوچ کو عملی جامہ پنانے کیلئے عملی اقامات کرنے چاہئیں اور میں خود بھی عوام کے عوام سے رابطوں، انسانی وسائل کے بہترین استعمال کا قائم ہوں جس سے رابطوں کو حتمی شکل دی جاسکے گی۔ انہوں نے ایشائی رہنماؤں سے کہا کہ ہمیں اپنے معاشروں اور عوام کے عوام سے رابطوں میں اضافہ کیلئے مخلصانہ کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ ہم ایک دوسرے کے عظیم ورثہ، ثقافت اور نظریاتی سوچ سے آگاہی حاصل کرسیں۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس مذاکرات سے بات چیت کی نئی راہیں کھلیں گی جس سے مستقبل میں ترقی اور معاشی استحکام کو یقین بنایا جاسکے گا۔
چین کے دورے پر جانے والے پاکستانی وفد میں اراکین قومی اسمبلی ، تھنک ٹینک اور میڈیا کے نمائندے شامل تھے۔ وفد کے شرکاء کا کہنا ہے کہ ٹیکس فری بڑے اقتصادی نونز کے قیام اور دو طرفہ تجارت پر کسٹمز کی جانب سے تیز تر کلئرنس کی سہولیات چین سے بھیجی اور وصول کی جانے والی مصنوعات کی تجارت میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کی بڑی کامیابیوں کے باعث کاشغر علاقے کے نوے فیصد سے زائد مسلمانوں کو روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاشغر میں سرمایہ کاری کیلئے حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سہولتوں سے استفادہ کیلئے پاکستانی سرمایہ کاروں کو موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کمپنیوں کو ٹیکس فری زونز، کرائے کے بغیر گھر کی فراہمی کے علاوہ پاکستانی تاجر برادری کو اشیاء خوردونوش کیلئے وظیفہ کی فراہمی کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے پاکستان کی بہتر اقتصادی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور پاکستان کو اس سال دسمبر میں ایگزیکٹر بورڈ کی طرف سے جائزہ منظوری کے بعد 1.1ارب ڈالر ملیں گے۔ آئی ایم ایف نے یہ بیان دبئی میں پاکستانی اقتصادی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کے بعد کیا جس کی قیادت عالمی مالیاتی فنڈے کے سربراہ جیفری فرینکس جبکہ پاکستانی وفد میں وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار، سٹیٹ بک کے گورنر اشرف وترا شامل تھے۔
آئی ایم ایف کے اجلاس میں پاکستان کیلئے 6/6ارب ڈالر کی توسیعی فنڈز سہولت کے چوتھے اور پانچویں جائزہ پر غور ہوا۔آئی ایم ایف مشن نے حکومت اور پاکستان کے مرکزی بنک کے حکام کے ساتھ ای ایف ایف پروگرام کے تحت پاکستان کی اقتصادی کارکردگی پر مفید بات چیت کی اور ملک کے میٹرو اقتصادی استحکام اور آؤٹ پٹ گروتھ میں مجموعی پیشرفت کی تعریف کی۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کے اقتصادی عشاریوں کی بہتری کو سراہا۔ مالی سال 2014-15 میں شرح نمو 4.3فیصد ہونے کا امکان ہے، افراط زر میں کمی آرہی ہے اور نجی شعبہ کیلئے قرضہ میں اضافہ ہوا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایس آر او کے ذریعے دئیے جانے والے استثنیٰ اور مراعات کو ختم کرتے ہوئے ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کر رہا ہے۔ اینٹی منی لانڈرنگ سے متعلق قوانین سازی مستحکم کررہا ہے اور ٹیکس انتظامی اصلاحات پر عملدرآمد کررہا ہے۔ آئی ایم ایف سے قرضہ سے ہماری معیشت کا پہیہ تو چل رہا ہے لیکن معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے بھی موثر اقدامات کو منصوبی بندی کی ضرورت ہے جس کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات ہونے چاہئیں۔
وقت اشاعت : 2014-11-17

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں