بند کریں
جمعہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خودکش بمبار
کیا ان پر قابو پانا ممکن ہے
خودکش بمبار کا ہدف خود کو اور اپنے ٹارگٹ ختم کرنا ہوتا ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ اس حملے میں اُسے خود بھی جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا
سنی خان :
پاکستان ایک دہائی سے بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ وجوہات سب کو معلوم ہیں۔سابق حکمرانوں کی پالیسیاں اور غیر ملکی عناصر کی مداخلت کا رونا اپنی جگہ درست ہے لیکن پاکستان کے موجودہ حالات دیکھ کر یہ جاننا مشکل نہیں ہے کہ سکیورٹی کی صورتحال کتنی مخدوش ہے اور اس پر قابو پانے میں حکومت کی کارکردگی کیسی ہے ۔ اس بڑھتی ہوئی بدامنی میں مہنگائی ، بیروز گاری، غربت ، ناانصافی بھی اپنا پورا حصہ ڈال رہے ہیں۔
دنیا خودکش حملوں کی اصطلاح نئی نہیں ہے۔ خودکش بمبار کا ہدف خود کو اور اپنے ٹارگٹ ختم کرنا ہوتا ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ اس حملے میں اُسے خود بھی جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔مختلف جنگوں میں بھی سپاہی اس طرح کے حملے کرتے رہے ہیں۔ جس کی ایک مثال جاپانی کاما کازی ہوابازو ں کی ہے۔ سری لنکا میں تامل ٹائیگرز بھی خودکش کار روائیوں میں مصروف رہے ۔
خودکش حملوں کو روکنے کے لیے سیاسی محرکات پر قابو پانا ضروری ہے اور اس کے ساتھ معاشرتی پہلووٴں پر توجہ دینے کی بھی اشد ضرورت ہے ۔ انصاف ایک ایسی چیز ہے کہ اگر اس کی فراہمی ممکن نہ بنائی جائے تو لوگوں میں مایوسی پھیلتی ہے ۔ معاشرے سے انصاف اُٹھ جائے تو لوگ قانون ہاتھ میں لینے لگتے ہیں۔ نا انصافی معاشرے میں بے چینی اور بدامتی کا سبب بنتی ہے۔
انصاف کے ستون پر معاشرے کی بقاء منحصر ہے جن معاشروں میں انصاف نہ ہو وہاں کمزور سے کمزور شخص بھی انصاف لینے کے لیے کسی نہ کسی سرگرمی میں ضرور ملوث ہوتا ہے۔ پاکستان میں خودکش حملوں کی کئی سیاسی اور معاشرتی وجوہات ہیں۔جنرم (ر) حمید گل کا کہنا ہے کہ ”طاقت کا توازن بگڑنے سے خود کشن حملے ہوتے ہیں، طاقت کا توازن اب امریکہ جیسے ملک کے ہاتھ میں ہے، اب کمزور ملکوں کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے، وہ خود کش حملے نہیں کریں گے تو اور کیا کریں۔
ایک شخص تنہا خود کشی کرتا ہے جبکہ خود کش حملہ آور کہتا ہے میں خود تو مررہا ہوں دوسروں کو بھی ساتھ ہی مارڈالوں ۔“
ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ ”خود کش بمبار غربت کا شکار ہوتے ہیں اور عام طورپر چھوٹی عمر کے ہوتے ہیں، ان کی ذہنی کیفیت کو خاص مقصد کیلئے تیار کیا جاتا ہے جن کے پاس دوسرا کوئی اسلحہ نہیں وہ ان کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

مذہبی سکالر حافظ ابتسام الٰہی ظہیر کا کہنا ہے کہ ”خود کش حملہ آور صرف مسلمانوں میں ہی جنہیں ہوتے بلکہ دیگر مذاہب میں بھی اسکی مثالیں موجود ہیں۔ خود کش بمبار تیار ہونے کی دو وجوہات ہوتی ہیں۔
اول: احساسِ محرومی جس میں جذبہ انتقام بھی موجود ہوتا ہے۔ ظلم اور زیادتیوں کے سبب اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔

دوم: معاشی کمزوریاں جو مخصوص مفادات کے تحت اس طرح کا حملہ کرنے پر مجبور کردیتی ہیں۔ کوئی بھی ایسا معاشرہ جہاں معاشرتی انصاف میسر ہو وہاں امنی پیدا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بد امنی عام ہونے کی دوسری بڑی وجہ علم سے دوری ہے ۔ تعلیم یافتہ شخص معاشرے میں بہتی لانے کیلئے کوشاں رہتا ہے اور اگر کوئی تعلیم یافتہ شخص معاشرے میں بہتری لانے کیلئے کردار ادا نہیں کررہا تو اس کا مطلب ہے، اسکی تعلیم نے اس کی شخصیت پر کئی مثبت اثرات مرتب نہیں کئے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں جاری امن و امان کے مسائل کی یک وجہ یہ بھی ہے کہ عام میں علم کی شمع روشن نہیں ہے اگر ہماری گزشتہ حکومتوں نے 67برس میں بہترین تعلیمی نظام مرتب کیا ہوتا تو آج قوم ان حالات کا شکار نہ ہوتی۔ اسلامی تعلیمات سے دوری کے سبب بھی بدامنی میں اضافہ ہورہا ہے۔ امن و امن کی ناقص صورتحال کی ایک وجہ لوگوں کا مذہب سے دور ہونا بھی ہے۔
لہٰذابد امنی پر قابو پانے کیلئے لوگوں میں تعلیم عام کرنے کی بھی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ تعلیم کے ذریعے لوگوں میں موجود بے چینی کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ یہ بے چینی بڑھ جاتی ہے تو مایوسی جنم لیتی ہے اور مایوس شخص کچھ بھی کرسکتا ہے۔ امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے اولین ذمہ داری حکومت کی ہے جو ایسے منوبے شروع کرے جن سے لوگوں میں مثبت سرگرمیوں کا آغاز ہو۔
خصوصاََ حکومت کو لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کرنا ہوگا۔ حکومت کو لوگوں کی معاشی صورتحال بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس پر قابو پانے کیلئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی حالات پر قابو پانے کے ساتھ حکومت کو غربت‘ بیروزگاری کو ختم کرنا چاہئے اور تعلیم اور صحت جیسے شعبوں پر پوری توجہ دینی چاہئے تاکہ بدامنی کو پیدا ہی نہ ہونے دیا جائے۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-05

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان