تازہ ترین : 1
Khitte Main Qayyam e Aman K Liye Wazir e Azam Ki Koshishain

خطے میں قیام امن کے لئے وزیر اعظم کی کوششیں

آرمی پبلک اسکول کی خونیں رنگ برسی سر پر ہے۔ایک سال قبل جب یہ سانحہ رونما ہوا تو دہشت گردوں نے اپنی طرف سے بڑا تیر مارا تھا کہ انہوں نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بچوں کے سینے چھلنی کئے تھے

اسد اللہ غالب
حکومت کے حق میں لکھنا اس کی مخالفت کرنے سے زیادہ مشکل کام ہے۔مگر میرا نظریہ ہے کہ حکومت پر تنقید کرنے سے انسان کے چہرے پر کوئی نور کا ہالہ سایہ فگن نہیں ہوتا۔ نہ اس کی حمائت سے انسان کامنہ کالا ہو جاتا ہے۔ منہ کالا تب ہوتا ہے جب انسان بھارت کا ضروری یا غیر ضروری سفر اختیار کرے اور وہاں سے منہ کالا کروانے کے بعد اس پر فخر کرنا بھی ضروری سمجھے۔

وزیر اعظم ان دنوں ازبکستان گئے ہوئے ہیں، ازبکستان ایک زمانے میں الف لیلوی مقام خیال کیا جاتا تھا اور ہمارے ادیب اور شاعر قافلہ در قافلہ وہاں سے گیان حاصل کرنے کے لئے جاتے تھے۔ واقعی زمین پر یہ جنت کے مثل تھا۔اور جنت میں جانے کا کون خواہاں نہیں، مگر وقت کے ساتھ یہ سارا خطہ جہنم میں تبدیل ہوتا چلا گیا، ازبک، تاجک جنگ جو پورے خطے میں پھیل گئے ۔
ممبئی سانحے کا الزام تو پاکستان پر لگا مگر کون جانے کہ ان میں ازبک یا تاجک جانباز کتنے تھے، پاکستان میں تو ہر بڑی واردات میں یہی لوگ ملوث تھے، کراچی ایئر پورٹ پر انہوں نے خونیں ڈرامہ کھیلا اور پھر پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے معصوم گلابی چہروں اور خوشبووں والے بچوں کو بے رحمی سے شہید کیا۔یہ ایک لحاظ سے خونیں ڈرامے کے ڈراپ سین کا آغاز تھا۔

آرمی پبلک اسکول کی خونیں رنگ برسی سر پر ہے۔ایک سال قبل جب یہ سانحہ رونما ہوا تو دہشت گردوں نے اپنی طرف سے بڑا تیر مارا تھا کہ انہوں نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بچوں کے سینے چھلنی کئے تھے۔ ان دہشت گردوں کا خیا ل تھا کہ تاریخ میں انہیں چنگیز ، ہلاکو اور ہٹلر کے برابر مقام ملے گا اور ان کانام سن کر آنے والی نسلوں پر وحشت طاری ہو جایا کرے گی مگر انہوں نے جنرل راحیل شریف کے رد عمل کا غلط اندازہ لگایا۔
وہ اپنے بچوں کے اس قتل عام پر تڑپ اٹھا۔ یہ ایک نئی ہولو کاسٹ تھی۔ نئی کربلا تھی، نئی جنگ احد تھی۔ جنرل راحیل نے دہشت گردوں کے چیلنج کو قبول کیا اور پھر اس نے پاکستان ہی میں نہیں، پورے خطے میں قیام امن کے لئے بلٹز کریگ کا آغاز کر دیا۔ اس کے فوجی افسرا ور جوان ان تاریک ، گہرے اور اندھے غاروں میں کود گئے جہاں نامی گرامی فاتحین عالم بھی داخل ہونے سے کتراتے رہے۔

پاکستان کی ایک خوش قسمتی اور بھی تھی، نواز شریف کی شکل میں ایک جمہوری وزیر اعظم صنعتی پس نظر کا حامل جانتا تھا کہ امن کے بغیر کاروبار کا پہیہ نہیں چلتا۔وہ دل و جاں سے فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گیا، پچھلی حکومت کو بھی داد دی جانی چاہئے کہ ا سنے سوات آپریشن کی سیاسی اونر شپ قبول کی، نواز شریف ایک قدم آگے بڑھے، انہوں نے ضرب عضب اور قومی ایکشن پلان کی حمایت کے لئے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کیا۔
بلا شبہہ سیاستدانوں کو پتہ تھا کہ وہ اپنے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کرر ہے ہیں مگر قوموں کو صد یوں تک زندہ رکھنے کے لئے کچھ قربانی بھی دینا پڑے تو یہ مہنگا سودا نہیں ہوتا۔
سول اور فوج کے بے مثل اشتراک نے دہشت گردی کی جنگ کا ایک مرحلہ جیت لیا ہے، اب اگلی جنگ اقتصادی بحالی کی ہے،اس کے لئے ہمیں پورے خطے کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔سوویت روس کے چنگل سے مسلم ریاستیں آزاد ہوئیں تو ہم نے کچھ خواب دیکھے ، یہ خواب بہت جلد بکھر گئے، ا سلئے کہ ہم نئے حقائق کے ساتھ چلنے کے لئے تیار نہ تھے، پورے خطے کے پاس بھی کوئی منصوبہ بندی نہ تھی، پھر چین سامنے آیا، اس نے اقتصادی کوریڈور کے خدو خال واضح کئے۔
یہ کوریڈور صرف چین اور پاکستان ہی نہیں پورے وسط ایشیا اور کسی حد تک روس کے لئے بھی مفید ہے۔امریکہ اس کی مخالفت ضرور کرتا ہے اور کرتا رہے گا مگر انسایت کا ایک تہائی حصہ اگر ایک راستے پر کاربند ہو جائے تو امریکہ کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا، بس ہمیں اپنے ہمسایوں کو اعتماد میں لینا ہے، او ساتھ چلنے کا عہد کرنا ہے، منصوبے تو بہت ہیں کہ فلاں ملک سے گیس ملے گی، فلاں ملک سے بجلی ملے گی، فلاں ملک سے کپاس ملے گی، فلاں ملک سے لوہا ملے گا اور فلاں ملک میں میزائلوں کے ڈھیر لگے ہیں مگر یہ سب کام انجام دینے کے لئے باہمی اعتماد کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے ہمسایوں کو یقین دلانا ہے کہ ہم ان کی روایات میں دخل اندازی نہیں کرناچاہتے ، صرف دوستانہ ہمسائیگی کے تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔
اور ہو سکے تو مل جل کر اپنی اقتصادیات کو بہتر بنانے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا چاہتے ہیں۔میں راز ہائے اندرون خانہ سے تو آگا ہ نہیں ، مجھے محترمہ مریم نواز کے میڈیا سیل تک کوئی رسائی نہیں، نہ فارن آفس کے کسی معمولی اہل کار سے ہیلو ہائے ہے مگر میرا گمان یہ ہے کہ پچھلے کچھ مہینوں سے پاکستان نے سفارتی محاذ بہت فعال ا ور گرم کر رکھا ہے۔
پہلے چین کے صدر تشریف لائے، اب تاجک حکمرا ن آئے، نواز شریف نے ازبکستان کا رخ کیا۔ میں نے پہلے کہا کہ یہ کسی سیر سپاٹے کا حصہ نہیں،سیر ہی کرنی ہو تو انسان سوئٹزر لینڈ کے کسی سرسبز پہاڑ کی تلہٹی میں جا بیٹھے جہاں آبشار نغمہ سرا ہوں۔یہ دو تین دن کے دورے سیر سپاٹے نہیں کہلا سکتے۔ یہ تو مشن ہیں۔ جن پر نواز شریف نکلے ہوئے ہیں اور راحیل شریف نے اسی مشن کی تکمیل کے لئے دوسرا راستہ اختیار کیا ہے، دونوں راستے ایک دوسرے کے متوازی چلتے ہیں ، ان میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔

اصل قصہ اقتصادی کوریڈور کا ہے جس کے لئے میاں نواز شریف کو اندرون ملک ا ور بیرون ملک حمائت حاصل کرنی ہے اور راحیل شریف نے اس کی سیکورٹی کی گارنٹی دینی ہے بلکہ دے دی ہے۔
یہ وقت پاکستان کے لئے بے حد ساز گار ہے، دنیا دہشت گردی کا پھل چکھ رہی ہے جب کہ ہم نے ا س عفریت کو کچل کر رکھ دیا ہے۔عام ا ٓدمی تو یہ باتیں کرتے ہیں کہ پیرس والوں کو ضرورت ہو تو ہمیں آواز دیں ، ہم دہشت گردی کے خاتمے کے سبجیکٹ میں پی ایچ ڈی ہیں، کیا ہی بہتر ہو کہ آرمی چیف جہاں ہفتہ دس دن امریکہ، برازیل اور آئیوری کوسٹ میں گزارنا چاہتے ہیں ، وہاں وہ ایک ہفتہ پیرس میں اسٹاپ اوور کر لیں اور کچھ رازو نیاز کی باتیں ان کو بھی بتا دیں۔

مجھے ان باتوں پر ہنسی آتی ہے کہ نواز شریف ازبکستان کیا لینے گئے ہیں اور تاجک حکمران کی کیا حیثیت ہے کہ وہ پاکستان کے دورے پر چلے آئے اور راحیل شریف امریکہ میں کیا پخت و پز کر رہے ہیں۔ان سوالوں کا جواب ان لوگوں سے پوچھیں جن کے بچے دو قت کی روٹی کے لئے ترستے ہیں ۔ انہیں صرف چینی کھلونوں سے تو نہیں بہلایا جا سکتا۔
وقت اشاعت : 2015-11-21

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں