تازہ ترین : 1
Karachi Main Moot Ka Raqs

کراچی میں موت کا رقص ، شہریوں پر زمین تنگ

شدید گرمی کی لہر کے دوران کراچی میں بدھ کو بھی سورج آگ برساتا رہا۔ لوڈ شیڈنگ میں کوئی کمی نہیں آسکی جس کے بعد موت کا رقص جاری ہے۔ اسپتال مریضوں سے اور مردہ خانے لاشوں سے بھرے پڑے ہیں

شہزادچغتائی:
شدید گرمی کی لہر کے دوران کراچی میں بدھ کو بھی سورج آگ برساتا رہا۔ لوڈ شیڈنگ میں کوئی کمی نہیں آسکی جس کے بعد موت کا رقص جاری ہے۔ اسپتال مریضوں سے اور مردہ خانے لاشوں سے بھرے پڑے ہیں۔ زیادہ تر اموات بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث ہو رہی ہیں۔ 100 فیصد شہری مریض کو طبی دینے کے اصولوں سے ناواقف ہیں۔ حکومت کے پاس شہریوں کو بچانے کی کوئی حکمت عملی نہیں تھی۔
حکومتی اقدامات کے بعد اموات میں کمی ہوسکتی تھی۔یہ سوال بھی کیا جارہا ہے کہ اسپتالوں پر دباؤ بڑھنے کے بعد ایمرجنسی نافذ کیوں نہیں کی گئی۔ شہریوں سے محتاط رہنے اور گھروں میں رہنے کی اپیل بھی کی جاسکتی تھی اور چینلوں کے ذ ریعہ آگاہی کی مہم چلائی جاسکتی تھی۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ایک جانب شہر نگاراں اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے تو دوسری جانب شہریوں پر زمین تنگ ہو گئی ہے۔
اسپتالوں شفا خانوں مردہ خانوں اور قبرستانوں میں جگہ نایاب ہے۔ تمام اسپتالوں کے سبزہ زاروں پر جابجا مریض پڑے ہیں۔ ادویات اور عملہ کی کمی ہے۔ ایمبولینس اور میت گاڑیاں کم پڑ گئی ہیں۔ سڑکوں پر چلچلاتی دھوپ میں عام اور پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں کے بجائے میت گاڑیاں اور ایمبولینسیں دکھائی دیتی ہیں۔ کراچی میں کوئی محلہ ایسا نہیں جہاں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہو اور کوئی گھر ایسا نہیں جو متاثر نہ ہو۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ میت گاڑی نہ ملنے پر میت کو شہ زور ٹرک پر رکھ کر لے جایا گیا۔ ایک خاتون نے بتایا کہ وہ بیٹے کو ٹرک میں اسپتال لائی ہیں۔ کراچی میں بارش اور سمندری ہوائیں چلنے کے باوجود گرمی کم نہیں ہوئی محکمہ موسمیات اس موقع پر شہریوں کی رہنمائی کرنے میں ناکام رہا۔ شہری بی بی سی پر اعتماد کرتے رہے محکمہ موسمیات روز یہ بیان جاری کرتا رہا کہ آج گرمی کا آخری دن ہے لیکن اس کے برعکس درجہ حرارت بڑھتا رہا بی بی سی نے منگل کی صبح کہا کہ شام 8بجے تک ہوا میں نمی کا تناسب 76فیصد ہو جائے گا اور موسم بہتر ہو جائے گا۔
بی بی سی کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی شدت کم ہوئی لیکن حدت کم نہیں ہو سکی۔ ہوائیں چلیں، لیکن جسم کو نہیں لگیں۔ بدھ کی صبح مردہ خانے کھلے لیکن ان کے لیے جگہ نہیں تھی المیہ یہ ہے محکمہ موسمیات نے کراچی میں گرمی کی لہر آنے کی کوئی پیش گوئی نہیں کی تھی اس طرح ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ہمیشہ کی طرح ریلیف فراہم کرنے اور ہنگامی اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ اسلام آباد میں بیٹھ کر حکومت کو احکامات جاری کرتے رہے۔ حالانکہ یہ ادارہ آفات ارضی سمادی میں فوری کردار ادا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے صوبائی حکومت محض بیانات کا اجراء کرتی رہی اور خود احتجاج میں شامل ہو گئی۔ اصلاح احوال کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ صرف فوج رینجرز اور نیوی نے ہیٹ اسٹروک سینٹرز اور امدادی کیمپ قائم کیے۔
بعض حلقوں کے مطابق اس صورت حال میں صوبائی حکومت کی کارکردگی کا عمل دخل ہونے کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم کی حکومت سے علیحدگی اور تنظیمی سرگرمیوں کا محدود ہونا بھی ایک وجہ سمجھا جاتا ہے۔ ادھر ایم کیو ایم بتدریج بحران سے نکل رہی ہے ایک جانب پیپلز پارٹی نے اسے حکومت میں شامل کرنے کا عندیہ دیاہے تو دوسری جانب ایم کیو ایم کے دفاتر کھولنے کا بھی فیصلہ ہو گیاہے۔
رینجرز نے دفاتر کھولنے کی کلیئرنس دیدی اور کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کے دفاتر کھولنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ بلا شبہ کارکنوں کے فعال ہو جانے پر کراچی میں حکومت کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم بھی متاثرہ لوگوں کی آگے بڑھ کر مدد کر سکے گی
کراچی میں حکومت کے ساتھ تمام ادارے ہی اب تک شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنانے میں برابر شریک رہے ہیں۔
جب بجلی نایاب تھی تو سدرن گیس کمپنی نے سی این جی کی بندش کا دورانیہ 24سے بڑھا کر 48گھنٹے کر دیا۔ 48گھنٹے کی غیر اعلانیہ بندش کے بعد جہاں عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہاں ایمبولینس کھڑی ہو گئیں۔تین کروڑ آبادی کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ کوئی ادارہ ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے سے دست گریباں ہیں۔
مرنے والے زیادہ تر لوگ بس اسٹاپوں پر کھڑے تھے کہ اچانک گر گئے اور اسپتال جاتے جاتے زندگی کی بازی ہار گئے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ وہ ایک پھل فروش سے خریداری کر رہا تھا اچانک وہ کھڑے کھڑے گر گیا اور اسپتال پہنچنے سے پہلے مر گیا۔ جوشہری جاں بحق ہوئے ان میں روزہ داروں کی تعداد کم نہ تھی۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ پانی کی کمی موت کا ایک سبب ہے۔
شہری زیادہ سے زیادہ پانی پیئں اب سوال یہ ہے کہ روزہ میں پانی کیسے پیا جاسکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ کراچی کے بعض علاقوں میں کئی کئی دن سے بجلی غائب ہے۔ لوڈ شیڈنگ کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ لوگ اگر سڑکوں پر مرے تو بھی ذمہ داری کے الیکٹرک پر ڈال دی گئی۔ صوبائی حکومت کا حال یہ ہے کہ اسپتالوں میں ادویات نہیں ہیں۔ تھر میں ہلاکتوں کے بعد حکومت نے خزانے کے منہ کھول دیے تھے مگر کراچی میں ادویات کی بلیک مارکیٹنگ ہو رہی ہیں۔
ڈرپس منہ مانگے داموں فروخت ہو رہی ہیں۔ مریضوں کو کوئی ریلیف دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ حکومت محض اعلانات پر اکتفا کر رہی ہے۔محکمہ موسمیات کے حوالے سے بھی یہ خبر محض ایک طفل تسلی ہی ثابت ہوئی کہ کراچی اور آس پاس کی حدود میں مصنوعی بادل برسانے کی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔ متاچرہ علاقوں میں واقع گھروں اور مساجد میں اب حالت یہ ہے کہ پانی دستیاب نہیں ہے۔
شہری میتوں کو غسل دینے کے لیے ٹینکرز سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ اس طرح ٹینکرز مافیا کی چاندی ہو گئی ہے۔ ایک ٹینکر 10ہزار روپے میں فروخت ہو رہاہے۔ موسمیاتی تغیر کے بعد مارکیٹ میں ایئر کنڈیشنر روم کولر پنکھے ختم ہو گئے ہیں۔ بدھ کو کراچی میں روم کولر اور ایئر کنڈیشنر دستیاب نہیں تھے۔ ایک دکان دار نے بتایا کہ ہم نے گرمیوں کے لیے جو اسٹاک رکھا تھا وہ ایک دن میں فروخت ہو گیا۔

انہوں نے بتایا روم کولر پنجاب سے آتے ہیں، ان کی سپلائی جمعہ تک آنے کا امکان ہے۔ گرمی میں اضافے کے بعد دکان داروں نے منہ مانگے دام وصول کیے۔ 33ہزار روپے مالیت کا ایئر کنڈیشنر 45سے 48ہزار روپے اور 10ہزار کا روم کولر 20سے 25ہزار میں فروخت ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی گرما گرمی کے دوران کراچی میں حبس اور تپش کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں ۔
بزرگ شہریوں کا کہنا ہے انہوں نے زندگی میں اتنا خراب موسم نہیں دیکھا۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ کھٹمنڈو کے زلزلہ میں برف پوش پہاڑوں کے گرنے کے بعد کراچی کو موسمیاتی تغیرات کا سامنا ہے جبکہ ایک رپو رٹ یہ ہے کہ سیاچن میں بھارت کی جانب سے ایئر بیس بنائے جانے کے بعد سمندر کی سطح تین انچ بڑھ گئی ہے جس کے نتیجے میں موسم بدل گیا ہے۔ کراچی میں ہوائیں سائبریا اور بلوچستان سے آتی ہیں۔
اس بار بلوچستان اور اندرون ملک سے آنے والی گرم ہواؤں نے سمندری ہواؤں کو بہت پیچھے دھکیل دیا۔ سمندری ہوا بند ہونے کے بعد ہوا میں نمی کا تناسب کم ہو گیا جس کے بعد گرمی نے قیامت ڈھادی اگر ہوا میں نمی کا تناسب کم نہیں ہوتا اور درجہ حرارت 50سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا تو اس صورت میں بھی اموات نہیں ہوتیں اموات درجہ حرارت بڑھنے سے نہیں ہوا میں نمی کا تناسب بہت زیادہ کم ہونے سے ہوئیں۔
کراچی میں جو لوگ مرے ہیں ان کے ناک اور منہ سے خون آنے کی شکایات بھی ہیں یہ بحث ہو ر ہی ہے کہ ہوا میں نمی اس قدر کم کیسے ہوگئی۔ کیونکہ ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ شاید دشمن نے کوئی تجربہ یا مہم جوئی کی ہے جس کے نتیجے میں موسم غیر معمولی طور پر تبدیل ہو گیا۔ اس سے قبل بھارت میں شدید گرمی پڑنے سے کئی ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
کراچی میں یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔ یہ بھی پہلی بار ہوا کہ تسلسل کے ساتھ ایک ہفتہ تک جان لیوا گرمی پڑی ہے۔کراچی میں عام طور پر مئی میں زیادہ گرمی پڑتی ہے اور 20جون تک گرمی کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔ رمضان المبارک سے قبل محکمہ موسمیات نے یکم رمضان کو کراچی میں بارش کی پیش گوئی کی تھی لیکن اس روز سورج سوا نیزے پر ایسا آیا کہ شہری زندگی درہم برہم ہو گئے اور چند روز کے دوران 2ہزار سے زائد افراد اس بے رحم گرمی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گئے۔
وقت اشاعت : 2015-06-26

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں