تازہ ترین : 1
Karachi Air Port Hamla

ائیرپورٹ پر حملے نے اہم تنصیبات کی حفاظت کے متعلق کئی سوالات اٹھا دیئے

اگر چہ دہشتگرد ائیر پورٹ کےجناح ٹرمینل پرکھڑے طیاروں کو تو تباہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکےلیکن حملے میں اے ایس ایف، رینجرز پولیس ،سول ایوی ایشن،پی آئی اے کےاہلکاروں سمیت22 افرادلقمہ اجل بن گئے

تنویر بیگ:
کراچی میں اتوار کی شب ایک اور قیامت گزر گئی‘ شاہراہ فیصل پر پاک بحریہ کے مہران بیس کی طرز پر دہشت گردوں نے اس بار کراچی کے سول ائیرپورٹ کو نشانہ بنایا۔ اگر چہ دہشت گرد کراچی کے قائد اعظم ا نٹرنیشنل ائیر پورٹ کے جناح ٹرمینل پر کھڑے طیاروں کو تو تباہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے لیکن حملے میں اے ایس ایف‘ رینجرز پولیس ‘ سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کے اہلکاروں سمیت22 افرادلقمہ اجل بن گئے جبکہ 26 زخمی بھی ہوئے۔
غیرملکی دہشت گردوں نے حملہ اتوار کی رات تقریباً گیارہ بج کر 20 منٹ پر کیا‘ تاہم دہشت گردوں کے پہلے ہی ہلے میں چار جوانوں کی شہادت کے باوجود ائیر پورٹ سیکیورٹی فورس کے بہادر جوانوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دہشت گردوں کو جناح ٹرمینل پر کھڑے طیاروں تک نہیں پہنچنے دیا‘ بعدمیں رینجرز کے علاوہ پاک فوج کی کوئیک رسپانس فورس کے جوان بھی مدد کو آگئے‘ اور رات بھر کے طویل اور صبر آزما آپریشن کے نتیجے میں تمام دس دہشت گردوں کو موت کا ذائقہ چکھنے پر مجبور کردیا۔
ان میں سے سات سیکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنے جبکہ تین نے خود کو دھماکے سے اڑایا‘ دہشت گرد انتہائی جدید ہتھیاروں جن میں آٹو میٹک رائفلوں‘ مشین گنوں کے علاوہ ایوان گولے ‘ دستی بم اور راکٹ لانچر تک شامل تھے سے لیس تھے اور ان کی پشت پر بندھے ہوئے بھاری بھر کم بیگوں میں وافر مقدار میں کھجور یں‘ چنے بسکٹ اور پانی کی بوتلیں بھی موجود تھیں۔
گویا وہ مکمل تیاری کے ساتھ گھنٹوں نہیں دنوں تک مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن اے ایس ایف ‘ رینجرز‘ پولیس کمانڈوز اور پاک فوج کے بہادر جوانوں کے سامنے ان کی ایک نہ چلی اور وہ صبح کی سفیدی پھیلنے سے پہلے ہی ڈھیر ہوگئے‘ دہشت گرد کراچی ائیر پورٹ پر حملے کے لئے اولڈ ٹرمینل پر دو مختلف راستوں سے اندر داخل ہوئے‘ انہوں نے سیکیورٹی کے جوانوں کو دھوکہ دینے کے لئے اے ایس ایف کی یونیفارم پہن رکھی تھی لیکن ان کے کاندھوں پر ر کھے بھاری بھرکم بیگوں اور گرم موسم میں یونیفارم کے اوپر پہنی جیکٹوں نے ان کا بھانڈا پھوڑ دیا‘ اس بات کے باوجود کہ وہ فائرنگ کرتے ہوئے ائیر پورٹ کی حدودمیں داخل ہونے میں کامیاب رہے۔
لیکن شروع سے آخر تک دہشت گردوں کوشدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ بظاہر دہشت گردی کا یہ واقعہ بھی مہران بیس پر حملے سے مماثلث رکھتا ہے لیکن اسے کلی طورپر مہران بیس حملے کا ری میک نہیں کہا جاسکتا کیونکہ مہران بیس پر حملے کے لئے دہشت گردوں نے عقبی حصے میں دیوار توڑ کر نقب لگائی تھی جبکہ کراچی ائیر پورٹ پر حملے کے لئے دہشتگردوں نے اولڈٹرمینل پر فوکر گیٹ اور کارگو گیٹ کا انتخاب کیا اور وہ اندرگھس کر اصفہانی ہینگر کے نزدیک تیل کے ذخیرے اور ایک نجی کو رئیر کمپنی کی عمارت کو آگ لگانے میں بھی کامیاب رہے۔
اس بات کے با وجود کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کا جوانمردی سے مقابلہ کیا اور انہیں جہنم واصل کرنے میں بھی کامیاب رہے۔ اس حملے نے ایک بار پھر اہم تنصیبات کی حفاظت سے متعلق کئی سوال کھڑے کردئیے ہیں جن میں سرفہرست حفاظتی انتظامات میں پائے جانے والے نقائص ہیں ملک کے سب سے بڑے ہوائی اڈے پرحملے کی تیاری ایک دن میں نہیں ہوئی ہوگی یقینی طورپر اس کے لئے دہشت گردوں نے دنوں پر محیط ریکی کی ہوگی اور کسی بھی بھیس میں وہ کئی بار ائیر پورٹ کے ان راستوں سے گزرے ہوں گے جہاں سے حملے کے لئے داخل ہوئے اس کے باوجود ان مشکوک افراد کی نقل و حرکت کو محسوس کیوں نہیں کیا جاسکا اور کیا ائیر پورٹ کے کسی بھی داخلی راستے پر حفاظت کے لئے چار چھ جوانوں کی تعیناتی سیکیورٹی کی ضامن سمجھی جاسکتی ہے اس سے بھی بڑھ کریہ کہ کئی کلو میٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے کراچی ائیر پورٹ کے عقبی حصے میں صرف خار دار تار لگا کر سیکیورٹی کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔
یہ اور ایسے بہت سے سوالات ہیں جنہوں نے ائیر پورٹ پر حملے کے بعد جنم لیا ہے۔ مہران ائیر بیس پرحملے سے تو شایدکوئی سبق نہیں لیا گیا کاش کراچی ائیر پورٹ پر حملہ سیکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کی آنکھیں کھول سکے۔
وقت اشاعت : 2014-06-11

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں