تازہ ترین : 1
Jang Bandi DarHaqeeqat Taliban K Imtehan Ka Aghaz

جنگ بندی درحقیقت طالبان کے امتحان کا آغاز

کیا طالبان واقعی دہشت گردی اور سیز فائز توڑنے والوں کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں بیرون ملک سے تانے بانے کی پھر پازگشت، اپوزیشن سینیٹ سے واک آوٴٹ کرنے پر کمر بستہ

نواز رضا :
بالآخر تحریک طالبان پاکستان نے غیر مشروط طور پر جنگ بندی کا اعلان کر کے حکومت پاکستان کا مطالبہ تسلیم کرلیا ہے۔ تین چار روز قبل وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پر تشدد حملے کرنے والے طالبان کے خلاف ” ٹارگیٹڈ کارروائی“ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم طالبان سے غیر مشروط طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور طالبان کے مختلف گروپوں کے درمیان ” پس پردہ رابطوں کے نتیجے میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان پیدا ہونے والے” ڈیڈلاک“ کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ایک بار بھر سرگرم عمل ہو گئے انہوں انتہائی رازداری سے طالبان سے رابطے قائم کئے لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی چوہدری نثار علی خان طالبان قیادت کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئے کہ گلی کو چوں میں ” خون کی ہولی “ کھیلنا کسی صورت بھی طالبان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔
طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے 48گھنٹے بعد ہی ایف۔8اسلام آباد دہشت گردی کا سنگین واقعہ پیش آگیا۔ اگرچہ تحریک طالبا ن پاکستان نے دہشت گردی کے اس واقعہ سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے لیکن اس واقعہ کی مذمت نہیں کی اس واقعہ نے امن مذاکرات کو شدید دھچکا لگایا ہے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان سیز فائر کر چکی ہے تمام گروپ ملا فضل اللہ کی اطاعت کے پابند ہے‘ اگر کوئی گرپ ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف ہم خود کارروائی کریں گے۔
” احرارلہند“ نامی تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ تحریک طالبان کو واقعہ میں ملوث گروپ کی نشاندہی کرنی چاہیے۔ اس واقعہ کے فوراََ بعد وزیراعظم محمد نواز شریف سے فوج کے سر براہ جنرل راحیل شریف نے ملاقات کی بعد ازاں وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں آرمی چیف سمیت وفاقی وزراء چوہدری نثار علی خان ، خواجہ آصف علی ، محمد اسحق ڈار اور ڈائریکٹر جنرل آئی سی ایس آئی نے شرکت کی ۔
اجلاس میں اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے ایف۔8اسلام آباد میں ضلع کچہری میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ کا سخت نوٹس لیا ہے اور عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اگر طالبان کے کسی گروپ کی جانب سے سیکیورٹی فورسز یا معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو سخت تین جوابی کارروائی کر جائے گئی۔اجلاس میں تحریک طالبان کی جانب سے غیر مشروط جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کیا گیا اور اس توقع کا اظہار کیاگیا کہ تحریک طالبان جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گئی۔
اجلاس میں ضلع کچہری میں دہشت گردی کے واقعہ میں دہشت گردوں کے ممکنہ گروپ یا غیر ملکی ہاتھ کے ملوث ہونے کا امکان کابھی جائزہ لیاگیا اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ قومی سلامتی پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا اجلاس میں وفاقو وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے طالبان سے رابطوں اور اسلام آباد کے سانحہ کے بارے میں بریفینگ دی اجلاس میں حکومت کی جانب سے طالبان کے خلاف فضائی حملے روک دینے کے فیصلہ کو توثیق کی گئی وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ قومی سلامتی کے تحفظ اور شہریوں کی حفاظت کے لئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں گے سانحہ اسلام آباد کے روز ہی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کیااجلاس منعقد ہوئے دونوں اجلاسوں کاموضوع گفتگو” سانحہ اسلام آباد“ ہی تھا دونوں اجلاسوں میں ارکان پارلیمنٹ کی ”توپوں “ کا وزیر داخلہ کی طرف ہی تھا چوہدری نثار علی خان نے سینیٹ میں اپوزیشن کے ” غیر دوستانہ طرز عمل “ کے باعث ایوان کا ” غیر اعلانیہ“ بائیکاٹ کر رکھا ہے اب سینیٹ میں اپوزیشن ایوان میں وزیر داخلہ کو ” بلوانے “ کے لئے احتجاج کر رہی ہے اپنا مطالبہ منوانے کے لئے نہ صرف ایوان سے واک آوٴٹ کر رہی ہے بلکہ کور م کی نشاندہی کر کے سینیٹ جہاں حکومت اقلیت میں ہے ایوان کی کارروائی نہیں چلنے دے رہی پچھلے تین روز سے کورم پورا نہ ہونہ ہونے کے باعث سینیٹ کا اجلاس ملتوی کرنا پڑ رہا ہے ایسا دکھائی دیتا ہے سینیٹ میں اپوزیشن واک آوٹ کرنے کا پروگرام بنا کر آتی ہے ہرروز واک آوٴٹ کرنے کا بہانہ تلاش کرلیتی ہے۔
اب اس نے ایوان میں” وزیر داخلہ“ کی طلبی کا مطالبہ کر رکھا ہے اور بات پر اصرار کر رہی ہے وفاقی وزیر داخلہ ایوان میں آکر ” سانحہ اسلام آباد“ کے بارے میں بریفینگ دیں لیکن وفاقی وزیر داخلہ نے بلیغ الرحمن کو اپنا نائب بنا کر سینیٹ میں وزارت داخلہ کا بزنس نمٹانے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ اپوزیشن اس بات پر بضد ہے کہ چوہدری نثار علی خان ایوان میںآ کر سانحہ اسلام آباد پر بریفنگ دیں سینیٹ میں اپوزیشن واک آوٴٹ کر کے اپنے وجودکا احساس دلاتی رہتی ہے اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا سینیٹ میں اپوزیشن ایوان سے واک آوٴٹ کرنے کا ریکارڈ قائم کر رہی ہے پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں معمول کی کارروائی روک کر اپوزیشن جماعتوں نے سانحہ اسلام آباد کی آڑ میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو ان کی عد موجودگی میں اپنی توپوں کا رخ ان کی طرف کئے رکھا لیکن جب چوہدری نثار علی خان ایوان میں آگئے تو اپوزیشن بنچوں کی جانب سے کی جانے والی تنقید کی شدت میں کمی آگئی چوہدری نثار علی خان نے ” نکتہ چینوں“ کا زور دار انداز میں جواب دیا انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر کھل کر” سانحہ اسلام آباد“ کے تما پہلووٴں کا جائزہ پیش کیا ان کی تقریرکے دوران اپوزیشن ہمہ تن گوش رہی چوہدری نثار علی خان نے روایتی طور پر اس واقعہ کی ذمہ داری پولیس پر عائد کرنے کی بجائے اس کی کارروائی کا دفاع کیا اور ” راہ افرا“ اختیار کرنے کی بجائے ایوان میں اپوزیشن کی تنقید کا سامنا کیا۔
حالانکہ چوہدری نثار علی خان نے جب جائے وقوعہ کی معائنہ کیا تو انہوں سیکیورٹی کے حوالے سے پولیس کی کمزرویوں پر آئی جی پولیس اسلام آباد کی سرزنش بھی کی ۔ وزیر داخلہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسلام آباد کی ضلعی کچہری دہشت گردی کے لئے آسان ترین ہدف ہے۔ دہشت گردی کے واقعہ اسلام آباد کے نواح سے 7مشکوک افراد کر گرفتاری کی ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔
کیونکہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے والوں میں تحریک طالبان یا ایسے عناصر ملوث ہو سکتے ہیں جن کے تانے بانے بیرون ملک سے جاملتے ہیں۔ جبکہ پاکستان کی پولیس اور سول ارمڈ فورسز گوریلا جنگ کے لئے تربیت یافتہ ہی نہیں ہیں۔ حکومت ناکام نہیں ہوئی13،14سال سے ملک میں آگ و خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے لیکن قیام امن کے لئے دہشت گردوں کا بہادی اور جواں مردی سے مقابلہ کیا جا رہا ہے۔
مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ حکومت 90روز میں حالات ٹھیک کرنے کے دعوے کر رہی تھی مگر اب تو 9ماہ گزر چکے ہیں‘ قوم کو بتایا جائے کہ حالات کب ٹھیک ہونگے ۔ آج پارلیمنٹ ایوان صدر اور ایوان وزیراعظم محفوظ نہیں ‘ جب وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ اسلام آباد مکمل طور پر محفوظ ہے تو مجھے اطمینان ہوا تھا مگر بد قسمتی سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔
اعلان جنگ بندی کے بعد تحریک طالبان کا امتحان شروع ہوچکا ہے، جلد واضح ہو جائے گا کہ کتنے گروپ تحریک طالبان کے کنٹرول میں ہیں اور کتنے تشدد آمیز کار روائیوں سے باز نہیں آتے ، ایسا دکھائی دیتا ہے طالبان کے سارے گروپ آپس میں متفق نہیں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے طالبا ن کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے جواب میں فضائی حملے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پر تشدد کارروائی کاجواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے دونوں اطراف نے مذاکراتی عمل میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو جنگ بندی کی مدت میں توسیع بھی ہو سکتی ہے۔
مذکراتی کمیٹیوں کے مستقبل کے بارے میں کوئی بات حتمی طورنہیں کہی جا سکتی ان کمیٹیوں نے 17دن کام کیا ہے۔ اس دوران حکومتی کمیٹی کی طالبان کی کمیٹی سے صرف تین ملاقاتیں ہوئی ہیں اس کی طالبان شوریٰ سے براہ راست ملاقات یا رابطہ نہیں ہوا۔ منگل کو حکومتی مذاکرات کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا ہے جس کے بعد کمیٹی کے ارکان نے وزیراعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کی اور دوران وزیراعظم نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو طالبان کی مذاکراتی کمیٹی سے رابطہ کرنے کا ” گرین سگنل“ دے دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں مذاکراتی عمل کیا رخ اختیار کرتا ہے؟
وقت اشاعت : 2014-03-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں