بند کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اسلامی نظام حکومت کا قیام
آئین پاکستان کی تمام شقوں پر عمل کرنا ہوگا
اسلام کا مخاطب ” انسان“ ہے اور یہ آفاقی مذہب انسان کی زندگی کو بہتر رُخ دینے کیلئے ہے۔ اسلامی نظام کا مقصد بھی انسانی زندگی اور عیب سے پاک بنانا ہے وطن عزیز میں خلافت، شرعی یا اسلامی نظام کے حوالے سے مختلف نظریات موجود ہیں
مصنف : سید بدر سعید

سید بدر سعید:
اسلام کا مخاطب ” انسان“ ہے اور یہ آفاقی مذہب انسان کی زندگی کو بہتر رُخ دینے کیلئے ہے۔ اسلامی نظام کا مقصد بھی انسانی زندگی اور عیب سے پاک بنانا ہے وطن عزیز میں خلافت، شرعی یا اسلامی نظام کے حوالے سے مختلف نظریات موجود ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ عام شہری اس کے لائحہ عمل اور طریقہ کار سے بھی واقف نہیں۔ یہاں تک کہ مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام میں بھی اس معاملے پر متفق نظر نہیں آتے ۔

دور حاضر میں جہاں جہاں خلافت یا اسلامی نظام کے تجربات ہوئے وہاں بھی وہ تمام مکاتب فکر کو یکساں طور پر قبول نہ تھے۔ آئین پاکستا ن کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نہ تو ہماری جمہوریت مغربی جمہوریت جیسی ہے اور نہ نظریہ پاکستان اس کی اجازت دیتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ آئین کی بعض شقوں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اگر 62,63سمیت آئین کی تمام شقوں پر عمل ہوتو بڑی حد تک یہاں اسلامی نظام نظر آنے لگے گا۔

حکومت انسانی فطرت کاایک حصہ ہے ۔ زمانہ قدیم حتیٰ کہ پتھر کے دور میں بھی یہ کسی نہ کسی شکل میں قائم تھی۔ عموماََ سب سے طاقتور شخص کسی قبیلے یا گروہ کا سردار بنتا تھا یا پھر سب سے عمر رسیدہ شخص کو اس کے تجربات اور بزرگی کی وجہ سے فضیلت دی جاتی تھی۔ جب سرداروں کا وجود عمل میں آیا تو انہی سرداروں نے دوسرے علاقوں پر حملے کیے اور فاتح سردار کا دائرہ اختیار مزید پھیلنے لگا۔
آہستہ آہستہ یہی سرداری پھیل کر بادشاہت کی جانب سفر کرنے لگی۔ چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر قبضوں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں پر حکومت کرنے کی خواہش میں عظیم الشان سلطنتوں اور بڑے فاتحین سامنے آئے۔ حکومت کا یہ سلسلہ صدیوں سے چل رہا ہے۔ آج بھی دنیا بھر میں مختلف طرز کا حکومتی نظام چل رہا ہے۔ پارلیمانی ، صدارتی ، بادشاہت اور دیگر کئی ناموں سے دنیا بھر میں حکومتیں رواں دواں ہیں۔
یہ نظام صدیوں سے رائج ہیں اور انہیں مزید چلنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمیں کیسا نظام حکومت درکار ہے؟
دیکھا جائے تو انسان نظام کیلئے نہیں ہوتے بلکہ نظام انسانوں کیلئے وضع کیے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد بنی نوع انسان کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سب سے بہتر نظام حکومت وہی ہے جو اللہ رب العزت نے بنی نوع انسان کیلئے پسند کیا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر یہ نظام اپنے تمام تر اصول و قوانین کے ساتھ وضع کردیا جائے تو پھر جرائم اور برائی ممکن نہیں۔ اللہ رب العزت نے جو نظام پسندکیا اسے آپ کوئی بھی نام دے لیں کیونکہ اصل چیز نام سے زیادہ طریقہ کار ہے۔ اس نظام کے تحت حاکم وقت بھی کڑے احتساب کی زد میں رہتا ہے۔ اسے عام شہری سے ماورا نہیں سمجھا جاتا۔ یہی اس نظام کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ اس میں ظلم کا تصورنہیں اورہر شخص جواب دہ ہے۔
عام فہم انداز میں اسے خلافت یا شرعی نظام کہا جاتا ہے جبکہ کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر جمہوری نظام کا جائزہ لیا جائے اور اسے اپنی اصل روح کے ساتھ نافذ کیاجائے تو یہ بھی خلافت کا متبادل ہی ہے۔دوسری جانب مذہبی نقطہ نظر کے حامل افراد جمہوریت کو کسی بھی صورت خلافت کا متبادل تسلیم نہیں کرتے۔
پاکستان کا ہر باشعور شہری یہی چاہتاہے کہ نظریہ پاکستا کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں ایسا نظام متعارف کرایا جائے جس کے تحت حکومت اللہ کی ہو اور حکمران محض اس نظام کو چلانے کیلئے اپناکردار ادا کررہا ہو۔
پاکستان کا آئین بھی اسی جانب اشارہ کرتا ہے اور واضح طور پر رہنمائی کرتا ہے۔ ہمارے ہاں جو جمہوریت رائج ہے یہ مغر کی جمہوریت سے یکسرمختلف ہے۔ ہمارے آئین کے مطابق اس جمہوری نظام میں بھی کوئی ایسا قانون نہیں بن سکتا جو اللہ کے احکامات کے خلاف ہو۔
ایک اور نظریہ بھی وطن عزیز میں زور دو شور سے موجود ہے۔ اس کے حامی موجودہ جمہوریت کو تسلیم نہیں کرتے اور براہ راست شریعت کے نفاذ اور خلافت کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں۔
اس نقطہ نظر پر چلتے ہوئے بھی ہمیں کئی ابہام دور کرنے ہوں گے۔ اس وقت اسلامی سزاؤں اور احکامات کے قریب ترین سعودی عرب کو سمجھا جاتا ہے جہاں کسی حد تک شرعی سزائیں نافذ ہیں لیکن دوسری جانب وہاں بھی اقتدار کیلئے بادشاہی نظام ہے۔ اسے خلافت نہیں کہا جاسکتا۔ اسلامی نظام کے قیام کیلئے افغانستان میں بھی نظام رائج کیا گیا لیکن اسے بھی عالمگیر حمایت حاصل نہ ہوسکی۔
بعض مکتبہ فکر نے اسے اسلامی نظام تسلیم نہیں کیا ۔ خلافت کے ھوالے سے اہل تشیع مکتبہ فکر کا کہنا ہے کہ خلیفہ کا تعلق صرف سادات یا اہل بیت سے ہوسکتا ہے لیکن دیگر مکتبہ فکر اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ اس معاملے میں واضح اختلافات موجود ہیں جو ابھی تک حل نہیں کیے جاسکے۔ اس بات پر البتہ تمام مکتبہ فکر کے اکابرین اتفاق کرتے ہیں کہ خلیفہ کیلئے صالح ہونا شرط ہے ۔
عرب امارات میں حکمران اپنے لئے خلیفہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں لیکن دیکھا جائے تو خلافت وہاں بھی رائج نہیں۔
اسلامی طرز حکومت ، خلافت یا شرعی نظام کے حوالے سے جائزہ لیا جائے تو موجودہ دور میں تمام مکتبہ فکر کے علماء کرام اس کے انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے کسی ایک نقطہ پر متفق نظر نہیں آتے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے افغانستان میں طالبان کے دور حکومت کو بعض مکاتب فکر اسلامی اور شرعی نظام حکومت قرار دیتے ہیں جبکہ بعض مکاتب فکر کے نزدیک وہ شرعی نظام نہیں تھا۔
موجودہ صورتحال میں یہ خوف بھی لاحق ہے کہ کہیں مکمل لائحہ عمل نہ ہونے کی وجہ سے اسلامی نظام حکومت یا خلافت کی بنیاد پر مکاتب فکر کے درمیان نہ ٹھن جائے۔ یہ ساری بحث اپنی جگہ لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اسلام کیا چاہتا ہے۔ ظاہری سی باتی ہے کہ اسلامی نظام کسی فرد یا گروہ کی خواہش کے مطابق ترتیب نہیں دیا جاسکتا۔ یہ اسی صورت اپنی اصل روح کے ساتھ نافذ ہوسکتاہے جب اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ درحقیقت اسلام کیا چاہتا ہے ۔
اگر قران و حدیث پر غور کیا جائے تو پہلی بات یہی سامنے آتی ہے کہ اسلام کا اصل مخاطب ”انسان“ ہے۔ یہ انسان کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کا مقصد انسان کی فلاح ہے ۔ اسی لئے یہ مذہب تلوار کے زور پر نہیں پھیلا بلکہ اس نے دلوں کو مسخر کیا۔ اسلام جبر اور سختی کا قائل نہیں۔ اس کے تحت خود مختاری اور تکبر صرف اللہ کیلئے ہے۔ انسانوں میں سب اپنے اپنے اعمال کیئے جواب دہ ہیں، خواہ وہ عام شہری ہو یا بادشاہ وقت۔
اس لئے اسلام میں انسان کے مسائل کے حل کیلئے وصول و قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔ جو قدم قدم پر رہنمائی کرتے ہیں۔ پاکستان کی بنیاد نظریہ اسلام پر ہے ۔ اسلامی طرز حیات کو ہی نظریہ پاکستان کہا جاتا ہے۔ ای لئے پاکستان کے آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ یہاں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بن سکتا۔
پاکستان میں رائج جمہوری نظام یورپ کے جمہوری نظام سے یکسر مختلف ہے۔
یہاں حکمرانوں کا انتخاب براہ راست عوام کرتے ہیں۔ ایک طبقہ اس سارے نظام کو خلاف کا متبادل قرار دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خلافت میں بھی جس کے ہاتھ پر زیادہ لوگ بیعت کریں، اسے خلیفہ بنایا جاتا ہے اور خلافت بادشاہت نہیں ہوتی۔ یہ نسل درنسل منتقل نہیں ہوتی بلکہ اس کیلئے بیعت ضروری ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت علی کی خلافت بھی عام بیت کے ذریعے ہوئی تھی۔
ہم بھی اس جمہوری نظام کے تحت پہلے علاقائی نمائندے چنتے ہیں ۔ اگر یہ سارا نظام ایمانداری اور خوف خدا کو مد نظر رکھ کر عمل میں آئے تو کافی حد تک شرعی نظام کی عکاسی کرتا نظر آتا ہے۔ اسی طرح عوامی نمائندوں کے چناوٴ کیلئے بھی آئین میں شق موجود ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں آئین کی شق 62اور 63کو نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتو ملک میں حقیقی معنوں میں شرعی نظام رائج ہوسکتا ہے۔
پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے۔ اس کا آئین اس نظریہ کی مکمل طور پر حفاظت کرتا ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ اس کی تمام شقوں پر عمل کیا جائے۔ اپنی مرضی کے قوانین کو اپنا لینا اور دیگر قوانین کو نظر انداز کردینے کی روایت ختم کردی جائے تو ملک اپنی بنیادوں پر کھڑا ہوکر اسلام کا قلعہ بن سکتا ہے۔ اس سارے عمل میں صرف اشرافیہ ہی نہیں بلکہ عوام بھی برابر کے شریک ہیں۔
اس وقت وطن عزیز جن نازک حالات سے گزر رہا ہے، اس کا تقاضا یہی ہے کہ عوام اور حکمران دونوں ہی اپنے فرائض پر عمل کریں۔ علماء کرام کو بھی اتحاد بین المسلمین کے نظریہ پر چلتے ہوئے مذہبی منافرت پھیلانے والوں کا مقابلہ کرنا چاہئے ۔ پاکستان کے آئین پر مکمل طور پر عمل شروع ہوگیا تو خلافت کے نام پر بننے والے عسکری گروہوں کا جواز بھی ختم ہوجائے گا اور یہاں اسلامی نظام بھی نظر آنے لگے گا۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-02

(2) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان