بند کریں
جمعہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اسلامی نظریاتی کونسل
اِسکی سفارشات پر عمل کیوں نہیں ہوتا؟
اسلامی نظریاتی کونسل اب تک چھ ہزار مختلف قوانین کا جائزہ لے چکی ہے اور اُن میں سے سات سو قوانین کے بارے میں نشاندہی بھی کر چکی ہے کہ یہ قوانین غیر اسلامی یا قرآن و حدیث سے متصادم ہے
حافظ زبیر احمد ظہیر ۔رکن اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینٹ میں اسلامی نظریاتی کونسل کو ختم کرنے کی تجویز دی ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ایسی کئی تجاویز پر عمل کر کے ملک و قوم کو نقصان پہنچا چکی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جس کو کسی تجویز یا خواہش پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔
1973ء کے آئین میں درج ہے کہ اسلامی نظریات کی ایک کونسل تشکیل دی جائے گئی جو ایسے ارکارن پر مشتمل ہو گئی جنہیں اسلام کے اصولوں اور فلسفے کا جس طرح کہ قرآن پاک اور سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے ،علم ہو۔ اسلامی نظریاتی کونسل ایسی تدابیر کی سفارش کر ے گی جن سے نافذ العمل قوانین کو اسلامی اصولوں کے مطابق بنایا جا سکے، پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی راہنمائی کے لئے اسلام کے ایسے احکام کی ایک موزون شکل میں تدوین کرے گئی جنہیں قانونی طور پر نافذ کیا جاسکے۔

اسلامی نظریاتی کونسل اب تک چھ ہزار مختلف قوانین کا جائزہ لے چکی ہے اور اُن میں سے سات سو قوانین کے بارے میں نشاندہی بھی کر چکی ہے کہ یہ قوانین غیر اسلامی یا قرآن و حدیث سے متصادم ہے۔ اس کے حوالے سے کونسل نے اپنی سفارشات بھی دی تھیں۔ وقتاََ فوقتاََ اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی رپورٹس میں سینکڑوں قوانین میں ترامیم کرنے کی سفارشات کی ہیں۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ یا کسی بھی صوبائی اسمبلی یا حکومت نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل کرنا تو دور کی بات ، غور کرنے کا بھی نہیں سوچا، یوں آئین پاکستان کا کھلے عام پامال کیا جاتا رہا ۔
آئین پاکستان میں واضح طور کہاں گیا ہے کہ کونسل کی جانب سے آنے والے رپورٹ حتمی ہو یا جزوی پارلیمنٹ یا متعلقہ صوبائی اسمبلی میں چھ ماہ میں اس پر بحث کے لئے ضرور پیش کی جائے اور اُسے موزوں طریقے سے قانونی شکل دی جائے۔
آئین پاکستان کا آٹیکل 2 واضح طور کہتا ہے کہ ” اسلام“ پاکستان کا ریاستی مذہب ہوگا ۔ راست کے رہنما اصولوں میں بھی واضح طور لکھا ہوا ہے۔ کہ ” حکومت پاکستان کے مسلمانوں کو انفرادی و اجتماعی طور پر اپنی زندگیاں اسلام کے بنیادی اصولوں اور نظریات کے مطابق گزارنے کے قابل بنانے کے لئے اقدامات کرے گئی“ افسوسناک بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ نے خود تو اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل نہیں کیا اور الٹا اُسی کو ختم کرنے کی تجاویز دی جارہی ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل کو ختم کرنے کی وجہ تب تو سمجھ میں آتی ہے کہ اس کی تمام تر سفارشات پر عمل کر لیا گیا ہے، تمام قوانین اسلامی ہو چکے ہیں اور مملکت پاکستان میں آئندہ تمام تر قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق ہو رہی ہے مگر ایسا بھی ہرگز نہیں ہے ۔ اگر ایسا بھی ہے تو آئین میں ایسا تو کہیں بھی نہیں لکھا گیا کہ حتمی رپورٹ آجانے کے بعد کونسل کو ختم کر دیا جائے گا۔
کونسل کی کسی بھی تجویز پر آج تک پارلیمنٹ یا کسی صوبائی اسمبلی میں بحث ہی نہیں کی گئی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ قانون ساز اسمبلیاں خود تو اپنے فرائض ادا نہیں کررہی ہیں مگر اسلامی نظریاتی کونسل کو اپنا فرض ادا کرنے کے بارے میں کہہ رہی ہیں۔
اسلامی نظریاتی کونسل کو ختم کرنے کی باتیں کر نے والے دراصل رہی لوگ ہیں جو پاکستان کو ایک سیکولر ریاست کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔
یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اسلام صرف اور صرف مسجد کے اندر تک ہی محدود ہوجائے مگر ہی ممکن نہیں ہے، ایسا سوچنے والوں کو ہی نہیں بلکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام ایک مذہب نہیں دین ہے۔ یعنی کہ ایک مکمل ضابطہ حیات جس میں عبادات کے علاوہ سیاست، معاشرت، معیشت ، رویے اور آپس کے تعلقات تک دیکھے جاتے ہیں۔ اسلام تو دن رات میں چوبیس گھنٹے اللہ تعالی کی بنائے ہوئے قوانین پر عمل کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
پاکستان کے مسلمانوں کو اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لئے سہولت اوررہنمائی فراہم کرنا بے حد ضروری ہے ، جب تک یہ مقصد باقی ہے ، اسلامی نظریاتی کونسل کی ضرورت باقی ہے۔ دیانتداری سے دیکھا جائے تو اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین کی نمائندگی پر بات ہو سکتی ہے کہ اس کے نمائندگان کو غیر متنازعہ ہوناچاہئے، اس پر بات کرنا چاہیں تو شوق سے کریں ناکہ اس ادارے کو ہی ختم کرنے کی باتیں شروع کر دی جائیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-22

(1) ووٹ وصول ہوئے