تازہ ترین : 1
Islami Military Ittehad

اسلامی ملٹری اتحاد جنرل راحیل شریف اور پاکستان

اسلامی ملٹری اتحاد 15 دسمبر 2015ء کو قائم کرنے کا اعلان کیا گیا جس کا ہیڈ کوارٹر ریاض ، سعودی عرب میں ہے۔ اس اتحاد میں ابتدائی طور پر 34 ممالک شریک تھے لیکن جنوری 2017ء میں ممبر ممالک کی تعداد 39 تک جا پہنچی ہے۔ اسلامی ملٹری اتحاد کا اولین مقصد تو فرقہ واریت، رنگ و نسل سے بالاتر ہوکر مسلم ممالک کو دہشت گردی اور مسلح تنظیموں سے نجات دلانا ہے اور یہ اتحاد اقوام متحدہ و اسلامی کانفرنس کے طے کردہ اصولوں کے تحت ہی کام کریگا

رحمت خان وردگ:
اسلامی ملٹری اتحاد 15 دسمبر 2015ء کو قائم کرنے کا اعلان کیا گیا جس کا ہیڈ کوارٹر ریاض ، سعودی عرب میں ہے۔ اس اتحاد میں ابتدائی طور پر 34 ممالک شریک تھے لیکن جنوری 2017ء میں ممبر ممالک کی تعداد 39 تک جا پہنچی ہے۔ اسلامی ملٹری اتحاد کا اولین مقصد تو فرقہ واریت، رنگ و نسل سے بالاتر ہوکر مسلم ممالک کو دہشت گردی اور مسلح تنظیموں سے نجات دلانا ہے اور یہ اتحاد اقوام متحدہ و اسلامی کانفرنس کے طے کردہ اصولوں کے تحت ہی کام کریگا۔
اسلامی ملٹری اتحاد میں ابتدائی طور پر اسلامی کانفرنس کے 60% ممالک شامل تھے جس میں سے چند ممالک اپنی مسلح افواج کو اس اتحاد کا حصہ بنانے پر رضامند تھے اور چند ممالک نے اس اتحاد میں اپنی افواج بھجوانے سے انکار کردیا تھا۔ پاکستان نے بھی شروع میں اس معاملے پر خاموشی اختیار کی لیکن بعد میں یہ کہہ کر شمولیت اختیار کرلی کہ پاکستان اپنی افواج اس اتحاد میں بیرون ملک نہیں بھیجے گااور صرف مقامات مقدسہ کی حفاظت کیلئے پاکستانی افواج کو بھیجا جائے گا۔

اسلامی ملٹری اتحاد میں ایران اور عراق اب تک شامل نہیں ہیں جبکہ افغانستان، آزربائیجان، انڈونیشیا اور تاجکستان نے اس ملٹری اتحاد میں شمولیت پر غور شروع کر رکھا ہے۔ تاجکستان کے سعودی عرب میں سفیرنے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اس اسلامی ملٹری اتحاد میں شمولیت پر غور کر رہے ہیں۔ اسلامی ملٹری اتحاد کے دائرہ کاراور ترجیحات کے بارے میں اب تک مسلم دنیا بھی درست طریقے سے واقف نہیں ہے کیونکہ میڈیا میں صرف اسلامی ملٹری اتحاد کے قیام کا اعلان ہوا ہے لیکن تفصیلی طور پر اس کے اغراض و مقاصد کے بارے میں درست طریقے سے معلومات نہیں ہیں۔
اسی لئے بنگلہ دیش کے ایک وزیر سید اشرف الاسلام نے اسلامی ملٹری اتحاد کی تنظیم اور اغراض و مقاصدکے بارے میں تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔ مصر کی الازہر یونیورسٹی نے اس ملٹری اتحاد کو ایک تاریخی پیشرفت قراردیا ہے۔ جرمنی کے وزیر دفاع ارسلا وانڈر لین نے دہشت گردی کے خلاف اس ملٹری اتحاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ ملٹری اتحاد اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق کام کریگا اور دہشتگردی کیخلاف یورپ، روس، ترکی، سعودی عرب، ایران اور چین سے ملکر اقدامات اٹھائے گا۔
اسی طرح ملائیشیا کے وزیر دفاع حشام الدین حسین نے اسلامی ملٹری اتحاد کے قیام کاخیرمقدم کیا لیکن ملائیشیا کی جانب سے مسلح افواج بھیجنے سے انکار کیا۔ پاکستان نے بھی ملٹری اتحاد میں شمولیت کا اعلان تو کیا ہے لیکن مقامات مقدسہ کے علاوہ کسی اور جگہ افواج بھیجنے سے انکار کیا ہے۔ ترک وزیراعظم احمد ڈوتوگلو نے اسلامی ملٹری اتحاد کواس لئے بہترین قرار دیا ہے کیونکہ یہ ان لوگوں کی کوششوں کو ناکام بنانے کا ذریعہ بنے گا جو ”دہشتگردی کو اسلام“ سے جوڑنے کی گھناؤنی کوششوں میں مصروف ہیں۔
امریکی سیکریٹری دفاع ایش کارٹر نے کہا کہ ہم سعودی عرب کی جانب سے اسلامی ملٹری اتحاد کے قیام کے اصل مقاصد سے آگاہی حاصل کر رہے ہیں۔ لیکن امریکہ ابتدائی طور پر یہ سمجھتا ہے کہ یہ سنی مسلم ممالک کا ملٹری اتحاد ہے۔عراقی پارلیمنٹ کے دفاع و سیکورٹی کمیشن کے ممبر حکیم ازاملی نے کہا کہ سنی اکثریت کے حامل اسلامی ممالک کے اتحاد سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک فرقہ ورانہ فوج کی تشکیل ہے۔

پاکستان کی جانب سے اس ملٹری اتحاد میں شمولیت کا فیصلہ اور مسلح افواج کو صرف مقامات مقدسہ کی حفاظت کیلئے بھیجنے کا اعلان بالکل درست فیصلہ ہے۔ ہمارے ملک کے چند دانشور اس ملٹری اتحاد کے ناقابل عمل ہونے کی قیاس آرائیاں کرکے مسلم ممالک کے ایک موثر پلیٹ فارم کی تشکیل میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پہلے تمام اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جانا چاہئے اسکے بعد اسلامی ملٹری اتحاد کے پوری طرح فنکشنل ہونے کے بعد اسکے موثر یا غیر موثر ہونے کے بارے میں رائے دی جائے تو بہتر ہے۔
فی الحال تو مسلم ممالک جس طرح ترنوالہ بنے ہوئے ہیں ان حالات میں اس طرح کے ملٹری اتحاد کی تشکیل کو تاریخی کارنامہ ہی قرار دیا جائیگا لیکن اس میں تمام اسلامی ممالک کو لازمی حد تک شامل ہونا چاہئے تاکہ نیٹو کی طرز پر ایک موثر ملٹری اتحاد تشکیل پاسکے۔ پاکستان کا اس سلسلے میں کردار سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا کیونکہ پاکستان واحد اسلامی ایٹمی ملک ہے اور الحمدللہ اسلامی دنیا میں اہم ترین کردار کا حامل ہے اسی لئے اس اسلامی ملٹری اتحاد کو صرف اور صرف مسلمانوں کے وقار میں اضافے، دہشتگردی سے نجات اور دنیا بھر میں زیر عتاب مسلمانوں کو نجات دلانے کیلئے استعمال ہونا چاہئے اور مستقبل میں کسی بھی طرح سے امریکہ اور یورپی ممالک کا کٹھ پتلی اتحاد بنانے کی کسی بھی کوشش کو ہمیشہ ناکام بنانے کیلئے شروع سے ہی اسکی درست تنظیم سازی ہونی چاہئے۔
جنرل راحیل شریف جیسا جرنیل تو پاکستان کی تاریخ میں آج تک نہیں آیا جس نے ملک کو دہشت گردی سے نجات دلائی لیکن بدقسمتی سے حکومت اور سیاستدانوں کو درست طریقے سے ان کی کامیابیاں ہضم نہیں ہوسکیں اسی لئے اشاروں میں بارہا کہا گیا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کامیابیوں میں صرف مسلح افواج نہیں بلکہ حکومت کا بھی کردار ہے اور صرف فوج کی تعریف نہیں ہونی چاہئے بلکہ حکومت کو بھی سراہا جانا چاہئے۔
جنرل راحیل شریف کی دنیا بھر میں عزت و توقیر ہمارے سیاستدانوں سے ہضم نہیں ہورہی اسی لئے جنرل راحیل شریف کی اسلامی ملٹری اتحاد کی کمان سنبھالنے کی خبر آتے ہی اس معاملے کو متنازع بنانے کی کوششیں شروع ہوگئیں بلکہ اس ملٹری اتحاد کی تشکیل کو بے معنی تک قرار دے دیا گیا۔ کیا جنرل راحیل شریف کسی عہدے‘ مال و دولت کے محتاج ہیں؟ اگر ہوتے تو وہ نہ تو حکومت کی جانب سے مدت ملازمت میں توسیع کی پیشکش کو مسترد کرتے اور نہ ہی ریٹائرمنٹ پر ملنے والی قیمتی اراضی و رقوم شہداء فنڈ میں دے دیتے۔
جنرل راحیل شریف یقینی طور پر اپنی شرائط پوری ہونے پر ہی باقاعدہ اسلامی ملٹری اتحاد کی کمان سنبھالیں گے اور مجھے پورا یقین ہے کہ ایران‘ عراق سمیت تمام عالم اسلام کو نہ صرف ایک پلیٹ فارم پر لائیں گے بلکہ دہشت گردی کا شکار اسلامی ممالک کو اس ناسور سے نہ صرف نجات دلائیں گے اوردنیا بھر میں اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی ہر ہر سازش کو بہترین طریقے سے ناکام بھی بنائیں گے۔
وقت اشاعت : 2017-01-16

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں