بند کریں
اتوار مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اقبال اور اشتراکیت
حقیقت یہ ہے کہ اقبال اشتراکیت اور سرمایہ داری دونوں کو افراط و تفریط کا شکار سمجھتے ہیں اور اعتدال کی راہ ”اسلام“ کی طرف مراجعت کرنے کا مشورہ دیتے ہیں
پروفیسر دلنواز عارف
اشتراکیت دراصل سرمایہ داری کی استحصالی نظام کے ردِّ عمل کے طور پر اْبھری تھی۔ جس کا پورا زور جائزوناجائز ذرائع سے سرمایے کو بڑھانا قرار پایا تھا اور یہ کہ معیشت کا ہر مسئلہ Market Forces یعنی طلب و رسد کی بنیاد پر طے کیا جاتاہے۔ اس لیے اس نظام میں فلاحِ عامہ اور غربا کی بہبود کا کوئی واضح اہتمام موجود نہ تھا۔
کارل مارکس نے اِس جابرانہ اندازِ سرمایہ داری کے خلاف صداے احتجاج بْلند کی اور مزدوروں کی حمایت کا نعرہ لگایا۔ اشتراکیت نے سرمایہ داری نظام کے بنیادی تصّورات کے تضاد کو نمایاں کیا۔اس کا یہ دعویٰ ہے کہ و ہ زندگی کی تکمیل کی ضامن ہے۔
”اِشتراکی نظریے کے مطابق آمدنی کی تقسیم کے لیے رسد و طلب کا فارمولا ایک ایسا بے حس فارمولا ہے۔
جس میں غریبوں کی ضروریات کی رعایت نہیں۔(85)
اشتراکیت نے جدید دنیا کو منصوبہ بندی کا قابلِ قدر تصّور دیا ہے۔ اس لیے اشتراکی معیشت کو منصوبہ بند معیشت (Planned Economy) کہا جاتا ہے۔
اشتراکیت کے بنیادی اصول:
اشتراکی معیشت مندرجہ ذیل بنیادی اصولوں پر منحصر ہے۔
الف۔منصوبہ بندی:(Planning)
منصوبہ بندی سے مراد ہے : کیا پیدا کیا جائے؟ کیوں پیدا کیا جائے ؟کس کے لیے پیدا کیا جائے؟ اور کتنا پیدا کیا جائے؟ یعنی تمام بنیادی معاشی فیصلے حکومت منصوبہ بندی سے کرے۔

ب۔ اجتماعی ملکیت (Collective Property):
اشتراکی معیشت میں انفرادی ملکیت (Private ownership) کا تصّور موجود نہیں ہے۔
وسائل ِپیداوار: زمین، جنگلات، دریا، کارخانے، عوامی فلاحی ادارے، سکول، کالجز، ہسپتال وغیرہ سب سرکار کی ملکیت قرار پاتے ہیں۔
ج۔اجتماعی مفاد (Collective Interest):
اشتراکیت میں انفرادی مفادات کو اجتماعی مفادات کے تابع رکھا جاتا ہے۔
برعکس اس کے سرمایہ دارانہ معیشت میں تمام معاشی سرگرمیاں ذاتی مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔
د۔آمدنی کی منصفانہ تقسیم (Equitable Distribution of Income)
اشتراکیت کا چوتھا اصول یہ ہے کہ ملکی پیداوار سے جو کچھ آمدنی حاصل ہو وہ منصفانہ طور پر ملکی آبادی میں تقسیم کر دی جائے: آمدنیوں میں توازن قائم کرکے امیر و غریب کے درمیانی فاصلے کو کم کر دیا جائے۔

اِقبال اور اشتراکیت:(Iqbal & Socialism)
طوفان کی طرح اْبھرنے والے اِشتراکی نظام کا اقبال نے بڑی باریک بینی اور ڑرف نگاہی سے مطالعہ کیا اور اسلامی فلسفہ حیات کی روشنی میں اِس نظام کے معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی پہلووٴں کا جائزہ لیا۔ پھر واضح طور پر اس کی خوبیوں کی مدح اور خامیوں پر تنقید کی۔ کہا جا سکتا ہے کہ اقبال کلی طور پر اشتراکیت کے نہ تو حامی ہیں اور نہ ہی مخالف۔
اس نظام کے جو اصول اسلامی تعلیمات کے قریب تر ہیں۔ اقبال انہیں بنظرِاستحسان دیکھتے ہیں اورجوان سے ٹکراتے ہیں ان پر تنقید کرتے ہوئے ردّ کر دیتے ہیں۔ جب کہ (82)
اشتراکیت پر سب سے زیادہ مخالفانہ اشعار ”جاوید نامہ“ میں جمال الدین افغانی کی زبانی ہیں۔ تنقید کے باوجود ان اشعار میں تحسین کا پہلو بھی موجود ہے۔ اقبال کے ہاں اشتراکیت کے لیے ایک نرم گوشہ ضرور موجود ہے۔
وہ کہتے ہیں:…
صاحبِ سرمایہ از نسلِ خلیل
یعنی آں پیغمبرِ بے جبرائیل
زانکہ حق در باطل او مضمراست
قلبِ اْو مومن و دماغش کا فر است
غربیاں گم کردہ اند افلاک را
در شکم جویند جانِ پاک را
رنگ و بْو از تن نگیرد جانِ پاک
جز بہ تن کارے ندارد اشتراک
دیں آں پیغمبرِ حق ناشناس
بر مساوت شکم وارواساس
(87)
اقبال یکسانیت بیزار اور تغیّر پسند فلسفی واقع ہوئے ہیں۔
وہ ایک محدود اور لگی بندھی دنیا کے مکین نہیں ہیں۔ ان کے کلام میں ایسے اشعار کی کثیر تعداد موجود ہے، جن میں جدت وندرت کو انتہا پسندانہ انداز میں سراہا گیا ہے، مثلاً:
جس میں نہ ہو انقلاب‘ موت ہے وہ زندگی
روحِ اْمَم کی حیات کشمکشِ انقلاب !
(88)
چونکہ اشتراکیت بھی ایک صداے احتجاج و انقلاب تھی۔ اس کے علاوہ اِقبال اور اشتراکیت کی بہت سی دشمنیاں بھی مشترک تھیں، مثلاً: اشتراکیت خْدا اور مذہب کی منکر ہے۔
اقبال اعلیٰ درجے کا موحّد اور کٹر مسلمان ہے۔(89)
اشتراکیت، فرد کی مستقل اور جْداگانہ شخصیت کو تسلیم کرنے سے قاصر ہے۔ یہ مساوات کی دعویدار ہے، لیکن غور کیا جائے، تو بقولِ اقبال مساوات تو ہے۔(90)
حقیقت یہ ہے کہ اقبال اشتراکیت اور سرمایہ داری دونوں کو افراط و تفریط کا شکار سمجھتے ہیں اور اعتدال کی راہ ”اسلام“ کی طرف مراجعت کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، جو زندگی کے تمام شعبوں میں اعتدال کی راہ دکھاتا ہے۔

کال مارکس کا نقطہ نظر اخلاقیات کے سلسلے میں بھی منفی ہے۔ سچ جھوٹ کی کوئی حیثیت و اہمیت نہیں ہے۔ اشتراکی انقلاب برپا کرنے کے لیے مکر، فریب، دغا، جھوٹ اور قتل و غارت سب کچھ جائز ہے۔ اس کے بقول دنیا کی تمام جنگیں وسائل پیداوار پر قبضہ کرنے کے لیے لڑی گئیں۔ جنگوں کی وہ نہ صرف مادی تعبیر کرتا ہے اور تاریخ کی موجودہ صورت کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتا ہے۔ بل کہ ہر تاریخی واقعہ میں طبقاتی کشمکش ڈھونڈ نکالتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-04-22

(0) ووٹ وصول ہوئے