تازہ ترین : 1
Insaaf Ki Talash Main Police KI Karkardagi Sifr

انصاف کی تلاش میں پولیس کی کارکردگی صفر

محکمہ پولیس میں پائی جانے والی کرپشن، روایتی سست روی، جرام کو روکنے میں عدم دلچسپی اور سست عدالتی نظام کی وجہ سے مظلوم انصاف کے حصول کیلئے برسوں تھانوں اور کچہریوں کے چکر لگاتا ہے

جی زی:
ہمارے ملک میں عام آدمی کو انصاف کی فراہمی ہمیشہ ایک خواب رہا ہے۔ محکمہ پولیس میں پائی جانے والی کرپشن، روایتی سست روی، جرام کو روکنے میں عدم دلچسپی اور سست عدالتی نظام کی وجہ سے مظلوم انصاف کے حصول کیلئے برسوں تھانوں اور کچہریوں کے چکر لگاتا ہے، اس کے باوجود انصاف سے محروم ہی رہتا ہے۔ مجبوراََ وہ کودکشی کرلیتا ہے۔
بااختیار افراد کی ذاتی انا کی بھینٹ چڑھنے والے بے گناہ بھی جیلوں میں پڑے سڑتے رہتے ہیں لیکن پولیس کی طرف سے کیس کا چالان عدالت میں پیش ہی نہیں کیا جاتا۔
آئے روز دل دہلادینے والی خبریں آتی ہیں۔ بعض ایسی ہوتی ہیں کہ ان سے نظریں چرانے کو جی چاہتا ہے۔ مظفر گڑھ میں اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی آمنہ کی انصاف نہ ملنے پر خود سوزی کی خبر ہو یا دنیا پور میں قتل کے ملزم گرفتار نہ ہونے پر بہن بھائی کی خود سوزی کی کوشش ہو یا کمسن بچے کے بازو کاٹ دینے کی خبر۔
اس سے ملتی جلتی کئی خبریں سن کو لوگ کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہوجاتے ہیں جبکہ اکثریت کی رائے یہ ہوتی ہے کہ ”بھئی قیامت کی نشانیاں ہیں۔“
متاثرہ خاندان اور لواحقین اپنے اوپر ڈھائے گئے ظلم و ستم کو شاید خدا کی رضا سمجھ کر بھلانے کی کوشش کریں مگر وہ انصاف یا دادرسی کیلئے کی گئی کوششوں کو نہیں بھلاسکتے جسے پولیس نظرانداز کیے جاتی ہے۔
مظفر گڑھ میں آمنہ کے ساتھ جو کچھ ہوا سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے اپنے آرڈر میں یہ لکھوایا ہے کہ ”یہ واقعہ ہماری پولیس کے کردار کو عیاں کرتا ہے۔“ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ہمارے تھانوں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ ایک ایک کیس کے اندراج کیلئے تھانوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں کی رشوت لی جاتی ہے، اس کا دارومدار کیس کی نوعیت پر ہوتا ہے۔
اگر ایک پارٹی مالدار ہو تو وہ کیس کروا بھی سکتی ہے اور رکوا بھی سکتی ہے۔
پاکستان کے ٓئین میں اس بات کی وضاحت کے باوجود کہ کوئی بھی عہدیدار یا اہلکار ملک میں درج ہونے والی کوئی بھی ایف آیی آر نہیں روک سکتا، اس کے باوجود ضمیر فروش دولت کی لالچ میں اپنی دکانداری چمکانے میں لگے رہتے ہیں۔ جبکہ غریب اور مظلوم سالہا سال تھانے اور کچہریوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں اور جب کہیں شنوائی نہیں ہوتی تو تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں، بلکہ رہی سہی پونجی تھانے کچہریوں کے چکر میں گنوا بیٹھتے ہیں۔
کوئی مظلوم اگر کسی پولیس اہلکار کے پاس اپنا کیس لے کر جاتا ہے تو وہ پہلے ہی اچھی طرح تسلی کرلیاتا ہے کہ اس کے پاس رشوت یا سفارش ہے۔ اس کے بعد وہ مطلب کی بات کرتا ہے اور رپورٹ درج کرتے ہوئے بھی نزرانہ لیتا ہے جبکہ غریب کی رپورٹ درج کرواتے ہوئے بھی ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات اسے ہی قصور دار ٹھہرا کر دھرلیا جاتاہے۔ جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ تھانے سودے بازی کے اڈے بن چکے ہیں۔

کرپٹ ایس ایچ اوز نے شریف شہریوں کو ڈاکوؤں، بھتہ خوروں، قبضہ مافیا اور اشتہاریوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ محکمہ پولیس کے ایس ایچ اوز کی زیرنگرانی جوا، جسم فروشی اور منشیات فروشی کے اڈے چلائے جاتے ہیں۔ محکمہ پولیس کا ادنیٰ سے ادنیٰ اہلکار بھی اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کرتا ہے اور معمولی سی بات پر آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔
ایک خاتون کو اس کے سیل فون پر ایک رونگ کال آئی، کالر پولیس کا کوئی حوالدار یا سپاہی تھا۔ اس نے کہا کہ وہ اسے نہیں جانتی اور فون بند کردیا لیکن وہ مسلسل کال اور ایس ایم ایس کرتا رہا۔ تنگ آکر اس نے دھمکی دی کہ اس کے نمبر کی انکوائری کروائی جائے گی تو اس نے کہا کہ ”میں خود پولیس ہوں“ مجھے کسی انکوائری کا ڈر نہیں۔
یہی نہیں کم و بیش محکمہ پولیس کے کئی اہلکار ہر جگہ اور ہر موقع پر اس قسم کی باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں اور تو اور بعض اوقات خرید و فروخت میں بھی اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہیں۔
دکاندار ان لوگوں کا منہ تکتے رہتے ہیں۔
اٹھارویں اور انیسویں صدی کے دوران میں جب جمہوری نظام آیا اور جمہوری ادارے قائم ہوئے تو سب سے پہلے اس بات پر زور دیا گیا کہ قانون کی بالادستی قائم ہو اور قانون کی نظر میں سب برابر ہوں کیونکہ صرف اسی صورت میں انصاف ممکن تھا۔ انگلستان میں خصوصاََ مفکرین کا ایک گروہ جو افادیت پسند کہلاتا تھا۔
انہوں نے معاشرتی ترقی اور قومی آہنگی کیلئے قانون کی بالادستی کو ضروری قرار دیا۔ ان کے مطابق انصاف اور مساوات اسی صورت میں قائم ہوسکتی تھی جبکہ قانون کی نظروں میں سب برابر ہوں۔
اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی کہ آزادی کے بعد سب سے زیادہ قربانیاں ملک میں عدل و انصاف اور قانون کے نافذ کیلئے دی گئی ہیں۔ ہماری پولیس اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے مظلوموں کی بے بسی میں مزید اضافہ کررہی ہے۔
ہر نئی آنے والی حکومت نے عام آدمی کو اسکے گھر کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی کے بلند و بانگ دعوے تو کئے مگر آج تک ان دعوؤں پر پورا نہ اتر سکی۔ چنانچہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق آج صورتحال یہ ہے کہ مظلوم خودسوزی اور خودکشیوں پر مجبور ہوچکے ہیں۔ آئے دن حوا کی بیٹیاں درندوں کی وحشت کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں تو دوسری جانب طاقتور اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے صاف بچ نکلتے ہیں۔
نتیجتاََ پولیس کی کارکردگی صفر ہے اور بھی اپنے کھاتے بھرنے میں لگی ہوئی ہے۔ ان کی بلا سے مظلوم جائے بھاڑ میں۔
ماضی کی پنجاب حکومت نے جلد اور سستے انصاف کی فراہمی کیلئے اپنے دعوے سچ ثابت کرنے کیلئے پراسیکیوشن کا محکمہ بنایا تھا جس کا مقصد عوام کو جلد انصاف کی فراہمی اور بے گناہوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کرنا تھا۔
موجودہ حکومت نے اس شعبے میں چند تبدیلیاں بھی کیں۔ اس کے باجود لوگ انصاف کیلئے دربدر بھٹکتے رہے اور ظلم بڑھتا ہی گیا۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ ”کوئی بھی معاشرہ کفر کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم اور ناانصافی کے ساتھ نہیں۔“ آج ہم تاریخ کے جس نازک موڑ پر کھڑے ہیں یہ ہمارے اعمال کی سزا ہے۔ ہر روز ملک میں کہیں نہ کہیں بے گناہوں کے خوف سے چیختے رہ جاتے ہیں۔
مگر کہیں شنوائی نہیں ہوتی۔ اس سنگین المیے پر قابو پانے کیلئے پولیس اور عدلیہ سے بدعنوان اہلکاروں کو نکال باہر کرنا ہوگا اور شفاف اور بے لوث افراد کا تقرر کرنا ہوگا۔ ایسی منصوبہ بندی اور پالیسی کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی اہلکار سفارش اور رشوت لینے کے متعلق سوچ بھی نہ سکے۔ حکومت کو اس سلسلے میں ٹھوس اور جامع پالیسیاں مرتب کرنا ہوں گی۔ ذرائع ابلاغ بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
وقت اشاعت : 2014-08-18

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں