بند کریں
جمعہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بھارت میں 11ہزار سے زائد پاکستانی لاپتہ!
حکومت اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھائے۔۔۔۔۔۔ اپنے شہریوں کی بحفاظت واپسی یقینی بنانا حکومت کا فرض ہے
ارشاد احمد ارشد:
انسان کی پہچان اور شناخت تین طرح سے ہوتی ہے۔ کبھی ایک دوسرے سے معاملات طے کر کے، باہم لین دین کرنے یا کسی کے ساتھ پڑوس میں رہنے کا اتفاق ہوا ہو، یہ تین طریقے ایسے ہیں جن سے انسان کی اصلیت او حقیقت آشکارا ہوجاتی ہے۔ یہی حال اقوام کا ہے۔ اقوام کی پہچان اور شناخت بھی ان تین طریقوں سے بخوبی ہوجاتی ہے۔ معاملات ہوں یا لین دین یا پڑوسی کے حقوق کی بات ہو بھارت کبھی بھی پاکستانی کیلئے مخلص ثابت نہیں ہوا۔
بھارت نے ہمیشہ اور ہر معاملے میں پاکستان کو دھوکہ دیا ہے، بطور پڑوسی کے پاکستان کے حقوق غصب اور پامال کئے ہیں، ہر دور میں پاکستان کیلئے برا سوچا، برا چاہا اور برا کہا ہے۔ بھارت سے خیر کی امید رکھنا فضول ہے۔ 65سال میں بھارت نے پاکستان کیلئے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس میں سے خیر کا پہلو نکلتا ہو۔ وجہ یہ ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے آج تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔
وہ اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے اور بیرونی سطح پر بھی پاکستان کو رسوا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کے پیچھے اکثر و بیشتر ”را“ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ بھارتی حکمران،را، فوج اور اس کی ایجنسیاں پاکستان کے خلاف چومکھی جنگ لڑرہے ہیں۔
ایک طرف بھارت پاکستان پاکستان کے ساتھ سرحدیں نرم کرنے، ویزے کی پابندیاں نرم کرنے اور دوستی کی پینگیں بڑھانے کے دعوے کرتا ہے، دوسری طرح پاکستان کے خلاف سازشوں، عیاریوں اور مکاریوں کے جال بچھاتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ دوسری کرنے وار سرحدیں نرم کرنے کے دعویدار بھارت کی اپنی حالت یہ ہے کہ پاکستان سے بھارت جانے والوں کو ویزا دینے میں ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے۔
جو پاکستان شہری قانونی طریقے سے بھارت پہنچ جائیں انہیں حیلے بہانوں سے تنگ کیا جاتا ہے، بلا وجہ ہراساں اور کوفزدہ کیا جاتا ہے، آئی ایس آئی کے ساتھ تعلق کا الزام لگا کر اٹھالیا جاتا ہے، عقوبت خانوں میں بے پناہ تشدد کر کے ناکردہ جرموں کا اعتراف کرایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بھارت میں رہنے ولے وہ مسلمان جن کے عزیز و اقارب پاکستان سے ملنے کلئے جاتے ہیں انکو بھی تنگ کیا جاتا ہے اور شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
یہ اس سارے معاملے کا ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو اس سے المناک اور بھیانک ہے، وہ یہ کہ ”را“ پاکستان سے بھارت جانے والوں کو شکار کرنے اور اپنے جال میں پھنسانے کے نت نئے طریقے اختیار کرتی رہتی ہے۔ وہ پاکستانی جو کسی وجہ سے ”را“ کے جال میں پھنس جائیں، ان کی وہاں برین واشنگ کی جاتی ہے اور پھر انہیں پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پچھلے پانچ سالوں میں 240932پاکستانی شہری مختلف ویزوں پر بھارت گئے۔بھارت جانے والے ان پاکستانیوں میں سے 11ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں ان لاپتہ پاکستانیوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ انہیں آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی ہے۔ یہ لاپتہ افراد بھارت میں کہاں ہیں، کس جگہ ہیں اور کس کے پاس ہیں؟ یہ لاپتہ پاکستانی بھارتی جیلوں میں ہیں یا کسی اور جگہ۔
اس بارے میں پاکستان کے متعلقہ اداروں کے پاس بھی کوئی خبر نہیں، نہ ہی پاکستان کی حکومت کے اپنے ان شہریوں کو کوئی فکر ہے۔ باور کیا جاتاہے کہ ان پاکستانیوں میں سے اکثر بھارتی اداروں کی تحویل میں ہیں، اگر یہ بات درست تسلیم کرلی جائے تو یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ قسمت کے مارے ان پاکستانیوں پر وہاں کیا گزررہی ہوگی۔ یہ بات بھی واضح رہے کہ اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کیلئے بھارت جانے والے جن پاکستانیوں کو بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار اٹھالیتے ہیں، ان کی حمایت میں کسی بھارتی مسلمان کا آواز اٹھانا اپنی گردن کٹوانے کے مترادف ہے۔
بھارت میں لاپتہ ہوجانے والے افراد کے پاکستانی ورثاء بھی اکثر و بیشتر غریب و نادار ہوتے ہیں جن کیلئے کسی مناسب فورم پر آواز اٹھانا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے حالات میں حکومت پاکستان اور اس کے متعلقہ اداروں کا فرض ہے کہ وہ 11ہزار سے زائد لاپتہ افراد کو کھوج لگائیں۔ اگر یہ لوگ بھارتی جیلوں میں ناکردہ جرائم کی سزا بھگت رہے ہیں تو ان کی رہائی کا بندوبست کریں اور اگر بھارت کے خفیہ افارد سے ان پاکستانیوں میں سے بعض کو غلط مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیں، تب بھی حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ بھارت کی اس سازش سے پردہ اٹھائیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل اس کے ساتھ عدلیہ اور بعض این جی اوز پاکستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ بڑی شدومد سے اٹھارہے ہیں۔ اس مقصد کی خاطر لانگ مارچ بھی کیا گیا او پاکستان کو بدنام کرنے کی حد تک اس معاملہ کو اٹھایا گیا۔ ان لوگوں سے گزارش ہے کہ تھوڑی سی نظر کرم بھارت میں لاپتہ ہونے والے پاکستانیوں پر بھی کرلیں۔ آخر یہ لوگ بھی انسان ہیں، کسی کے بھارئی اور کسی کے بیٹے ہیں۔
ان کی بھی کوئی راہ تک رہا ہے۔ ان کیلئے بھی کوئی آنکھیں بچھائے بیٹھا ہے۔ ان کیلئے بھی لانگ مارچ کریں، یو این او کے دروازے پر دستک دیں تاکہ ثابت ہوجائے کہ احتجاج کرنے والے سچے پاکستانی ہیں۔ حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ اس معاملے کو بھارت کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر اٹھائے، اپنے شہریوں کی حفاظت اور واپسی کو یقینی بنائے۔
پاکستان اس معاملے میں دنیا میں پہلے ہی بہت بدنام اور رسوا ہوچکا ہے۔ مشرف دور میں جس طرح امریکیوں کے ہاتھ اسلام کے بیٹے بیٹیاں بیچے گئے، وہ بہت ہی شرمناک داستان ہے او ہمارے ملک کے ماتھے پر بدنما داغ ہے، ضروری ہے کہ اس داغ کو دھویا جائے تاکہ پاکستان کا وقار دیا میں بحال ہوسکے۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان