تازہ ترین : 1
Homemade Bombs

دیسی بم کہیں یہ آپ کے پڑوس میں ہی تو نہیں بن رہے؟

پاکستان میں شدت پسندی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب یہاں موجودعسکریت پسند بم سازی میں خود کفیل ہو چکے ہیں۔ہمارے ہاں شہر کے باہر ناکوں پر جس \\\" بم\\\"کو تلاش کیا جاتا ہے

پاکستان میں شدت پسندی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب یہاں موجودعسکریت پسند بم سازی میں خود کفیل ہو چکے ہیں۔ ہمارے ہاں شہر کے باہر ناکوں پر جس " بم"کو تلاش کیا جاتا ہے اب وہ زیادہ تر اند ہی تیار کر لیا جاتا ہے۔ شہر کے باہر سے محض " زندہ بم" داخل ہوتے ہیں جن کی شناخت اتنی آسان نہیں۔ کراچی پاکستان کا بڑا اور اہم شہر ہے لیکن وہاں کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک ہے۔

چھری چاقو سے ہونے والی وارداتیں اب بڑھتے بڑھتے انتہائی جدید رایفلوں تک کا سفر طے کرنے کے بعد بھی تیزی سے آگے بڑھتی جا رہی ہیں۔ گزشہ کچھ عرصہ سے دیسی ساختہ بموں کا استعمال بھی انتہائی حد تک بڑھ گیا ہے۔ عام طور پر دستی بم یا پٹرول بم زیادہ تباہی کا باعث نہیں بنتے لیکن خوف و ہراس پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ہمارے ہاں انٹرنیٹ پر متنازعہ ویب سایٹس بند کرنے کے لئے پورا نظام وضع کیا گیا ہے اور سرکاری سرپرستی میں ادارہ اس حوالے سے کام کر رہا ہے۔
المیہ ہے کہ اس کے باوجود انٹرنیٹ پر موجود مخصوص ویب سائٹ پر نہ صرف اسلحہ کی خریدوفروخت ہو رہی ہے بلکہ بم بنانے کے طریقے بھی سکھائے جا رہے ہیں۔ عسکریت پسند گروہ اس ٹیکنالوجی کا جس طرح استعمال کررہے ہیں وہ نہ صرف انتہائی تشویش کا باعث ہے بلکہ حکومتی اداروں کی لاپرواہی، کم علمی اور غیر ذمہ داری کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ انٹرنیٹ پر دیسی بم بنانے کا طریقہ اس قدروضاحت سے سکھایا جاتا ہے کہ ایک طرف " استاد" نا معلوم مقام پر بیٹھا گرفتاری سے محفوظ رہتا ہے اور دوسری طرف شہر میں موجود عسکریت پسندوں کو دھماکہ خیز مواد تیار کرنے کے لئے شہر سے باہر نہیں نکلنا پڑتا۔
یہ دیسی ساختہ بم ان عام اشیای کی مدد سے تیار کئے جاتے ہیں جو شہروں اور دیہاتوں میں سر عام مل رہی ہیں۔ اسے گھریلو اشیای سے تیار کردہ بم بھی کہا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں مے ہونے والے کریکر بم دھماکوں میں یہی دیسی بم استعمال ہو رہے ہیں۔
عسکریت پسند ایک جانب جدید ٹیکنالوجی کو انتہائی مہارت سے استعمال میں لا رہے ہیں اور انٹرنیٹ کی مدد سے پیغام رسانی اور تربیت فراہم کرتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے میں مصروف ہے تو دوسری جانب اس دیسی ساختہ بموں کو چھپانے کے لئے بھی انتہائی ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔
ان کے یہ دیسی ساختہ بم چھوٹے ہوتے ہوئے بھی انتہائی مہلک ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بم تلاش کرنے اور انہیں " ٹھنڈا" کرنے کے لئے کئی ادارے کام کر رہے ہیں۔ ان اداروں میں انتہائی بہادر اور تربیت یافتہ افراد کام کرتے ہیں لیکن سب سے بڑا مسئلہ بم تلاش کرنا ہے ۔ ان بموں کو ناکارہ بنانے والے پاک فوج کے ایک سکول کے انسٹرکٹر کے مطابق اب عسکریت پسند بھی اس حوالے سے خاصے فعال ہیں۔
وہ بچوں کی سائیکل ، پانی کا ڈرم ، درختوں کی شاخوں، کوڑے کے ڈرم سمیت ہر اس جگہ بم چھپانے کی کوشش کرتے ہیں جہاں کسی کا دھیان نہ جا سکتے۔ اس لیے بم تلاش کرنے کا عمل انتہائی مشکل ہوتا ہے اور اس دوران اس کے پھٹنے کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔ بم ناکارہ بنانے والے اہلکار حقیقتاََ جان پر کھیل کر لوگوں کی جان بچاتے ہیں۔دھماکہ خیز آلات کا پتہ لگانے والے ایک تربیتی سکول کے انٹرکٹر کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے قرآن پاک کی رحل والے لکڑی کے ڈبے میں بھی چھپایا جا چکا ہے۔
اس لیے " اینٹی بم سکول" سے تربیت لینے والوں کو بھی عملی میدان میں اتنے سے پہلے ان تمام چیزوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ اب بم ڈسپوزل سکواڈ کو بھی انتہائی چستی اور ذہانت کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
پاک فوج کے ذرائع کے مطابق 2012ء کے بعد سے اب تک ملک کے شمال مغرب میں ہونے ولی جھڑپوں کے دوران چار ہزار سے زائد فوج اور فرنٹئیر کور کے الکار جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 13,600 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
اس دیسی ساختہ بمبوں سے ہونے والا نقصان زیادہ ہے۔ پاکستانی فوج نے عسکریت پسندوں کی جانب سے اس حکمت عملی کو دیکھتے ہوئے اینٹی بم سکول کی کارکردگی اور تربیت کے عمل میں بھی مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بم سکواڈ سکول باضابطہ طور پر 2012 ء میں رسالپور میں بنایا گیا۔ گزشتہ سال امریکہ سے بھی ایک معاہدہ کیا گیا جس کے تحت افغانستان میں اس صورت حال سے نمٹنے والے اہلکاروں سے بھی تربیت لی جائے گی۔
اس معاہدہ کے تحت دونوں ممالک سڑک کنارے نصب بمبوں کی تلاش اور انہیں ناکارہ بنانے کے لئے مل کرکام کریں گے۔ اس سکول کا بنیادی مقصد سکیورٹی فورسز کے الکاروں کو خفیہ مقامات پر چھپائے گئے بمبوں کی تلاش اور عسکریت پسندوں کی انگلیوں کے نشانات محفوظ کرنے کا طریقہ سکھانا ہے۔ یہاں تربیت لینے والے اہلکاروں کو گاڑیوں میں نصب ریموٹ کنٹرول بمبوں یا ممکنہ دھماکہ خیز مواد کی تلاشی کے لئے جدید آلات کا استعمال بھی سکھایا جاتا ہے۔
سکول میں سکیورٹی فورسز کے لئے تربیت دی گئی تین سے آٹھ ہفتوں کی کلاس میں حقیقی زندگی کا ماڈل تیار کیا گیاہے ۔ انہیں مارکیٹ ، شہری ماحول، گیس سٹیشن اور دیگر عمارتوں میں ہنگامی بنیادوں پر بم تلاش کرنے کی تربیت دی جاتی ہے تاک حقیقی ماحول میں بھی انہیں زیادہ پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ حالات پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکیں۔
ایک طرف عسکریت پسند اپنی کارروئیوں کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہیں اور دیسی ساختہ بمبوں کی تیاری میں مصروف ہیں تو دوسری جانب پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی ادارے بھی صورت حال کنٹرول کرنے کے لئے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔
اس کے باوجود اس سے انکار ممکن نہیں کہ شہری علاقوں میں عسکریت پسندوں کا سامنا جوف کی بنائے پولیس سے ہوتا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ ابھی تک اس حوالے سے پولیس اہلکاروں کے پاس نہ تو مطلوبہ معیار کے آلات ہیں اور نہ ہی انہیں اس سطح کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہاں عسکریت پسند محکمہ پولیس سے زیادہ فعال نظر آتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کو بھی روایتی ناکہ سسٹم کی بجائے جدید انداز سے کام کرنے کی تربیت دی جائے۔
شہروں میں امن و امان کی ذمہ داری فوج کی بجائے پولیس کی ہی ہے۔ حالات پولیس کے بس سے باہر ہوں تو خصوصی احکامات کے بعد فوج کو شہر میں بلایا جا سکتا ہے لیکن پولیس کو پھر بھی جوف کی جگہ ڈیوٹی پر نہیں بھیجا جاتا۔ ضروری ہے کہ شہروں میں امن وامان کی صورت حال بہتر بنانے کے لئے پولیس اہلکاروں اور افسروں کو بھی جدید بنیادوں پر تربیت دی جائے۔
فوج کو شہروں کی اضافی ذمہ داری سونپنے کی بجائے ہمیں پولیس کو ہی بہتر بانا ہو گا۔ اینٹی بم سکول سے تربیت لینے والے فوجی اہلکار یقینا آپریشن زدہ علاقوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہر ہ کر سکیں گے اور عسکریت پسندوں کے خلاف لڑائی میں پہلے سے زیادہ فعال ہوں گے لیکن پولیس کے حوالے سے ابھی بھی یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ عسکریت پسندوں کے مقابلے میں برابر جنگ لڑ سکتی ہے۔ یہ ایک بڑی خامی ہے۔ ارباب اقتدار اور پالیسی سازوں کو اس حوالے سے بھی جامع منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔

وقت اشاعت : 2014-04-12

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں