بند کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ہمیشہ مشکل وقت میں
سعودی عرب نے دل کھول کر پاکستان کا ساتھ دیا۔۔۔۔ پاکستان کو مالی امداد کاتحفہ‘ سعودی عرب کی پاکستان سے لازوال دوستی کا ثبوت ہے
امیر محمد خان:
مسلم امہ کے رہنما کی حیثیت رکھنے والے سعودی عرب نے صرف آج ہی نہیں بلکہ ہمیشہ پاکستان کے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے‘ نائب خادم الحرمین الشریفین شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں پاکستان سے خیر سگالی و محبت کا اظہار کرتے ہوئے ڈیڑھ ارب ڈالر کی خطیر رقم کا تحفہ دیا۔ یہ رقم ملنا تھی کہ تمام پاکستان کے ”نام نہاد“ محب الوطنوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔
وہ لوگ جو وطن کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں بیرونی سرمایہ کاری اپنی ذات پر کراتے ہیں اور جڑیں کھوکھلی کرنے اور پاکستان جیسے اسلامی قلعہ کو کمزور کرنے کیلئے اغیار سے بیرونی ممالک کے اپنے بینکوں کے کھاتوں میں خطیر رقم لیتے ہیں چونکہ وہ خود پیسہ لئے بغیر کوئی کام نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے آقا ان سے کام لئے بغیر کوئی پیسہ بھی نہیں دیتے ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ سعودی عرب نے ڈیڑھ ارب ڈالر ضرور کسی کام کیلئے ہی دئیے ہیں‘ ان کی اپنی یادداشتیں یا تو کمزور ہیں یا یہ بے چارے لوگوں کو بو وقوف سمجھتے ہیں(لوگ تو ہمارے معصوم ہیں‘ جس کی وجہ ملک میں مہنگای اور تعلیم کی کمی ہے) ہر دفعہ یہ لوگ نئے چہرے لیکر سامنے آجاتے ہیں اور پرانے کارناموں پر پردہ ڈالتے ہیں، سعودی عرب کی پاکستان سے محبت شاید انہیں یاد نہیں جب میاں نواز شریف نے ہی ایٹمی دھماکہ کیا تھا‘ تو پاکستان بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں آگیا تھا‘ سعودی عرب نے تیل کی فراہمی پاکستان کو محبت اور پیار سے دی کہ پاکستان کی ڈھارس بندھی کہ دنیا میں اس کے دوست بھی ہیں۔

دراصل پاکستان میں ایک لابی جو پڑوسیوں کا کھیل رہی ہے‘ انہیں پاکستان کی معیشت کی مضبوطی میں سعودی عرب کا کردد اچھانہیں لگتا ‘ وہ صرف ”بھیک مانگتا پاکستان“ ہی دیکھا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب کے شادہ دل حکمران خاندان نے سیلاب اور زلزلہ کے دوران وہ کام کیا جس کا کوئی ثانی نہیں۔ سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی دفعہ خود خادم الحرمین الشریفین عبداللہ بن عبدالعزیز نے میڈیا میں آکر اپنے عوام سے اپیل کرتے ہوئے پاکستان کی مشکلات کا ذکر کیا اور سعودی عوام نے پاکستانی مصیبت زدہ بھائیوں کیلئے اپنے سربراہ کے کہنے پر ایک لاجواب امداد کی۔
ہاں یہ ضرور ہوا کہ وہ امداد سرکاریہ اداروں کی دئیے جانے کے بجائے پاکستان میں سعودی سفیر نے بذاتِ خود اپنی نگرانی میں سعودی عرب سے آئی ہوئی خصوصی ٹیم کے ہمراہ اور مشکل راستوں میں جار کر وہ امداد تقسیم کی‘ اس کی وجہ سب کی سمجھ میں آتی ہے کہ سابقہ حکومت یا ہمارے ادارے کس طرح امداد لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ سالوں گزرجانے کے باوجود حکومتی امداد کا لوگ آج تک انتظارکررہے ہیں‘یہی وجہ ہے کہ گزشتہ پانچ سال(سابقہ دور حکومت میں سیلاب زدگان‘ زلزلہ زگان حکومتی امداد کے تاوقت منتظر ہیں) انہیں جو امداد ملی وہ نجی لوگوں سے ملی یا دوست ملک سعودی عرب کے حکم پر جو تعمیرات یا امداد ہوئی وہ ان کے سفارت خانے یا انکی اپنی بھیجی ہوئی امدادی ٹیموں کے ذریعے ہوئی۔

سعودی عرب کی پاکستان سے لازوال دوستی کو اچھی نگاہ سے نہ دیکھے والوں نے سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر رہنے والوں کی وطن واپسی کو بھی مسئلہ بنایا۔ خادم الحرمین الشریفین نے چھ ماہ کاعرصہ نہ صرف پاکستانیوں بلکہ یہاں رہنے والے تمام غیر ملکیوں کو دیا کہ وہ سعودی لیبر قوانین کی رو سے اصلاح احوال کرالیں‘ ان سے کہاگیا کہ اس دوران ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔
نیز ضروری کاغذات وغیرہ نہ ہونے کو بھی معاف کیا گیا جس سے یہاں موجود لاکھوں غیر ملکیوں نے فائدہ اٹھایا‘ اس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پاکستان اس قوت انتخابات میں مصروف تھا تارکین وطن کو کوئی پوچھنے والا نہ تھا‘ ہمارے سفارت کاروں نے اس وقت اپنے تعلقات کا بھرپور استعمال کیا اور زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کے یہاں کے قوانین کے مطابق دستاویزی اور ملازمتوں کے سلسلے میں مدد کی۔
اگر کوئی ان تمام سہولیات کے باوجو دبھی یہاں غیر قانونی رہنے کی خواہش رکھے تو یہ زیادتی ہوگی‘ ظاہر سی بات ہے کہ پاکستانیوں سمیت کئی ممالک کے ایسے لوگ گرفتار ہوئے جو میزبان ملک کے قوانین کی واضح خلاف ورزی کے مرتکب تھے اس بات پر بھی واویلا ہمارے نادان دوست مچاتے رہے اور پاکستان کے عوام اور دنیا بھر میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ”پاکستانی نکالے جارہے ہیں“ سعودی عرب کے سسٹم میں گرفتار کئے گئے لوگ دو جگہ رکھے جاتے ہیں۔
جرائم میں ملوث لوگوں کو جیل میں رکھا جاتا ہے جبکہ لیبر قوانین کی پابندی نہ کرنے والوں کو ان کے ملک روانہ کرنے کیلئے ”ترحیل“ یعنی despatcشعبہ میں رکھا جاتا ہے‘ مگر ہمارے نام نہاد دوستوں نے تاثر یہ دیا کہ ہزاروں پاکستانی جیلوں میں ہیں‘ جبکہ وہ ترحیل میں تھے اور میاں نواز شریف کی ہدایت پر پاکستانی سفارت کاروں نے سعودی حکام سے مل کر ترحیل میں رہنے کے عرصے کو کم کرایا‘ ان کی مستنداد مکمل کیں وار جلد از جلد نے کے اہل خانہ تک پہنچایا۔
اس سلسلے میں سعودی حکام نے بھرپور تعاون کیا۔ یہاں یہ تمام باتیں تحریر کرنے کا ایک مقصد ہے کہ ہمارے اکثر دانشور دانستہ طور پر اور کچھ دانستہ ٹی وی ٹاک شوز میں بیان بازی کرتے ہیں‘ لکھاری بننے کے شوق میں معلومات حاصل کئے بغیر قلم آزمائی کرتے ہیں جس سے دو اہم دوستوں کیلئے مشکلات پیش آتی ہیں۔ یہ دانشور صاف صاف یہ کیوں نہیں کہتے کہ گزشتہ پانچ سالہ دور حکومت میں حکمران رہنے والے ہمارے لیڈروں پر دوست ملک سعودی عرب کو اعتماد نہ تھا جبکہ سعودی عرب پاکستان سے ہمیشہ سے مخلص تھا اور مخلص ہے ۔ بات اعتماد کی ہے، میاں نواز شریف کی جو پذیرائی سعودی عرب اور شاہی خاندان کرتا ہے وہ دیگر رہنماؤں کے نصیب میں نہیں‘ وجہ پھر اعتما دکی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-05

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان