بند کریں
جمعہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حکومتی رٹ اور نتیجہ خیز مذاکرات !
2گروپ امن کوششوں کو سبوتاژ کرسکتے ہیں، فریقین سے صبر و تحمل کا تقاضا حکومت جنگ بندی نہیں طالبان سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرے گی
نواز رضا:
طالبان کی مذاکراتی کمیٹی طالبان کی قیادت شمالی وزیرستان میں نامعلوم مقامات پر طالبان کی سیاسی شوریٰ اور اہم کمانڈروں سے ملاقات کر کے واپس آگئی ہے۔ فی الحال مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم اور جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قریبی ساتھی مولانا یوسف شاہ نے ان کے نمائدہ کے طور پر طالبان سے براہ راست اس بات چیت میں حصہ لیا ہے۔
لال مسجد کے سابق خطیب اعلیٰ مولانا عبدلاعزیز طالبان کی مذاکراتی کمیٹی سے ابھی تک الگ تو نہیں ہوئے لیکن انہوں نے آئین کی مسلمہ اسلامی حیثیت ہی کو چیلنج کررکھا ہے ۔ اس دوران یہ بات قابل ذکر ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت نے موجودہ آئین کو اسلامی قرار دیا ہے اور کہا ہے اس کی روشنی میں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
وزیر اعظم محمد نواز شریف جو خود مذاکراتی عمل کی نگرانی کررہے ہیں کو مذاکراتی عمل کی لمحہ بہ لمحہ پیش رفت سے آگاہ رکھا جارہا ہے۔ سردست مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ اصل مسئلہ 60سے زائد گروپوں میں منقسم طالبان سے طے پانے والے معاہدے کی پاسداری کا ہے۔ دونوں اطراف نے بداعتمادی کے ماحول میں مذاکرات کی ”میز “ سجائی گئی ہے جس کا دارومدار عہد و پیمان کے پورا ہونے پر ہے۔
لہٰذا مذاکرتی کمیٹیاں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہیں عمران کان اور مولانا فضل الرحمن نے مذاکراتی عمل سے اگرچی جدا رہنے ہی میں بہتری سمجھی ہے لیکن اس سے مذاکراتی کمیٹی کی سیاسی پوزیشن ضرور کمزورہوئی ہے۔ طالبان سے ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات ابھی منظر عام پرتو نہیں آئیں تاہم جمعیت علماء اسلام(س) کے سربراہ اور طالبان کمیٹی کے رکن مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں کمیٹی کے وفد کی ملاقت کے دوران طالبان نے مثبت جواب دیا ہے۔
یہ انتہائی اہم قومی مسئلہ ہے اس پر جذبات سے کام نہ لیا جائے، طالبان کی مذاکراتی کمیٹی نے منگل کو حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے میجر (ر) عامر کی رہائش گاہ پر ملاقات کر کے طالبان کی سیاسی شوریٰ کے مطالبات اور تحفظات سے آگاہ کیا ۔ اجلاس میں طالبان کمیٹی کے ارکان مولاناسمیع الحق، پروفیسر محمد ابراہیم، مولانا یوسف شاہ اور حکومتی کمیٹی کے رابطہ کار وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی امور عرفان صدیقی، میجر(ر) محمد عامر اور رستم شاہ مہمند نے شرکت کی۔
اجلاس میں پروفیسر ابراہیم اور مولانا یوسف شاہ نے طالبان کی سیاسی شوریٰ سے اپنی 2روزہ بات چیت کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ طالبان کی سیاسی شوریٰ نے حکومتی کمیٹی کے نکات پر مثبت اور حوصلہ افزاء رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ طالبان قیادت نے ہم سے کہا ہے کہ ”ہم کھلے ذہن سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور ہماری بھی یہی خواہش ہے کہ ملک میں امن قائم ہو اور اس حوالے سے قوم کو جلد خوشخبری سنائی جائے گی“۔
طالبان کی قیادت نے قیام امن کی خاطر حکومتی کمیٹی کے ارکان کو خوش آمدید کہنے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا حکومتی کمیٹی نے بھی طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کی رپورٹ کو اطمینان بخش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ آئندہ نشست میں تمام متعلقہ امور اور تجاویز پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی بعد ازاں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے وزیر اعظم ہاؤس میں ویزر اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کی اور انہیں طالبان کی مذاکراتی کمیٹی سے ہونے والی ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کا حکومتی اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور ایک دور وز بعد ہونے کا امکان ہے۔
وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والوں میں کمیٹی کے ارکان عرفان صدیقی ، رستم شاہ مہمند اور میجر (ر) محمد عامر شامل تھے۔ اس موقع پر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کان اور وزیر اعلیٰ بلوچستان ، ڈاکٹر عبدلمالک بلوچ بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ شورش زدہ علاقوں میں حکومت کی رٹ کو تسلیم کرنا ضروری ہے مذاکرات کے عمل کو اسی وقت نتیجہ خیز سمجھا جاسکتاہے جب دہشت گردی کا سلسلہ بند ہوجائے۔
وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران حکومتی کمیٹی کے ارکان نے کہا ہے کہ طالبان کے دو گروپ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ مسئلہ کی حساسیت کے پیش نظر مطالبات کو خفیہ رکھا جارہا ہے طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کا کہنا ہے” طالبان کے مطالبات امانت ہیں“ یہ بات قابل ذخر ہے طالبان سے مذاکرات کے دوران ڈرون طیارے مسلسل پرواز کرتے رہے ہیں۔
طالبان کی سیاسی شوریٰ کے ارکان کے نام بھی خفیہ رکھے جارہے ہیں طالبان کی طرف سے 15شرائط منظر عام پر آئیں تو اسی وقت طالبان کی مذاکراتی کمیٹی اور خود طالبان کو اس کی تردید کرنا پڑی ہے۔ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی نے کہا ہے کہ ”طالبان کچھ چیزوں کی وضاحت چاہتے ہیں ان کے بارے میں حکومت کے جواب کا انتظار ہے“ حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت اور طالبان کے درمیان ”جنگ بندی“ اصل مسئلہ نہیں وفاقی حکومت جہاں ہر قیمت پر اپنی عمل داری تسلیم کرانا چاہتی ہے وہاں حکومت شورش زدہ علاقوں سے فوج واپس بلانا نہیں چاہتی حکومت کا موقف ہے اگرچی پاکستان کی فوج حالت جنگ میں ہے لیکن طالبان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کررہی ۔
فوج اس وقت جوابی کارروائی کرتی ہے جب سکیورٹی فورسز پر طالبان کی جانب سے حملہ ہوتا ہے۔ حکومت طالبان سے جنگ بندی نہیں ہتھیار ڈالنے کا مطابلہ کرے گی چونکہ حکومت اور طالبان کے درمیان”بداعتمادی کی فضا“ پائی جاتی ہے حکومت یہ سمجھتی ہے طالبان مذاکرات کو طور دے کر اپنی ”صف بندی“ کیلئے وقت حاصل کر رہے ہیں جب کہ دوسری طرف طالبان کو شبہ ہے کہ حکومت طالبان کے خلاف بڑی کارروائی کرنے کیلئے اپنی پوزیشن مضبوط کررہی ہے ۔
طالبان مذاکرات پر اس لئے آمادہ ہوئے ہیں کہ وہ شمالی وزیرستان میں اپنا ہیڈ کوارٹر منتشر نہیں ہونے دینا چاہتے چونکہ حکومت کے طالبان کے چھوٹے گروپوں سے رابطے قائم ہیں ۔ طالبان کی قیادت ان رابطوں کو ختم کرنے کیلئے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئی ہے تاکہ کوگئی گروپ حکومت کے ساتھ الگ سے مذاکرات کر کے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہ ہوجائے۔
اسی طرح طالبان کے کئی بڑے لیڈر حکومت کی تحویل میں ہیں جنہیں طالبان مذاکرات کے ذریعے رہا کروانا چاہتے ہیں۔ دراصل حکومت اور طالبان دونوں ”مذاکرات کے کھیل“ سے اپنے اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اہم حکومتی شخصیات مذاکرات کے عمل کو میڈیا کی ”زینت“ بنانے سے بھی گریز کررہے ہیں کیونکہ اس سے مذاکراتی عمل کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔
اگرچہ طالبان نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو شمالی وزیرستان آنے کی دعوت دی ہے اور خود ”بندو بستی علاقہ“ میں مذاکرات کرنے سے معزوری کا اظہار کیا ہے چنانچہ اس سے مذاکراتی عمل میں ابھی تیزی آنے کا امکان نہیں۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا ہے کہ ہم مذاکراتی عمل کو بتدریج آگے بڑھانا چاہتے ہیں ، کوئی جلد بازی نہیں کی جائیگی اور اس دوران تلخیوں پر دونوں فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا لہٰذا حکومت بھی ایسی شرائط عائد کرنے سے گریز کرے جس سے مذکراتی عمل کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہو۔ دونوں اطراف سے خوشش کن بیانات کے باوجو د اصل سوال یہ ہے کہ کیا طالبان غیر مشوط طور پر ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہوجائیں گے؟
تاریخ اشاعت: 2014-02-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان