بند کریں
پیر مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حکومت، اپوزیشن مذاکرات کیلئے یکجا
دہشت گرد ی کا عفریت وزیراعظم کا بالآخر ایوان میں کھینچ لایا ایم کیو ایم کے اختلافات، بنوں اور راولپنڈی کے خونیں واقعات کی بازگشت سنائی دیتی رہی
نواز رضا:
وزیر اعظم محمد نواز شریف کو بالآخر ارکان پارلیمنٹ کا خیال آہی گیا۔ کم و بیش 8ماہ بعد قومی اسمبلی کے ایوان میں”رونز افروز“ ہوئے تو ان کی طویل غیر حاضری میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پیدا ہونے والی تلخی نے خوشگوار ماحول کی شکل اختیار کرلی ایوان ان کے جملوں سے کشت زعفران بن گیا وزیر اعظم محمد نواز شریف ایوان میں داخل ہوئے تو حکومتی ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا خیر مقدم کیا۔
انہوں نے قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ سے مصافحہ کیا اور خیریت دریافت کی۔ انہوں نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ” کچھ ارکان نے میری یاد میں واک آؤٹ کیا‘ وہ میری یاد میں اداس رہے میں ان کی محبت‘پیار اور خلوص کا شکریہ ادا کرتا ہوں“۔ وزیر اعظم محمد نوز شریف جنہیں دور روز قبل ہی پارلیمانی پارٹی نے طالبان سے ”مذاکرات یا آپریشن“ کرنے کا مینڈیٹ دیا تھا نے ایوان میں ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش دوہراتے ہوئے اس مقصد کیلئے عرفان صدیقی ، میجر ریٹائرڈ محمد عامر، رحیم اللہ یوسف زئی اور افغانستان مین پاکستان کے سابق سفیر رستم مہمند پر مشتمل 4رکنی کمیٹی کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ کمیٹی جس کی نگرانی وہ خود کریں گے، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اس مذاکراتی کمیٹی میں اس کے ارکان کی معاونت کریں گے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذاکرات کیلئے کمیٹی کا اعلان کرنے سے قبل اپوزیشن کو اعتماد میں لیا گیا کمیٹی میں رستم مہمند خیبر پختونخوا حکومت کی نمائندگی کریں گے ان کا نام عمران کان سے مشاورت کے بعد شامل کیا گیاہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ رستم مہمند کو بھی کمیٹی کا رکن بنانے کی خبر ٹیلی ویژن کے ذریعے معلوم ہوئی تاہم وہ مذاکرات کے لئے قائم کردی کمیٹی میں شامل ہونے سے گریزاں نظر آرہے تھے۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے تمام قومی رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں کو بھی دعوت دی ہے کہ وہ مذاکراتی عمل کی کامیابی کیلئے انہیں براہ راست تجاویز پیش کریں انہوں نے عمران خان سے مخاطب ہوکر کہا کہ وہ خوود ان کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار ہیں، اگر اپنے گھر بلائیں تو اس میں بھی کوئی تأمل نہ ہوگا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن طالبان سے مذاکرات کے سوال پر یکسو دکھائی دے رہی تھیں۔وزیر اعظم نے ایوان میں اپنی امد پر خوشگوار ماحول پیدا کر کے اپوزیشن کو اپنے قریب کرنے کی کوشش کی ہے اب دیکھنا یہ اپوزیشن جماعتیں اپنے طرز عمل سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قومی ایشوز پر پایا جانے والااتفاق رائے قائم رکھتی ہیں کہ نہیں۔
۔۔۔۔
قومی اسمبلی کے آٹھویں سیشن کے آغاز سے قبل مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کیلئے ارکان پارلیمنٹ کو وزیر اعظم ہاؤس مدعو کر کے آخر کار ان ارکان کے داخلے پر غیراعلانیہ پابندی ختم کردی گئی ہے۔ نواز شریف 8ماہ قبل جن ارکان پارلیمنٹ کی ووٹوں سے مسند وزارت عظمیٰ تک پہنچے تھے اس منصب کے حصول کے بعد ان سے ان کا تعلق اس حد تک کمزور ہوگیا تھا کہ حکومتی ارکان کھلے بندوں شکوے شکایات کرنے لگے تھے ۔
وزیر اعظم محمد نواز شریف ابتدائی ایام میں دو تین بار قومی اسمبلی کے ایون میں آئے اس کے بعد انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کا رخ ہی نہیں کیا۔ ایوان بالا کے ارکان کے بار بار کے مطالبے کے باوجود ایوان کو رونق نہ بخشی ۔ دونوں ایوانوں کی اپوزیشن جس کے پاس حکومت کو زچ کرنے کا کوئی اور ایجنڈا نہ تھا اس نے بھی کبھی وزیر اعظم کی ایوان میں غیر حاضری کو ایشو بنا ڈالا اور کبھی ان کے اوپننگ بیٹسمین چوہدری نثار علی خان سے الجھ کر حکومت پر حاوی ہونے کی کوشش کرتی رہی ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں جب سے محمد نواز شریف نے وزیراعظم کا منصب سنبھالا ہے انہوں نے اپنی تمام تر توجہ توانائی کے بحران کے خاتمے پر مرکوز کر رکھی ہے۔ وزیر اعظم ہاؤ س میں صبح شام توانائی کے خاتمے کے بارے میں ہی اجلاس منعقد ہوتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وزیر اعظم ان اجلاسو ں کی وجہ سے پارلیمنٹ کا رخ ہی نہ کریں۔ مسلم لیگی ارکان پارلیمنٹ کی وزیر اعظم تک رسائی کا نہ ہونا جہاں ان کی پارلیمنٹ کی کارروائی میں عدم دلچسپی کا باعث بنا وہاں دونوں ایوانوں حکومتی ارکان کی غیر حاضری نے حکومت کیلئے سبکی کا سامان بھی پیدا کیا وزیر اعظم محمد نواز شریف کی ایون میں عدم موجودگی میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کان اپوزیشن کی طرف سے چلائے جائے والے تیروں کا سامنا کررہے ہیں ایوان میں وزراء کی غیر حاضری اور سوالات کے جوابات کی تیاری نہ کر کے آنے کہ وجہ سے متعدد بار اپوزیشن واک آئٹ کر چکی ہے بھاری بھرکم مینڈیٹ کی حامل جماعت کو محض اس لئے ایوان میں بار بار شرمندگی کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کے ارکان پارلیمنٹ میں کوئی کشش نہیں رہی وہ ایوان کی کارروائی میں حصہ لیتے ہیں اور نہ ہی تیاری کر کے آتے ہیں۔
قومی اسمبی میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کان اور سینیٹ میں قائد ایوان راجہ محمد ظفر الحق اپوزیشن کے حملوں کو ناکام بناتے رہتے ہیں پچھلے 8ماہ کئے دوران یہ بات خوص طور نوٹ کی گئی ہے کہ محمد نواز شریف کے تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد سے ان کا پارٹی سے تعلق کمزور رہا ہے جس کے باعث حکومت پر بیورو کریسی کی گرفت مضبوط ہوگئی ہے ۔
قبل ازیں پارٹی کے پلیٹ فارم پر کئے جانے والے فیصلوں پر بیورو کریسی عمل درآمد کرتی تھی اب صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی ہے ۔ تمام فیصلے کچن کیبنٹ میں ہوتے ہیں یا ان فیصلوں میں بیورو کریسی کا عمل دخل بڑھ گیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے دو اڑھائی سال قبل پارٹی کی تنظیم نو کا فیصلہ کیا تھا لیکن تاحال یہ کام مرکزی ، صوبائی اور ضلعی صدور و جنرل سیکرٹریوں کی نامزدگیوں سے آگے نہیں بڑھ سکا۔
بیشتر ارکان وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے چیمبر میں اپنی درخواستیں لے کر بیٹھے ہوتے ہیں وہ ان اشک شوئی کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی وزیرا عظم سے ملاقات نہیں ہوتی ۔ پارٹی سیکرٹری جنرل کی وزیر اعظم سے 8ماہ میں ایک ملاقات نہیں ہوسکی بالآخر پاکستان مسلم لیگ(ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان کی وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات ہو ہی گئی۔
جہاں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی قومی سلامتی اور وفاقی وزیر خزانہ و اقتصادی امور محمد اسحٰق ڈار کی ملکی معیشت کے بارے میں بریفنگ کے بعد ارکان کو وزیر اعظم کے سامنے اپنا حال دل بیان کر نے کا موقع مل گیا ۔ پارلیمانی پارٹی کے بعض ارکان نے وزراء کی بے اعتناعی کی شکایت کی اور کہا کہ وزراء کام نہیں کرتے کم از کم عزت تو دیں وہ ان کو چوکیدار سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے جس پر وزیر اعظم نے وزراء کو تنبہہ کی کہ وہ ارکان پارلیمنٹ کو عزت دیں اور اگر کوئی وزیر ارکان پارلیمنٹ سے تعاون نہیں کرتا تو اس کے بارے میں مجھے آگاہ کیا جائے وہ خود ایکشن لیں گے۔
بنوں ور راولپنڈی میں دہشت گردی کے واقعات نے حکومت کے طالبان سے مذاکرات کے عمل کو سبو تاژ کردیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بریفنگ کے دوران انکشاف کیا ہے ک جب حکوتم نے تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود سے رابطہ قائم کی اتو وہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے اپنی رہائش گاہ کی طرف آہی رہے تھے کہ ان کو ڈرون حملے میں نشانہ بنا کر مذاکراتی کوششوں کو ناقبل تلافی نقصان پہنچایا گیا حکومت نے دوسری بار طالبان کے مختلف گروپوں سے مذاکرات کیلئے خفیہ رابطے قائم کئے تو یہ راز افشاء ہونے پر مذاکرات دشمن عناصر نے بنوں اور راولپنڈی میں دہشت گردی سے ایک بار پھر مذاکرات کے عمل کو سبوتاژکردیا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں مذاکرات کے حق میں نحیف آوازیں شنائی دیں تاہم پارٹی کے ارکان کی اکثریت نے طالبان کے خلاف آپریشن کرنے کے حق میں تالیاں بجا کر اس کی تائید کی۔ طالبان سے مذاکرات یا آپریشن کرنے کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار اب وزیر اعظم کو دیدیا گیا ہے۔ارکان کی اکثریت نے ہاتھ کھڑے کر کے بلند آواز میں آپریشن آپریشن نعرے لگائے وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کرنے ولاوں کو پزیرائی حاصل ہورہی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیر اعظم نے ارکان کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ان سے گروپوں کی صورت میں ملاقاتیں کریں گے جس پر انہوں نے اگلے ہی روز عمل درآمد شروع کردیا۔
تاریخ اشاعت: 2014-01-31

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان