تازہ ترین : 1
Gwadar Rout Tabdeel Karne Per Ehtejaaj

گوادر روٹ تبدیل کرنے پر احتجاج

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک اپنا اقتدار مضبوط کرنے میں مصروف۔۔۔۔۔ بلوچستان میں اغواء برائے تاوان، قتل اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ

عدن جی:
بلوچستان کے حکمران تو خاموش ہیں مگر ان کی آشیر باد سے گوادر روٹ کی تبدیلی پر احتجاج ہو رہا ہے ۔ ڈاکٹر مالک وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنے اگلے ایک سال کے لئے اقتدار کا عرصہ مضبوط کرنے کیلئے سرگرم ہیں۔ کیونکہ وزیراعظم نے عین سینٹ کے انتخابات کے دوران ڈھائی ڈھائی سال اقتدار کے معاہدہ مری کی تصدیق کی ہے۔ وزیراعظم نے اگلے ڈھائی سال کے لئے بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے معاہدے کی تفصیلات بتائیں تو ڈاکٹر مالک بلوچ کو احساس ہوگیا کہ میری حکومت کا خاصا عرصہ گزرگیا ایک سال رہ گیا پھر واپس اپنے لوگوں کے ہی پاس جانا ہے لہٰذا انہوں نے بہت سے اضافی معاملات ون پر صوبائی حاضرین کو اعتراض ہو سکتا ہے ۔
خود تو خاموشی اختیار کر لی مگر باقی رہنماوٴں کو تنقید کی آزادی دے دی۔اسی لئے گوادرروٹ کی تبدیلی پر صوبے میں احتجاج ہو رہا ہے اور صوبے کے معاملات میں مداخلت قرار دیا جا رہا ہے۔ ملکیت کی بات ہو رہی ہے۔ جبکہ چین کے گوادر روٹ کی تبدیلی پر اعتراض کرنے والے بھارت اور امریکہ کے مفادات کو بھول رہے ہیں۔
چین نے 1980 میں گوادر روٹ کا شغر روٹ تیار کیا تو گوادر پورٹ تیار کی جائے اس کے بعد گوادر سے کاشغر تک سڑکیں اور ریلوے لائن سے جوڈ دیا جائے ۔
سب پر 32 ارب ڈالر چین خرچ کرنے کیونکہ وہ اپنی مصنوعات کا شغر سے گوادر تک لانا چاہتا ہے۔ گواد رپورٹ کے حوالے سے امریکہ اور بھارت خوش نہیں ہیں کہ وہ گوادر میں چین کا عمل دخل برداشت کرے کو اس خطے میں چین کی چوکیداروں سے تعبیر کر دیتے ہیں۔ اس لئے وہ اس پراجیکٹ کے خلاف پرجدید آزما رہے ہیں اب پھر چینی صدر کی جلد پاکستان آمد متوقع ہے لہٰذا گوادر کا شغر روٹ کے حوالے سے مختلف ایشوز سامنے آرہے ہیں۔
اختلاف ہو رہا ہے۔
روٹ اور اس کے تحفظ کے معاملے پر غور کرنے کی اہلیت ہم لوگوں میں ہے کہ میں نے گوادرسے کاشغر تک کیلئے 3 روٹس تیار کئے ہیں جن میں ظاہر یہ کہ صرف ایک روٹ پر کام ہوگا اور پاکستان کی رضامندی سے ہی کوئی روٹ بنے گا یہ روٹ مشرقی مغربی اور تبادل روٹ کے نام سے بنائے گئے ہیں۔
مشرق روٹ میں سڑکیں گوادر سے گڈانی خضدار رتو یرو، سکھر ، ملتان لاہور، اسلام آباد، حویلیاں اور حویلیاں س کاشغر پہنچے گی۔
یہ روٹ پاکستان کے چاروں صوبوں سے گزرے گا۔
مغربی روٹ گوادرآوار ان رتویرو نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی ، ڈی جی خان، ڈئی آئی خان، سوات، گلگت سے ہوتا ہوا کاشغر جائے گا۔ بہتر امتبادل روٹ گواد رتربت، پجگور،قلات، کوئٹہ، ڈی آئی خان ،سوات اور گلگت سے کاشغر پہنچے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چین محفوظ راہداری پر سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے جبکہ بلوچستان سے وہ علاقے میں لوٹ مار ڈکیتی کی وارداتیں عام ہیں اور چین چینی انجنیئر کے اغوا اور قتل کی وارداتیں نہیں ہوں لہٰذا وہ ابتدا میں مشرقی روٹ بنانا چاہتا ہے۔
جو سندھ اور پنجاب سے ہوکر کاشغر پہنچے۔ مگر بلوچ رہنما ملکیت کا کہہ رہے ہیں اور ان حالات میں جبکہ انہیں معاملے پر پاکستان کی معیشت کی بہتری روزگار کی فراہمی وترقی نظر آرہی ہے اوریہ ملکی ترقی نظر آرہی ہے اور یہ ملکی ترقی کا اہم سلسلہ ہو گا مگر بلوچستان میں اور خیبر پختونخوامیں اس روٹ پر جو سوار ہے تو پہلے وہی احتجاج کرنے والے ایک سوال کا جواب دیں کہ پہلے اپنے صوبوں میں امن وامان کی ضمانت تو دے دیں جو برا ہے کہ نہ سڑکیں محفوظ ہیں نہ گھر اور کاروبار۔

اب ممکنہ چینی صدر کے دورہ پاکستان پر اس معاہدے پر جو دستخط ہوئے ہیں چینی حکام اس احتجاج کے تناظر میں یہ باب بند کر سکتے ہیں اور پاکستان کی ترقی کا دروازہ بند ہو گا تو امریکہ اور بھارت کرکٹ کی مرادجل جائے گا۔
دوسری جانب غیر قانونی افغان مہاجرین کی واپسی کا بہت شور ہے اور حکومت یہ دعویٰ بھی کر رہی ہیں مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اگلے روز ہی واپس پاکستان آجاتے ہیں اور افغانستان سے پاکستان آنے کے اتنے زیادہ راستے ہیں کہ حکومت ابھی تک انہیں کنٹرول نہیں کر سکتی ہے اور جہاں تک صوبے میں آئے دن ہونے والے اغوا اور قتل ، دہشت گردی کا تعلق ہے یہ روز بڑھ رہی ہیں۔

بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف سرچ آپریشن میں تیزی آتے ہی صوبے میں امن وامان کی صورتحال یکسر بدل رہی ہے۔
جیسا کہ چاغی میں سرچ آپریشن کے دوران ایک مغوی سکھ تاجر کو بازیاب کروالیا اگیا اور 4 اغوا کاروں کو گرفتار لر لیا گیا۔ منیش سنگھ کو دالبندین سے ڈیڑھ ماہ قبل اغوا کیا گیا تھا جس کی باز یابی کیلئے چاغی میں آپریشن کیا گیا جس میں سکھ مغوی تاجر کو توبازیاب کر والیا گیا مگر لیویز کے 2اہلکار شہید ہو گئے جبکہ ایف سی کمانڈنٹ کا کہنا ہے ژوب اور قلعہ سیف اللہ میں کالعدم تحریک کی سرگرمیاں زور پکڑرہی ہیں جن کے خلاف سرچ پریشن تیزی سے جاری ہے۔
اور اس علاقے سے بھاری اسلحہ اور خود کش جیکٹ اور گولہ بارودبرآمد ہوچکا ہے۔
چمن میں گاڑی میں بعض ریموٹ کنٹرول بم کے پھٹنے کے ایک بچہ جاں بحق ہو گیا جبکہ پیرکوہ اور ڈیرہ بگٹی میں تخریب کاری کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ ڈیرہ بگٹی میں پانی اور گیس کی پائپ لائنیں اڑانے سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
وقت اشاعت : 2015-03-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں