بند کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گمنام شہید
قربانیاں دینے والے عام اہلکار بھی ہمارے ہیرو ہیں۔۔۔۔۔ موجودہ حالات کاجائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل تو ہے لیکن پولیس کو اس حوالے سے تربیت کا موقع نہیں مل سکا
مصنف : سید بدر سعید
کراچی کی بدامنی سے لے کر ملک بھی میں دہشتگردوں کے خلاف لڑنے والے نچلے درجے کے اہلکار ہر جگہ آگے آگے نظر آتے ہیں ناکوں پر کھڑا کرنے سے لے کر پولیس مقابلے تک ہر جگہ اُنہیں آگے کیا جاتا ہے لیکن شہادت کے بعد انہیں نہی تو اعزازات ملتے ہیں ،نہ ہی اُن کی ویسی تعریف کی جاتی ہے جیسی اُن کے ساتھ شہید ہونے والے افسر کی ہوتی ہے۔ یہ عام اہلکار ہمارے اصل ہیرو ہیں جو اعزازات اور مراعات سے بے نیاز ہو کر وطن کے لئے قربان ہونے کے بعد گمنامی کی چادر میں دفن ہو جاتے ہیں ۔

کراچی کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر علاقوں میں دہشت گرد اب تک کئی اہم افسروں اور اہلکاروں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ یہ فہرست بہت طویل ہو چکی ہے ۔ اس میں خاص طور پر لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ ، چار میجر جنرل، کئی بریگیڈئر اور کرنل کے ساتھ ساتھ آئی جی صفوت غفور، ڈی آئی جی فیاض سنبل، ایس ایس پی ملک سعد، ایس ایس پی خورشید خان اور ایس ایس پی ہلال احمد سمیت کئی افسراور جوان شامل ہیں۔
چند ماہ قبل اس فہرست میں ایس پی چودھری محمد اسلم خان اور اُن کے ساتھیوں کے نام بھی شامل ہو گئے تھے۔ شدت پسندی کے خلاف یہ جنگ ملک بھی میں پھل چکی ہے اور اب خاص طور پر سرکاری اداروں کے ملازمین خصوصاََ فورسز کو نشانہ بنایا جا رہے ۔فورسز کے خلاف ہونے والی ٹارگٹ کلنگ میں کراچی 1992 ء کے آپریشن میں حصہ لینے والے لگ بھگ تما م قابل ذکر افسروں اور اہلکاروں کو کھو چکا ہے۔
اس طرح گزشتہ دس سال میں خیبر پختونخواہ بھی دہشت گردی کی اس جنگ میں متعدد پولیس افسراور اہلکار کھو چکا ہے۔ حکومت اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے حوالے سے رابطے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن دیگر عسکریت پسند گروہ اور دہشت گرد ابھی بھی کاررائیوں میں مصروف ہیں۔
موجودہ حالات کاجائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل تو ہے لیکن پولیس کو اس حوالے سے تربیت کا موقع نہیں مل سکا۔
اسی طرح پولیس فورس کو شدت پسندی پر قابو پانے یا شدت پسندوں کا مقابلہ کرنے کیلئے نہ تو برابر کا اسلحہ مل سکا نہ ہی اعصاب شکن ماحول میں کام کرنے کی تربیت دی گئی۔ پولیس اہلکار آج بھی جسمانی تلاشی کیلئے ہاتھوں کا استعمال کرتے ہیں۔ اس عمل کے دوران اُنہیں مشکوک شخص کے انتہائی قریب جانا پڑتا ہے۔ تلاشی لینے کا یہ انداز عام شہری یا چھوٹے موٹے جرائم پیشہ شخص کے حوالے سے تو ٹھیک ہے لیکن دہشت گرد کے حوالے سے نہ صرف ناقص بلکہ غیر ذمہ دار انہ عمل بھی ہے۔
مثال کے طور پر ایک ایسا دہشت گردجس نے خودکش دھماکے کیلئے جیکٹ پہن رکھی ہو۔ اس کی تلاشی لینے کے لئے اہلکار کو اس کے قریب جانا پڑتا ہے۔ اس صورت میں اُسے صورتحال کا علم تبھی ہو پاتا ہے جب ہو بھی دھماکے کی زد میں آکر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اُسے پولیس اہلکار کی کامیابی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ شدت پسندوں کا تو مقصد ہی اہلکاروں کی جان لینا ہے۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ اس صورت حال کا جائزہ لیا جائے اوراس حوالے سے بہتر منصوبہ بندی کی جائے۔
دہشتگردی کے خلاف اب تک سینکڑوں پولیس اہلکار اور فوجی جوان شہادت پا چکے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم صرف افسروں کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہیں جبکہ جونیئر اہلکار کی شہادت اہمیت نہیں رکھتی۔ ہمارے ہاں اخبارات کی شہہ سرخیوں میں بھی افسروں کا نام نمایاں نظر آتا ہے ۔
لیکن اہلکاروں کا ذکر سرسری طور پر ملتا ہے۔ یہ وہ اہلکار ہیں جو وطن کیلئے تاریک راہوں میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے اور اُنہیں کفن کی جگہ گمنامی کی چادر میں دفن کر دیا گیا۔ان میں سے کئی اہلکاروں کے خاندان کو ابھی تک وہ سہولیات نہیں دی گئیں جن کے وہ حق دار ہیں۔ وطن کیلئے جانیں قربان کرنے والا شخص ہمارے لئے برابر اہمیت کا حامل ہونا چاہیے۔
ہم نہ تو اُس سے قربانی کے جذبے کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں اور نہ اسی اُس کی حب الوطنی کو جانچنے کا کوئی پیمانہ موجود ہے۔ یہ عظیم لوگ ہیں جو کم مراعات اور معمولی تنخواہ کے عوض اپنا فرض نبھاتے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اُن کی قربانیوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ جہاں اُن کے افسروں کی قربانیوں کا ذکر ہو اور اُنہیں اعزازات دیئے جائیں وہیں اُن گمنام شہیدوں کا بھی تذکرہ کیاجائے اور اُنہیں بھی خراج تحسین پیش کیا جائے۔ فی الحال یہ ہر محاذ پر آگے لیکن اعزازات کے وقت پیچھے نظر آتے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت وقت کو بھی سوچنا چاہیے۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-27

(1) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان