تازہ ترین : 1
General Raheel Sharif KO Akhri Salut

جنرل راحیل شریف کو الوداعی سیلوٹ

جنرل راحیل شریف کو پاکستان کی عسکری تاریخ میں عوام کی جانب سے جو مقام‘ عزت اور بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی وہ اس سے پہلے شاید ہی کسی آرمی چیف کے حصے میں آئی ہو چنانچہ اس بہادر اور بااصول جنرل نے بڑی محنت سے حاصل کی

طاہر جمیل نورانی:
چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی اپنی ریٹائرمنٹ سے ٹھیک 10 ماہ ماہ قبل دیئے اس بیان پر جس میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے وہ قطعی خواہش مند نہیں مقررہ وقت پر ہی ریٹائر ہونا وہ اپنا اعزاز تصور کرتے ہیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے بیشتر قارئین اور رہنماوٴں نے اپنے سیاسی جذبے سے ہٹ کر کچھ ”زیادہ“ ہی خیرمقدم کیا ہے؟ اس ”زیادہ“ کے پس پردہ کیا عوامل ہیں یہ وہ سوال ہے جو ان لیڈروں کو ہی قوم کو بتانا چاہئے تھا جنرل راحیل شریف چاہتے تو اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان ستمبر اکتوبر میں بھی کر سکتے تھے وہ اگر چاہتے تو یہ اعلان مدت ملازمت ختم ہونے سے ایک ہفتہ قبل بھی کر سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا ایسا کیوں نہیں کیا میرے ایک عسکری تجزیہ کار دوست کا کہنا ہے کہ جنرل راحیل شریف کو پاکستان کی عسکری تاریخ میں عوام کی جانب سے جو مقام‘ عزت اور بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی وہ اس سے پہلے شاید ہی کسی آرمی چیف کے حصے میں آئی ہو چنانچہ اس بہادر اور بااصول جنرل نے بڑی محنت سے حاصل کی اپنی نیک نامی کو محفوظ رکھنے کیلئے اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان مدت ملازمت ختم ہونے سے 10 ماہ پہلے کر دیا تاکہ ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر حالات حاضرہ اور عسکری امور پر بحث مباحثہ کرنے والوں کی ”سینہ گزٹ تجزیا کاریاں“ خود ہی دم توڑ جائیں۔
میرا یہ دوست یہ بھی بتا رہا تھا کہ ہمارے ہاں آرمی چیف جب ریٹائر ہوتے ہیں تو سیاست دانوں کے منہ سے اکثر ان کے حق میں خیرمقدمی کلمات ہی نکلتے ہیں۔ یہ اسلئے کہ ریٹائرڈ جرنیلوں کو ایک مخصوص مدت بعد اپنی سیاسی پارٹیوں میں نمایاں مقام دینے کیلئے ادا کئے ان خیرمقدمی کلمات کا یہی واسطہ دینا پڑتا ہے مگر جنرل راحیل شریف اپنی نوعیت کا واحد ایسا ”چیف“ ہے جس نے اپنی عسکری زندگی کی ہر سمت کو اصولوں پر استوار کیا ہے۔
اس نے ملک و قوم کیلئے جو کچھ کیا یا ابھی کر رہا ہے وہ خیرمقدمی کلمات سے کہیں زیادہ اونچا ہے یہ واقعی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی 63 سالہ سیاسی تاریخ میں عوام اور فوج کی جانب سے جو عزت و احترام اور غیر معمولی مقام جنرل راحیل کو ملا ہے ماضی میں کسی سپہ سالار کے حصے میں نہیں آیا۔ البتہ بعض ایسے میجر جنرلز اور لیفٹیننٹ جنرلز ضرور ہیں جن کی دی گئی قربانیوں کو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔
1965ء کی پاک بھارت جنگ کا آغاز ہو چکا تھا بھارتی افواج میرے شہر سیالکوٹ کے قصبہ چونڈہ تک آ پہنچی تھیں۔ اسلام اور کفر کے مابین لڑی اس گھمسان کی جنگ کی کمانڈ میجر جنرل ٹکا خان اور بریگیڈئر عبدالعلی ملک کر رہے تھے 15 ڈویڑن بزدل بھارتی فوجیوں کو پسپائی کی جانب دھکیل رہی تھی اور دوسری جانب ہم بچے ”ایک ٹیڈی پیسے“ میں ”ایک ٹینک“ خریدنے کے جذبہ سے سرشار ہر گلی‘ محلہ میں پیسے جمع کر رہے تھے پاک فوج کے بہادر سپاہی‘ جونیئر کمشنڈ افسران اور کمشنڈ افسران دشمن کی جارحیت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن چکے تھے۔
فوجی جوان اپنے جسموں میں بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں کی یلغار کو تباہ و برباد کر رہے تھے جذبہ شہادت اور کلمہ حق کا ہر طرف ورد جاری تھا ملکہ ترنم نورجہاں کی آواز میں گایا ترانہ ”میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں“ پاک فوج کے جوانوں کے جذبہ وطن کو جذبہ شہادت پر مجبور کر رہا تھا۔ بچے‘ عورتیں‘ جوان‘ بوڑھے افواج پاکستان کی سربلندی اور فتح و نصرت کی دعائیں مانگ رہے تھے۔
میں سی ٹی آئی سکول میں زیرتعلیم تھا اور سکول کے قریب ہی جنرل ٹکا خان کا فوجی کیمپ تھا۔ نئی نئی باسکٹ بال کھیلنا شروع کی تھی اور میری خوش قسمتی کہ اس کھیل کی وجہ سے ہی ایک روز جنرل ٹکا خان کے کیمپ تک رسائی ہو گئی۔ حالت جنگ میں کسی آرمی کمانڈر سے ہاتھ ملانا میرے لئے بڑا اعزاز تھا۔ اہل سیالکوٹ جنرل ٹکا کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے اس وقت بے قرار پائے جب ہماری فوج کے بہادر جوانوں نے بھارتی سورماوٴں کو چونڈہ سے بھاگنے پر مجبور کر دیا یہ منظر دیدنی تھا کسی جرنیل کی اتنی عزت و توقیر اور افواج پاکستان کے غازیوں کا جس طرح والہانہ استقبال ہوا میرے لئے وہ پہلا واقعہ تھا مگر نہ جانے آج کیوں ایسا لگا کہ جنرل راحیل شریف کے پیشگی ریٹائرمنٹ اعلان نے پوری قوم کو غمزدہ کر دیا ہے۔
فوج میں بھی ریٹائر ہونا ہی پڑتا ہے۔ یہ معمول کا حصہ ہے۔ جرنیل پہلے بھی ریٹائر ہوتے رہے۔ آئندہ بھی ہونگے مگر جنرل راحیل کی سپہ سالاری کی مثال شاید تاریخ نہ مل سکے۔ جنرل راحیل شریف کا فوجی قد کاٹھ تو اس دن ہی بلندیوں تک پہنچ گیا تھا جب برطانوی جریدے ”اکانومسٹ“ نے دہشت گردوں کے خاتمے کا تمام تر سہرا ان کے سر پر ڈالا۔ قد ان کا اس روز بھی بڑھا جب ”نیشنل ایکشن پلان“ تشکیل دے کر انہوں نے حکومت اور سیاست دانوں کا سر بلند کر دیا۔
اسی طرح جنرل راحیل نے اپنے اصولوں کا قد اس روز بڑھایا جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ کراچی سمیت ملک بھر میں لوگ اس نعرے کو ”قدم بڑھاوٴ راحیل شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں“ کو بینرز میں تبدیل کر چکے ہیں تو انہوں نے بینر فوراً ہٹانے کی ہدایات جاری کر دیں۔ انہوں نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ کراچی میں امن و پیار واپس لانے کیلئے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
قوم اور سیاست دان انہیں دعائیں اور ان کی ملکی خدمات پر انہیں بھرپور خراج تحسین بھی پیش کر رہے ہیں مگر سوال یہاں اب یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ‘ رشوت کے قلع قمع اور ملک کی دولت لوٹنے والوں سے حساب اب کون لے گا۔ افواج پاکستان کے 7 سینئر ترین جرنیلوں میں سے چیف آف سٹاف کا انتخاب بھی ہو جائے گا۔ یہ فیصلہ تو وزیراعظم محمد نوازشریف کو ہی کرنا ہے کیونکہ یہ بھی تو ایک باریک نقطہ ہے کہ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کا اعلان آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بذریعہ ”ٹویٹر“ پیغام اس وقت دیا جب وزیراعظم نوازشریف یہاں لندن میں موسم سرما سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ سوال تو اٹھے گا کہ ایسا آخر کیوں ہوا۔
وقت اشاعت : 2016-02-02

(1) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں