بند کریں
بدھ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گیس، سی این جی اور اب بجلی کی لوڈ شیڈنگ
سرکاری اداروں کی عدم توجہ اور عوامی ترقی کے منصوبوں کی اہمیت نہ دینے کے باعث 2004ء میں شروع کیا گیا 120 میگاواٹ کا تونسہ ہائیڈرو پاور منصوبہ 10 برسوں سے کاغذوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کر رہا ہے
مصنف : سید بدر سعید
خالد یزدانی:
وطن عزیز ایک طرف دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہے تو دوسری طرف حکومت عوامی احتجاج کا سامنا کر رہی ہے۔ اچانک پٹرول کی ترسیل کم ہوتی ہے تو پنجاب کے طول و عرض میں بحران کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ پٹرول حاصل کرنے کے لئے لوگوں کی طویل قطاریں پلاسٹک کی بوتلیں، گھروں میں پینے کے پانی کے واٹر کولر تک اٹھائے نظر آئے، خدا خدا کر کے یہ بحران ختم ہواکیونکہ پنجاب حکومت نے فوری طور پر سی این جی سٹیشن میں گیس کی مسلسل فراہمی کے اقدامات کر کے ٹرانسپورٹ مالکان کی مشکلات کو کم کردیں جبکہ گیس کے پریشر میں کمی سے گھروں کے چولہے تک ٹھنڈے کردیئے عوام نے سڑکوں احتجاج کرنا شروع کر دیا، جس پر سوئی نادرن کمپنی نے صبح اور شام کے مقرر اوقات میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے اب صورت حال یہ ہے کہ کسی علاقے میں مقررہ اوقات میں گیس کی فراہمی ہے جبکہ کسی جگہ سارا دن گیس میسر نہیں۔

سردی کی شدت سے ڈیموں میں پانی کی کمی کی وجہ سے کئی ٹرمینل بندد کر نے پڑے اسی طرح فرانس آئل کی سپلائی سے مظفر گڑھ تھر مل پاور پلانٹ کو فرانس آئل کی سپلائی میں کمی کی وجہ اسکے چار یونٹ بند کر نے پڑے یوں پنجاب کے شہروں اور قصبوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھنے لگا۔ کئی شہروں میں آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین کے زیر اہتمام ورکرز نے محکمہ بجلی کی مجوزہ نجکاری کے خلاف احتجاجی جلسے، جلوس نکال کر ”یوم احتجاج“ منایا۔
محنت کشوں نے بختیار لیبر ہال لاہور سے جلوس نکال کر لاہور پریس کلب چوک میں احتجاجی ریلی منعقد کی۔ خورشید احمد نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا وہ محکمہ بجلی کو ورلڈبینک کے دباوٴ پر مجوزہ نجکاری پر عمل کرنے کی بجائے اس کی کاکردگی میں اضافہ کیلئے اصلاحات کی نفاذ کریں تاکہ عوام کو سستی بجلی فراہم ہو سکے۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی واپڈا سے ہر روز 650 میگاواٹ سستی بجلی حاصل کرنے کے باوجود اپنے تھرمل پاور ہاوٴسز کیوں بند رکھے ہوئے ہے۔
یہ کمپنی حکومت پاکستان سے ہر سال اربوں روپے کی مالی مدد حاصل کر نے کے باوجود کیوں بجلی سستی نہیں کرسکی؟ جبکہ ادارہ واپڈا نے جگہ جگہ بجلی پہنچانے کی ذمہ داری پوری کی۔ سرکاری اداروں کی عدم توجہ اور عوامی ترقی کے منصوبوں کی اہمیت نہ دینے کے باعث 2004ء میں شروع کیا گیا 120 میگاواٹ کا تونسہ ہائیڈرو پاور منصوبہ 10 برسوں سے کاغذوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کر رہا ہے۔
تونسہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے 4 سے 6 روپے فی یونٹ تک 120میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ یہ منصوبہ وزارت پانی و بجلی، واپڈا، پنجاب محکمہ انرجی، پنجاب پاور ڈویلپمنٹ بورڈ، پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کے دفاتر میں 10 برسوں سے سفر کر رہا ہے۔ محکمہ آب پاشی پنجاب کے مطابق تو نسہ بیراج کی بحالی کا کام ہونا باقی ہے۔ اس لئے یہ منصوبہ نہیں شروع ہو سکتا۔
2004ء سے 2008ء تک اس منصوبے پر کام کرنے کی طرف کسی بھی سرکاری محکمہ نے توجہ نہ دی، 2008ء دسمبر میں اس منصوبے کے بارے میں اخبارات میں دوبارہ اشہارات دئیے گئے جس پر دوکمپنیوں نے منصوبے پر کام کرنے کے لئے خواہش کا اظہار کی۔جب حتمی منظوری کے لئے سمری وزیراعلیٰ پنجاب کے پاس گئی تو انہوں نے احکامات جاری کئے کہ اس منصوبے کو خالصتاً نجی سیکٹر کی بجائے پبلک پرائیوٹ سیکٹر کے اشتراک سے شروع کریں گے جس کے بعد پنجاب ڈویلپمنٹ کمپنی کو کہا گیا اس منصوبے کا پی سی ون دوبارہ بنایا جائے مگر اس کمپنی نے کام شروع نہیں کیا جس کے باعث 2008ء سے 2010ء تک منصوبے پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔
دسمبر 2010ء میں پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی نے دوبارہ اشتہار دیا تو چین کی کمپنی کو منتخب کر لیا گیا جنہوں نے 2011ء میں منصوبے کی فریبلٹی سٹڈی مکمل کرلی۔ معاہدے میں طے پایا گو چین کی کمپنی 80فیصد حکومت ادا کرے گی۔ ابھی یہ معاملات چل ہی رہے تھے۔ کہ پی پی ڈی سی ایل میں ایک نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی ہوگئی جنہوں نے آتے ہی منصوبے کا اشتہار ہی غلط قراردیا بعدازاں وزیراطلاعات سمیت حکومتی قانون دانوں کی خصوصی کمیٹی نے بھی باضابطہ اشتہاری عمل کو غیر قانونی قرار دیا تاہم اس سے قبل معاہدہ چین کی کمپنی اور پنجاب کے محکمہ کے درمیان طے پا چکا تھا تو اس کی شرائط میں شامل تھا معاہدے کے تحت ہمیں کسی بھی لمحے ڈس کوالیفائی کیا گیا تو فزیبلٹی رپورٹ کی تیاری پر آنے والے تمام اخراجات حکومت ادا رے گی۔
دسمبر 2012ء سے 2014ء تک اس منصوبے پر کوئی کام نہیں ہوا، اب پھر کوئی ایک بار حکومت نے فیصلہ کیا ہے اس منصوبے کو واپڈا سے مکمل کرایا جائے گا۔ پاکستان کے نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا ہے تھر میں کوئلے کے ذخائر سے بجلی بنا کر دکھادیں گے۔
2001-2000 میں چین نے کوئلہ نکالنے کی کوشش کی مگر راستے میں پانی موجود تھاانہوں نے کہا کوئلہ 175 سے 180 میٹر کی گہرائی میں ہے۔
یہ پانی کھارا ہے کھیتی باڑی کے قابل استعمال ہے۔ اس پانی کے نیچے چکنی مٹی ہے اس چکنی مٹی کے نیچے پتھر اور 32,30 میٹر مزید گہرائی میں پانی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں صرف 2کلو میٹر *2کلو میٹر کے ٹکڑے سے 150 کیوسک پانی نکلے گا اور الگ نہر بن جائے گی۔ اس پانی کے نیچے 40 میٹر پتھروں کو مزید چیریں گے تو کوئلہ شروع ہوگا۔ اس کوئلے کو نکالنے کیلئے 600 فٹ کی گہرائی تک پختہ سرنگ تیار کرنا ہوگی۔
یہ سرنگ کنکریٹ کی ہوگی تاکہ پانی اندر داخل نہ ہوسکے۔ ڈیڑھ کلو میٹر سے زیادہ لمبی اس سرنگ کے نیچے آٹو میٹک مشینیں لگائیں گی تو کوئلہ نکال کر پھر اوپر پہنچانے کا معاملہ شروع ہوگا، جبکہ ہم کوئلہ نکالنے کی بجائے زیر زمین اسے جلا کر گیس بنا کر اسے نکال کر جنریٹر چلا کر بجلی بنائیں گے۔
تاحال گیس کی ترسیل میں کمی اورلوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، اگرچہ موسم کی شدت میں کمی کے بعد صورت حال میں بھی بتدریج بہتری آنا شروع ہو جائے گی مگر یہ بھی حقیقت کہ حکومت ایک بحران سے نکل پانی ہے کہ دوسرا بحران سر اٹھانے لگتا ہے۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ انرجی سیکٹر میں انقلابی اقدامات وقت کا تقاضہ اور موجودہ دور میں ایسے منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام کر کے عوام کو ریلیف دینا ہوگا جتنا تیزی سے ذرائع آمدورفت کے سلسلے میں ہو رہے ہیں تاکہ آنے والے موسم گرما میں عوام کو مشکلات سامنا نہ کرنا پڑے۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-31

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان