تازہ ترین : 1
Fouji Adaltoon K Qayyam Bare Tarmeemi Bill

فوجی عدالتوں کے قیام کے بارے میں ترمیمی بل

فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کیلئے نیا قانون متعارف کرانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے تحت ججوں اور گواہوں کی شناخت مخفی رکھی جائے گی ۔ فوجی عدالتوں کے ترمیمی بل پر کام شروع نہیں ہوسکا۔ اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف علی نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام بارے حکومت نے کوئی یوٹرن نہیں لیا

ادیب جاودانی:
فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کیلئے نیا قانون متعارف کرانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے تحت ججوں اور گواہوں کی شناخت مخفی رکھی جائے گی ۔ فوجی عدالتوں کے ترمیمی بل پر کام شروع نہیں ہوسکا۔ اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف علی نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام بارے حکومت نے کوئی یوٹرن نہیں لیا۔
سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بغیر فوجی عدالتوں کے قیام کیلئے ترمیمی بل کے سلسلے میں وفاقی وزارت قانون و انصاف کو قانون سازی کیلئے باضابطہ احکامات نہیں مل سکے۔ حکومت نے مشاورت کا عمل تیز کرنے کیلئے لائحہ عمل تیار کرلیا ہے، اگلے ہفتے مشاورت کے عمل کو مکمل کرنے کیلئے کوشش کی جائے گی۔ اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے وفاقی حکومت نے اندرون خانہ قائد حزب اختلاف سید خورشیدشاہ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کی حمایت سے ترمیمی بل کی تیاری کا کام شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ وزارت نے اس سے قبل کچھ آؤٹ لائن تیار کر رکھی تھیں مگر وفاقی حکومت کی جانب سے فوجی عدالتوں میں توسیع نہ کیے جانے کے بعد یہ آؤٹ لائن فائل میں بند کرکے رکھ دی گئی تھیں۔ اب جبکہ دوبارہ سے سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے تو اس لئے وزارت نے بھی ان آؤٹ لائن پر مزید کام کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس بارے حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کی جانب سے احکامات کی وصولی کے بعد ہی کیا جائے گا۔
قارئین کرام! پشاور میں سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد دو سال کیلئے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا مقصد دہشت گردوں کو جلد سے جلد کیفرکردار تک پہنچانا تھا۔ اگرچہ فوجی عدالتوں پر مختلف نوعیت کے اعتراضات اٹھائے جاتے رہے جو اپنی جگہ لیکن اس سے قطع نظر فوجی عدالتوں نے بعض رکاوٹوں کے باوجود احسن طریقے سے مقدمات نمٹانے کی ضرورت پوری کی۔
تمام تر تنقید سے قطع نظر اس امر کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ خصوصی حالات میں خصوصی نوعیت کا یہ اقدام بامر مجبوری غلط نہ تھا۔ فوجی عدالتوں سے سزا پانے والوں میں بلاامتیاز ایسے عناصر شامل تھے جو سنگین نوعیت کے واقعات میں ملوث پائے گئے۔ فوجی عدالتوں کی جانب سے ٹرائل کے دوران جن افراد کو سزائے موت اور عمر قید دی گئی‘ ان کا تعلق القاعدہ ، تحریک طالبان پاکستان، جماعت الحرار، توحید جہاد گروپ، جیش محمد، حرکت الجہاد اسلامی، لشکر جھنگوی العالمی، لشکر اسلام اور سپاہ صحابہ سے تھا۔
فوجی عدالتوں نے جن اہم اور معروف مقدمات کا ٹرائل کیا ان میں پشاور میں آرمی پبلک سکول حملہ، صفورہ بس حملہ، سماجی کارکن سبین محمود کا قتل، معروف صحافی رضاخان رومی پر حملہ، بنوں کی جیل پر ہونے والا حملہ، راولپنڈی کی پریڈلین مسجد میں بم دھماکہ ، ناگا پربت بیس کیمپ پر غیر ملکیوں کا قتل، مستونگ میں اہل تشیع کمیونٹی پر ہونے والا حملہ، اورکزئی ایجنسی میں فوجی ہیلی کاپٹر پر حملہ، پشاور میں پی آئی اے کے طیارے پر حملہ، میریٹ ہوٹل دھماکہ، کراچی ایئرپورٹ حملہ ،فرقہ ورانہ دہشت گردی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں، پولیو کی ٹیموں اور تعلیمی اداروں میں ہونے والے حملے شامل ہیں۔
اب جبکہ فوجی عدالتیں اپنی مدت میں توسیع نہ ملنے پر نہیں رہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا جن مقاصد کے حصول کیلئے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں وہ پورے ہوئے۔ کیا پولیس اور نظام عدل میں جو اصلاحات لائی جاتی تھیں ان دو سالوں کے دوران حکومت اور اراکین پارلیمنٹ اور نقادوں ونکتہ چینوں نے کوئی ایسی متبادل راہ تلاش کی کہ فوجی عدالتوں کے خاتمے کے بعد دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی خلا نہ آئے۔
ان سوالات کا جواب ایک بڑے نفی میں ہے۔ خیال رہے کہ دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر دہشت گردی کے حملے کے بعد 6جنوری 2015ء کو آئین میں 21 ویں ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ 2015ء (ترمیمی) کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد فوجی عدالتوں کو خصوصی اختیارات دیئے گئے تھے جس کا مقصد ان سول افراد کا ٹرائل کرنا تھا جن پر دہشت گردی کے الزامات تھے۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کیئے متفقہ طور پر ووٹ دیئے تھے۔ اس کے باوجود کہ انہیں اس بات کا خطرہ لاحق تھا کہ یہ عدالتیں مشتبہ افراد کے خلاف ٹرائل چلانے کے ساتھ جمہوریت کو کمزور بھی کرسکتی ہیں۔ یاد رہے کہ نہ تو حکومت کی جانب سے کوئی ایسا بیان سامنے آیا ہے جس میں سویلینز کے خلاف ٹرائل کیلئے قائم کی جانے والی خصوصی عدالتوں کے اختیارات کے اختتام کے حوالے سے کچھ کہا گیا ہو۔
وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ مستقبل میں دہشت گردی کے مقدمات ٹرائل کیلئے انسداد دہشت گردی کی متعلقہ عدالتوں کو بھیجیں گے جنہیں ایسے مقدمات کے ٹرائل کا مینڈیٹ حاصل ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دو سالوں کے درمیان آخر وہ کیا مشکلات اور مصلحتیں تھیں جو انسداد دہشت گردی قوانین، قوانین شہادت پولیس کا نظام تفتیش بہتر بنانے اور ججوں اور وکلاء کی شناخت کو خفیہ رکھنے میں دور نہ ہو سکیں جس پر اب حکومت غور کرنے جارہی ہے اور ممکن ہے حکومت مدت اقتدار کا آخری سال ان پر غوروخوض میں گزارے اور انسداد دہشت گردی کے سخت قوانین نہ بن پائیں۔
یہ بدگمانی نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں تنقید تو بہت کی جاتی ہے فوجی اور خصوصی عدالتوں کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مگر ایسے قوانین بنائے جانے کی سعی نہیں کی جاتی جو حالات کا تقاضا اور وقت کی ضرورت ہوں۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ ہی کو لے لیجئے اسکے غیر موثر بننے کی ایک بڑی وجہ اس قانون کے تحت غیر حقیقی مقدمات کا اندراج بھی ہے۔
اگر اس ایکٹ کے تحت حقیقی معنوں میں ہی مقدمات کا اندراج کرکے بروقت فیصلے کیے جاتے، مستزاد ان دو سالوں کے دوران پارلیمنٹ سے مناسب قانون سازی کی جاتی اور فوجی عدالتوں کے اختتام پر ایک آئینی متبادل راستہ نکالا جاتا تو یہ سوال نہ اٹھتا۔ حکومت کو چاہیے کہ جس قانون کا مسودہ تیار کیا جارہا ہے اسے جلد سے جلد مکمل کرکے ایوان سے منظوری لے کر نافذ کیا جائے تاکہ انسداد دہشت گردی کے مروجہ قوانین میں موجود سقم دور ہو سکیں اور ملوث عناصر کو سزا دی جاسکے۔ حکومت کو فوجی عدالتوں کے قیام کے ساتھ ساتھ موجودہ عدالتوں کی ساکھ کو بھی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
وقت اشاعت : 2017-01-19

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں